آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

ایچ ای سی یتیم ہوگیا

October 11th, 2008بذریعہ دوست

مشرف کی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف ہو لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خودمختاری دے کر اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کو اس کا چئیر مین بنا کر اس نے اچھا کام کیا تھا۔ آٹھ سال تک اس ادارے کے بجٹ میں کٹوتی نہیں ہوئی، ہونے لگی تو مشرف نے دوسرے ذرائع سے پوری کروائی۔ لیکن اب ڈاکٹر صاحب مستعفی ہوگئے ہیں اور کوئی لغاری صاحب اس کے چئرمین بن گئے ہیں۔ اب اس ادارے کا مستقبل بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسا ہی ہوگا۔ بجٹ میں کٹوتیاں پہلے ہی جاری ہیں جو مزید بھی جاری رہیں گی۔

اس پر کئی اعتراضات بھی تھے کہ اعلی تعلیم پر توجہ دے کر بنیادی تعلیم کو نظر انداز کردیا گیا۔ فنڈز گویا لٹائے گئے۔ لیکن یہ اپنی طرز کی ایک منفرد کوشش تھی جس میں لوگوں کو ڈاکٹریٹ اور ایم فل کے لیے زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سکیم کے تحت ہزاروں لوگ زیر تعلیم ہیں۔

اب دیکھیے اعلی تعلیم کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ٹیکس، ٹیکس اور ٹیکس

September 9th, 2008بذریعہ دوست

پچھلے دو ماہ سے ہم ٹیکس بھر رہے ہیں۔ پہلے پراپرٹی ٹیکس آیا اڑھائی مرلے کا مکان اور دو دوکانیں جن کا کرایہ 1500 ماہانہ ہے پر سال میں 3300 روپیہ ٹیکس وصول کرتی ہے حکومت۔

اس کے بعد صدر کی روزگار سکیم سے لیا گیا چنگ چی لوڈر رکشہ، جس کی ٹوکن فیس اور فٹنس فیس مبلغ 2425 روپے ادا کرنے کا حکم آگیا ہے۔ ابھی اس کی قسط کے پیسے کسی نہ کسی طرح پورے کیے تھے اور ٹیکس کا مژدہ آگیا۔

یہ تو انفرادی حال ہے۔

اجتماعی حال بجلی پر کتنے سرچارج اور ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے سیلابی متاثرین سے لے کر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تک کا فی یونٹ ٹیکس ہم بھرتے ہیں۔

سیلز ٹیکس سولہ فیصد کردیا گیا ہے جو ہر چیز پر نافذ ہے۔

بجلی پر پہلے سبسڈی دی جاتی تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے چناچہ پچھلے ماہ سے بلوں میں سولہ فیصد جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔

اگلے ماہ سے اکتیس فیصد اضافہ مزید متوقع ہے۔ یعنی ہمارا بل جو پچھلے ماہ 1600 تھا اس بار 2000 آیا اور اگلی بار 2500 کے اریب قریب ہوگا۔

موبائل فون کے ریٹس پر 21 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ چناچہ دو منٹ میں ہی دس روپے کٹ جاتے ہیں۔

پٹرولیم پر اچھا خاصا ٹیکس فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح بیس روپے سے کم نہیں۔

اور انھی ٹیکسوں پر عوام کی حکومت چل  رہی ہے۔ اور عوام بس ہورہے ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

صدارتی انتخاب، ججوں کی دوبارہ حلف برداری

September 5th, 2008بذریعہ دوست

بھاڑ میں جائیں سب۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بابا مشرف (مرحوم)

August 18th, 2008بذریعہ دوست

لو جی بابا مشرف مواخذے کے ڈر سے مستعفی ہو ہی گیا۔ بقول اس کے پارلیمنٹ کو چلتا بھی کیا جاسکتا تھا اور سپریم کورٹ کو پھڈے میں ملوث بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس نے احسان عظیم کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کو رکھ کر استعفے کا فیصلہ کیا۔

آہ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔ اب یاد آیا کرے گی اچھا بندہ تھا کم لوٹا اب والے زیادہ تجربہ کار لٹیرے ہیں۔

اس استعفے پر پی پی پی کو تو صدر کا عہدہ مل گیا۔ ہمیں کیا ملے گا۔ آٹا، بجلی،  گیس اور ضروریات زندگی سستی ہوجائیں گی؟ یہ سب اس حکومت پر منحصر ہے جس کے گوڈوں میں پانی نظر نہیں آتا۔

اب دیکھ لیتے ہیں کہ جج بحال ہوتے ہیں ان سے یا نہیں۔ یا پھر وہی مشاورت مشاورت کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں یہ لوگ۔

گڈ بائی بابا مشرف جی۔ اب اگر عدالتی ٹرائل ہوجائے تو موج ہی ہوجائے پھر مزید کسی آمر کو جرات نہ ہو ایسا کرنے کی۔ پر نہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اسے چپکے سے باہر نکال دیا جائے گا اور جب فوت ہوگا تو اسے گارڈ آف آنر اور پرچم مہیا ہوگا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

