محفوظاتِ تحاریر
اردو میں بلاگ کس کے لیے لکھیں؟
ہمارے ایک نئے اردو بلاگر خرم شہزاد خرم نےمحفل پر ایک پوسٹ میں گلہ کیا ہے کہ پرانے بلاگرز نئے بلاگروں کے بلاگ پڑھتے نہیں اور تبصرے نہیں کرتے۔ بلکہ آپس میں ہی تو میرا حاجی بگو اور میں تیرا حاجی بگویم کرتے رہتے ہیں۔
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام
محفوظاتِ تحاریر
اگلے چھ ماہ
مورخہ سات مارچ سے میرے سمسٹر فائنل ٹیسٹ ہورہے ہیں جو چودہ مارچ کو ختم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد میں ایک بار پھر ویلا مصروف ہوجاؤں گا۔ بی کام کرنے کے بعد پتا ہی نہیں لگا ڈیڑھ سال گزر گیا۔ میرے ہم جماعت اس وقت اپنا ایم بی اے اور ایم کام مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ جبکہ میں ابھی تک لنڈورا ہی پھر رہا ہوں۔
اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔ میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔
اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔ ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟
ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔
بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔
میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔
اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔
اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔
اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
محفوظاتِ تحاریر
ایک بھاگا ہوا بچہ
پانچویں جماعت پاس کی تو والدین نے بڑے دلار سے مدرسے میں داخل کروا دیا کہ بچہ قرآن حفظ کرلے تو سات پشتیں بخشی جائیں گی۔ بچہ بھی بہت خوش تھا کہ قرآن حفظ کرنا ہے۔ بڑے اہتمام سے موٹی مشین سے ٹنڈ کروائی اور خوشی خوشی مدرسے کو گیا۔ قاری جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت مارتا ہے نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ باتیں کرنے کے بعد داخل کرلیا۔ وقت دھیرے دھیرے گذرنے لگا۔
کوئی اڑھائی ماہ میں نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھ لیا۔ قاعدے کی گردان ہوئی۔ ایک نگران نے سنا اور اسے پاس کرکے اگلے درجے میں بھیج دیا گیا۔ اس کو سو روپے لانے کو کہا گیا جن کے عوض اسے آخر پانچ سپاروں کا سیٹ دے دیا گیا جو اکٹھے جلد کئے ہوئے تھے۔ آخری سپارہ حفظ کیا گیا۔ اس کی ترتیب ذرا مختلف تھی تاکہ نیا بچہ آسانی سے حفظ کرسکے۔ چناچہ آسان سے مشکل کی طرف والی اس ترتیب کو قرآن کی ترتیب کے مطابق کیا گیا۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ کوئی ایک سات آٹھ ماہ میں دو سپارے ختم ہوچکے تھے جب اسے پہلا دورہ پڑا۔ میں نے پڑھنے نہیں جانا۔ ایک دن گھر واپسی پر وہ اڑ گیا۔ مدرسے کی ٹائمنگ صبح فجر سے رات عشاء تک تھی۔ آٹھ بجے ناشتے کی چھٹی آدھ گھنٹا۔ دوپہر ساڑھے بارہ سے ظہر اور شام عصر سے مغرب تک کی رخصت ملا کرتی تھی۔ لیکن بچے کو لگتا تھا جیسے اسے قید کردیا گیا ہے۔ سارا سارا دن دونواز بیٹھ کر قرآن کو رٹنا اوررات کو آکر سوجانا۔۔۔اس اڑی کا قاری کو پتا چلا تو اس نے پہلے کرسی لگوایا۔ پھر ٹانگیں اوپر کروا کر تشریف کی مزاج پرسی کی۔ بچے کو فورًا یاد آگیا کہ یہ سب شیطان کی کارستانی تھی ورنہ وہ تو اب بھی پڑھنے کو تیار ہے۔۔
بچہ سیدھا ہوگیا اور پڑھائی پھر سے چلنے لگی۔ کچھ مزید عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھر وہی بخار چڑھا تو قاری نے جعمرات اور جعمے کی اکلوتی ہفتہ وار چھٹی بند کردی۔ دو ہفتے چھٹی بند رہی تو بچہ پھر راہ راست پر آگیا۔ اس دوران قاری نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے زمین خرید لی اور پہلا مدرسہ جہاں وہ تنخواہ دار تھا چھوڑ دیا۔ اکثر طلباء اس کے ساتھ نئے مدرسے چلے گئے کچھ پرانے مدرسے میں رہ گئے۔ کچھ عرصہ پھر سکون سے گزرا اور پھر بچے کو دورہ پڑا۔ اب کے یہ بہت شدید تھا جمعے کے دن بچہ ریل پر بیٹھ کر اپنی نانی کے پاس پہنچ گیا۔ آخر گھر والے اسے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے لیکن سکون عارضی ثابت ہوا۔ نیا مدرسہ عارضی سی عمارت تھی۔ چناچہ بچہ پھر سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ بھاگ کر سیدھا اسٹیشن پہنچ گیا لیکن گھر والوں کے پتا چل گیا اور اسٹیشن سے اسے پکڑ لیا گیا۔ گھر تک اس کی ٹھکائی ہوتی رہی۔ آخر گھر والوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مدرسے سے ہٹا لیا گیا۔ بچے کی رٹ تھی کہ اور جگہ داخل کروا دیں یہاں نہیں پڑھوں گا۔۔۔آخر اسے ایک اور شہر میں اقامتی درسگاہ میں داخل کروادیا گیا۔ لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہاں سے بھاگ کر پھر گھر آگیا۔ اب اس کی رٹ تھی کہ میں نے قرآن حفظ ہی نہیں کرنا۔ گھر والوں نے بہتیرا سمجھایا لیکن اس کے بھیجے میں بات نہ آسکی۔۔چناچہ اسے چھٹی میں داخل کروا دیا گیا۔ ذہین تھا آدھا سال ضائع ہونے کے باوجود دوسرے بچوں سے آگے نکل گیا۔۔۔
وہ بچہ آج بی کام ہے، لسانیات میں بہت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اس کی محبوبائیں ہیں۔۔۔ وہ بچہ یعنی منکہ مسمی شاکر عزیز آپ کے سامنے اپنی زندگی کا ایک تلخ پہلو کھول رہا ہے۔ شاید کتھارسس کے لیے یا پھر اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔۔ زندگی کا وہ ڈیڑھ سال میری شخصیت سازی میں بہت حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت کا احساس اب تک میرے ذہن سے نہیں مٹتا کہ خادم القرآن کہلوانے والے اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔ عجیب عجیب سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔ شاکر شاید آج حافظ شاکر ہوتا اگر وہ قاری اتنا مارنے والا نہ ہوتا، یا وہ شیڈیول اتنا ٹف نا ہوتا جو پڑھائی کی بجائے قید لگتا تھا۔۔یا شاید اس کی نیت ہی خراب تھی۔۔۔لیکن وہ ڈیڑھ سال اگر ضائع نہ ہوتا میں کہیں اور ہوتا۔۔۔۔وہ ڈیڑھ سال بس ایسے ہی ماضی کا وہ ورق بن گیا جسے الٹتے ہوئے بہت سی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔اور احساس ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی نعمت سے محروم رہ گیا۔۔۔قرآن جسے میرے سینے میں نقش ہونا تھا نہ ہوسکا۔۔۔جو چند سپارے یاد تھے وہ بھی آہستہ آہستہ محو یادداشت ہوگئے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قرآن یاد کرنے کو تم ایسے پاؤ گے جیسے اونٹ ہے جس کے گلے میں رسی ڈالی گئی ہو اور وہ اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرے۔۔ قرآن یاد کرنا اور اس کو یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کے نصیب میں تھا ہی نہیں شاید۔۔آج جب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک نہیں کئی خطائیں کی تھیں۔۔۔اللہ کی کتاب کو یاد نہ کرسکا جو یاد تھی اسے بھلا ڈالا تو میری زبان پر استغر اللہ الذی لا الہ الا ہوا الحی القیوم و اتوب الیہ کا ورد جاری ہوجاتا ہے۔ میرا مالک مجھے معاف کرے میں بہت گناہگار ہوں۔۔
یہاں لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میں نے لکھ ڈالا، اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں گے۔
وسلام
محفوظاتِ تحاریر
زبان: کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!
لسانیات میں ہمیں دو بہت ہی اہم تصورات سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر لسانیات اور خصوصًا اطلاقی لسانیات (Applied Linguistics) میں زیادہ تر کام انگریزوں کا ہے یا ایسے لوگوں کا جو انگریز نہیں لیکن انگریزی بول سکتے ہیں اور انھوں نے یہ کام انگریزی کے نکتہ نظر سے کیا۔ اطلاقی لسانیات کی بات چلی تو بتاتا چلوں زبان کو سیکھانے کے سلسلے میں ہونے والے تمام اعمال اسی شعبے میں آتے ہیں۔ اچھا لینگوئج ٹیچر اطلاقی لسانیات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے جیسے سکھانے کے نئے طریقے وغیرہ۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو “پابند” ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ “معیاری” اور “غیر معیاری” زبان کے بارے میں ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی “آبائی” زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں “کیا ہونا چاہیے”۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو “بیان” کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ “لاپرواہ” نہیں بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ کا ماخذ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ مڈہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاءکی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔
آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میںدی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیںکہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ “ایسے ہوتا ہے”۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔
محفوظاتِ تحاریر
مونو (Mono) میری نظر سے
منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے “قابل پڑھائی” کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔![]()
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔
محفوظاتِ تحاریر
مونو(Mono): مونو کے ساتھ میں؟ چہ معنی دارد
بندہ کس کو دوش دے۔ اردو محفل کے لوگوں کو جنھوں نے میرا اتنا دماغ خراب کردیا کہ میرے جیسا سیدھا سادھا بندہ جو زیادہ زیادہ ایم بی اے کرکے کسی فرم میں چھوٹے موٹے عہدے پر لگ جاتا، کچھ سال بعد ٹنڈ ہوجاتی اور صاحب توند ہوجاتا۔ ایک بیوی مع چند بچوں کے معرض وجود میں آجاتی اور پھر فوت ہوجاتا۔ چند ایک لوگ جانتے کہ فلانا تھا اور چنگا تھا فوت ہوگیا۔
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی “کامی” کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے “گوڑھے” پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی “گھنڈیاں” ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔
محفوظاتِ تحاریر
دنیا بھی آخرت بھی :D
فری رائس ویب سائٹ پر جائیں۔ اپنا انگریزی کا ذخیرہ الفاظ بڑھائیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ ایک لفظ آپ کے سامنے ہے اور اس کے کچھ ممکنہ جوابات نیچے ہیں۔ جواب پر کلک کریں ٹھیک ہے تو مبارک ہو غلط ہے تو کوئی بات نہیں آپ کو ایک نئے لفظ کا مطلب پتا چل گیا۔ لیکن اتنا ہی نہیں آپ کو اس کے ساتھ ساتھ ہر صحیح جواب پر فری رائس اقوام متحدہ کو دس دانے چاول دان کرتی ہے تاکہ اسے انھیں امدادی پروگراموں میں استعمال کیا جاسکے۔ کہتے ہیں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ یہاں بھی دانہ دانہ کرکے بوری ہوہی جائے گی اور لفظ لفظ کرکے “لغت”۔۔
انجوائے کیجیے۔
محفوظاتِ تحاریر
دوسال
میرے بلاگ کی پہلی پوسٹ پر 9 اکتوبر 2005 کی تاریخ درج ہے. بلاگ سپاٹ پر میں نے اکتوبر 2005 کے زلزلے کے ایک دن بعد پہلی پوسٹ لکھی تھی۔ اس کے بعد کبھی لکھا کبھی نہ لکھا اور پھر اسے ورڈپریس پر منتقل کرلیا۔ دوسال۔۔۔
پتا نہیں ان دوسالوں میں مَیں نے کچھ اچھا کام بھی کیا ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے اتنا احساس ہے کہ اردو بلاگنگ نے مجھے شعور بخشا۔ میں آج اگر بلاگنگ کرتا ہوں، یا ویب کے بارے میں میرے پاس کچھ علم ہے تو یہ میرے ان احباب کی کرم فرمائی ہے جو اردو محفل پر اور اردو بلاگنگ کی دنیا میں موجود ہیں۔
ان سب کا شکریہ جنھوں نے مجھے بلاگ شروع کرنے میں مدد دی، قدیر رانا، نبیل نقوی، زکریا اجمل اور محفل کے سارے دوست۔ ان سب کا شکریہ جن کے تبصروں اور حوصلہ افزائی نے مجھے مہمیز کیا کہ میں بھی لکھ سکتا ہوں۔
محفوظاتِ تحاریر
تھیم میں ورڈپریس ٹیگ سپورٹ
آج ورڈپریس والوں کو اپنا ورژن 2٫3 جاری کرنا تھا لیکن جانے کیوں نئے لوگوں کی آمد کا راگ الاپا جارہا ہے لیکن نیا ورژن نہیں جاری کیا گیا۔ خیر ہم نے تو صبح ہی اشاعتی امیدوار نمبر ایک یعنی آر سی ون پر اپنا بلاگ اپگریڈ کرلیا تھا اور تھیم میں دو پی ایچ پی فنکشن ڈال لیے تھے۔ آپ بھی یہ کرلیں۔ اگر ڈویلپمنٹ ورژن میں پڑ کر بلاگ داؤ پر لگانے کا موڈ نہیں تو ایک آدھ دن تک مستحکم اشاعت کا انتظار کریں تب تک اپنے تھیم میں یہ دو فنکشن شامل کرلیں۔ ایک فنکشن آپ کو انڈیکس اور سنگل پوسٹ پی ایچ پی میں شامل کرنا پڑے گا تاکہ پوسٹ کے میٹا میں ٹیگز بھی شامل ہوجائیں اور دوسرا ایک طرف سائیڈ بار یا نیچے فوٹر کے قریب شامل کرنا ہوگا تاکہ ٹیگز کا جھگھٹا (Tag Cloud) بھی نظر آسکے۔
تو اپنے تھیم کی مین انڈیکس ٹیمپلیٹ فائل کو کھولیں۔ اس میں یہ والا کوڈ تلاش کریں۔
َ
<?php while( have_posts() ) : the_post(); ?>
<div class="post" id="post-<?php the_ID(); ?>">
<h2><a href="<?php the_permalink() ?>" rel="bookmark" title="Permanent Link to <?php the_title(); ?>">
<?php the_title(); ?></a></h2>
<?php the_category( ', ' ); ?> <?php the_author(); ?> <?php the_time('F jS, Y'); ?>
<?php edit_post_link('Edit',' ',''); ?> <br/> <?php comments_popup_link('No Comments', '1 Comment', '% Comments'); ?>
<?php the_content(); ?>
</div>
<?php endwhile; ?>
ورڈپریس والے اسے لوپ کہتے ہیں۔ اس میں پوسٹ کے اوپر نظر آنے والی معلومات جیسے تاریخ وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ آپ اس میں یہ فنکش بھی شامل کردیں تو انڈیکس کے تحت نظر آنے والی تمام تحاریر میں ٹیگ بھی نظر آئیں گے۔
<?php the_tags(‘before’, ’separator’, ‘after’); ?>
یہ ٹیگ شامل کرنے کا ایک سٹائل ہے۔ مزید سٹائل یہ ہوسکتے ہیں۔
ہر ٹیگ نئی لائن میں:
<?php the_tags(‘Tags:’, ‘,’, ‘<br />’); ?>
تیر کے ساتھ الگ کئے گئے ٹیگز
<?php the_tags('Social tagging: ',' > '); ?>
وغیرہ وغیرہ۔ پسندیہدہ کوڈ کو آپ کونٹنیٹ فنکشن کے اوپر یا نیچے جہاں چاہیں شامل کردیں۔ ذاتی طور پر میں نے انھیں نیچے ہی شامل کیا ہے چونکہ یہ انگریزی میں ہونگے زیادہ تر۔ اگلی بات ہے ٹیگ جمگھٹے کی اس کو آپ سائیڈ بار میں شامل کردیں۔ سادہ سا کوڈ یہ ہوسکتا ہے۔
<li>
<h2>Popular Tags</h2>
<ul>
<?php wp_tag_cloud(’smallest=8&largest=22′); ?>
</ul>
</li>