کمی کمین

August 3rd, 2008بذریعہ دوست

خاور کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ پر انھیں مسلم لیگ ن جاپان کے وڈوں نے دھمکیاں دی ہیں۔ بھئی خاور کو احتیاط کرنی چاہیے تھی اتنا سچ نہیں لکھنا چاہیے تھے۔ یہ ملک تو ہے ہی مسلم لیگ کا۔ نہ مسلم لیگ ہوتی نا پاکستان بنتا۔ اوپر سے ہر آمر کے ساتھ مسلم لیگ چمٹی رہی ہے۔ موجودہ اصلی تے وڈے مسلم لیگی تو بس ن لیگ والے ہیں۔ چاہے ق لیگ والے اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ کہلواتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ آٹھ سال کے بعد مسلم لیگ ن کی باری آئی ہے تو ان کا اتنا اکڑنا تو فرض بنتا ہے۔

لاہور میں وزیر اعلٰی شہباز شریف کے آنے کے بعد پولیس والوں نے بھی پارکوں اور باغوں سے فحاشی سے خاتمے کے لیے پھر سے مہم شروع کردی ہے۔ جوڑوں کو سرعام روک کر بے عزت کیا جاتا ہے۔ شادی ہالوں میں جاکر جوتے لگائے جاتے ہیں۔ تو باہر بھی تو ان کی ٹور ہونی چاہیے۔ آخر یہ ملک ان کے مامے کا ہے اور ہم کمی کمین غریب غرباء جنھیں جو چاہے آکر دبا دے، استحصال کردے، ظلم کرے۔ کون پوچھنے والا ہے۔

خاور کھوکھر نے غلطی کی۔ اسے تو چاہیے تھا جاپان میں بیٹھا ہے تو چپ چاپ بیٹھا رہے۔ یہ تو محفوظ ہے۔ خواہ مخواہ میں پنگا لے بیٹھا۔ اب بھی وقت ہے وڈوں سے معافی مانگ لے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

منظرنامہ

April 9th, 2008بذریعہ

ارباب غلام رحیم اور شیر افگن کی ٹھکائی کے ساتھ ہی نئی حکومت اور حزب اختلاف کے مابین رسا کشی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے جو افہام و تفہیم کی باتیں کی جارہی تھیں سب ہوا بن کر اڑ گئی ہیں۔

کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی “نامعلوم” کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔

کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔

ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔

اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں “حقیقی” جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

April 8th, 2008بذریعہ

میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ بس بازار سے گزرتے ہوئے اس کو دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ ہاتھ میں اچھی نسل کی کوئی گن پکڑے وہ جیولرز کے باہر کبھی کھڑا ہوتا تھا اور کبھی بیٹھا ہوا ہوتا تھا۔ شکل سے پٹھان لگتا تھا۔ پچھلے کچھ ماہ سے اس کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی نظر آنے لگا تھا جس کے ہاتھ میں اکثر پستول ہوا کرتا۔ دونوں کبھی کرسیوں پر بیٹھے ہوتے اور کبھی کھڑے ہوتے۔ میں نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔ بس چپ چاپ اس کے قریب سے گزر جایا کرتا۔ آج جب میں وہاں سے گزرا تو وہ مانوس منظر میرا منتظر نہیں تھا۔ وہ جہاں کھڑا ہوتا تھا وہاں دوکان کی سیڑھیوں پر خون کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔ انھیں چھپانے کے لیے کہیں کہیں ریت ڈالی ہوئی تھی۔ قریب ہی لوگوں کا ایک مجمع تھا جو چہ مگویاں کررہے تھے۔  ذرا ادھر دوکان کا مالک سنار چند لوگوں میں گھرا کھڑا تھا۔ اس کے قریب ہی شکل سے پختون لگنے والا ایک ادھیڑ عمر سا آدمی بھی کھڑا باتیں کررہا تھا۔ شاید وہ اس کا باپ تھا۔

اس کا نام گل خان تھا۔ اور اس کے ساتھی لڑکے کا نام اخلاق احمد۔ کل شام ساڑھے سات کے قریب اس دوکان پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا۔ ندیم اسلم جیولرز منصور آباد کے اچھے خاصے مشہور اور کھاتے پیتے جیولرز ہیں۔ پہلے بھی ایک بار ڈکینی کی کوشش ہوچکی تھی جس کی وجہ سے انھوں نے دو محافظ رکھ چھوڑے تھے۔ لیکن یہ محافظ بھی کچھ نہ کرسکے۔ درندوں نے سب سے پہلے انھیں مزاحمت پر گولیاں ماریں۔ پھر دوکان کے شوکیس توڑ کر زیورات اور نقدی نکال کر فرار ہوگئے۔ گل خان اور اخلاق احمد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ جبکہ ایک گاہک خاتون کی ٹانگ میں گولی لگی۔

پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ لیکن وہ کہاں پکڑے جاسکتے ہیں۔ اگر پکڑے بھی گئے تو گل خان اور اخلاق احمد کے گھر والوں کو ان کے سپوت لوٹا سکیں گے؟ ان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ معاشرہ جس کی بدولت وہ اتنے مجبور ہوگئے کہ اپنی جان داؤ پر لگا کر دوسروں کو سیکیورٹی فراہم کریں؟ یا وہ درندے جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں؟ ان کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت کون کرے گا؟ دونوں شاید پردیسی تھے۔ دور کہیں کسی علاقے میں بیٹھے ان کے عزیز جنھوں نے دو وقت کی روٹی کی امید میں انھیں اتنی دور جانے دیا تھا اب ان کے بے جان لاشے وصول کر جانے کتنا روئے ہونگے۔۔۔ کون ذمہ دار ہے اس سب کا؟ شاید ہم سب۔ :(

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

امید

March 25th, 2008بذریعہ

آٹھ سال پہلے، جب مجھے اتنا ہوش نہیں تھا مجھے یاد ہے دوسرے ہم وطنوں کی طرح میں نے بھی لڈیاں ڈالی تھیں۔ بس اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوازشریف کی ایسی تیسی اس نے یہ کردیا وہ کردیا۔ ایک عرصے تک میں مشرف کا فین رہا اور اسے بابا مشرف سمجھتا رہا۔ پھر فیشن بدلا اور مشرف کو برا کہنے کا دور آیا۔ میں بھی نئے فیشن کے ساتھ بدل گیا اور اب میں مشرف کو برا بھلا کہتا ہوں۔

نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو “ہو” سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے “ہونے” کے منتظر ہیں مجھے اس کے”ہونے” کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔

لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔

امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک”ا اشارہ” مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔

چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں “ترقی” ہی نظر آتی ہے۔

امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

الحمد اللہ

March 24th, 2008بذریعہ

اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں معزز ججوں کی رہائی دیکھنا نصیب کی۔ دعا ہے کہ اب انھیں بحال بھی اسی طرح کروادیا جائے۔۔۔

کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔

اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔

ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔

پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔

ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

عید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

March 20th, 2008بذریعہ

آج سے کوئی بیس برس پہلے تک اس بات کا تصور تک موجود نہیں تھا کہ کوئی عید میلاد بھی ہوسکتی ہے۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اورہمیں کھیلنے کے لیے ایک آدھ کھلونا لازمی چاہیے ہوتا ہے۔ اب عید میلاد کے نام پر ہمارے ہاتھ میں ایک چھنکنا آچکا ہے اور ہم اسے ہر سال اچھی طرح بجا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی کسے نہیں ہے؟ سب کو ہے مجھے بھی ہے۔ ہر سال کوئی نیا شوشہ ہی چھوٹتا ہے اس معاملے میں۔ اب پچھلے کچھ عرصے سے محفل نعت منعقد ہوتی ہے جس میں ایک خوش نصیب کو عمرے کا ٹکٹ بذریعہ قرعہ اندازی دیا جاتا ہے۔ کیا عشق کے لیے عمرے کا ٹکٹ ضروری ہے؟

جن کوٹھوں پر چند دن پہلے بسنت کے نعرے لگائے گئے تھے اور رات بھر غل غپاڑہ کیا گیا انھی پر اب سبز جھنڈے لگا دئیے گئے۔۔۔یہ کیسا عشق ہے جو سبز جھنڈے لگانے،  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی والے نقش سینے پر لگانے اور نعرے لگانے تک محدود ہے؟

آج رات تو مجھے یوں لگا جیسے یہ 12 ربیع الاول کی شب نہیں شب قدر ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرس ہورہی ہے شاید اس میں ایک بندہ کاغذوں کے پلندے سے سبق پڑھ کر سنا رہا تھا اور باقی ڈھیر سارے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی تو اپنے سبق یاد کرنے میں اردگرد سے بے خبر تھے۔ یہ کیسا عشق ہے؟

ڈنمارک والے کچھ عرصے بعد تیلی لگا دیتے ہیں اور پھر گھر جلنے کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ہم بھی پھونکیں مار مار کر اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالتے ہیں۔ کل کسی جگہ خبر پڑھی کہ اب تک ہونے والے مظاہروں میں 50 مسلمان راہی ملک عدم ہوچکے ہیں۔

ہم سے پہلے کے مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کہاں جا پہنچے اور ہم ہیں کہ ہر سال اتنا اہتمام کرتے ہیں پھر بھی تنزلی ہی تنزلی ہے ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ہر شے سے برکت اٹھتی جاتی ہے۔۔۔قتل غارت گری ہر سال بڑھتی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے ہمارا جس کا فیضان ہمیں نصیب نہیں ہوتا؟

کہیں ہم غلط تو نہیں کسی جگہ؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر