آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

آلو کا بھرتہ

October 13th, 2008بذریعہ دوست

اجزاء: آلو مناسب سائز کے دو عدد، ایک ڈنڈا، چند پالتو مرغیاں

طریقہ:- سب سے پہلے آلوؤں کو اچھی طرح دھو لیں۔ اس کے بعد ڈنڈا لیں اور انھیں کسی سل پر رکھ کر کچل لیں۔

لیجیے بھُرتہ تیار ہے۔

چونکہ اب یہ آپ کے کسی کام کا نہیں اس لیے اسے تیسرے جزو ترکیبی یعنی مرغیوں کو ڈال دیں۔ ان کا بھی بھلا ہوجائے گا آپ کو بھی گناہ نہیں ہوگا۔

احتیاط: وہ خواتین و حضرات جن کے پاس مرغیاں نہ ہوں اس ڈش سے پرہیز کریں۔ ان کے ہاں ایک تو نعمت کے ضیاع کا خدشہ ہے ساتھ گناہ بھی ہوگا۔

نوٹ: احتیاط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں مصنف، ویب سائٹ اور انتظامیہ ذمہ دار نہ ہونگے۔

مزید تراکیب کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

محب علوی اردو ورژن

October 1st, 2007بذریعہ

محب علوی کے ساتھ ہمارا ایک معاہدہ تھا کہ ان پر اس وقت تک نہیں لکھوں گا جب تک یہ میرے بارے نہیں لکھ دیتے۔ لیکن انھوں نے چونکہ ایسا کافی عرصے سے نہیں کیا تو ہم معاہدے کے "سو سال" پورے ہونے پر اسے کالعدم سمجھتے ہوئے بسم اللہ کرتے ہیں۔ یہ پہلے لکھی گئی پنجابی پوسٹ کا اردو ورژن ہے۔
محب علوی اب تو اچھی طرح یاد بھی نہیں محفل پر کب آیا تھا۔ شاید ہمیشہ سے محفل پر ہی تھا۔ آپ یقین کریں یا نہیں مجھے زندگی میں پہلا ملنے والا علوی محب علوی ہی تھا۔ شادی شہداء بندہ ہے لیکن کام اس کے کاکوں والے ہیں۔
ٹیلی فون کرے تو پونا گھنٹا تو گیا۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ فون اکتا کر اس کے ہاتھوں سے بھاگتا ہے تب یہ کال ختم کرتا ہے۔ اردو کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ اب یہ ٹھاٹھیں کس قسم کی ہیں میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہوسکتا ہے اونچی ایڑی والے سینڈل کی "ٹھا ٹھا" ہوں۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن یہ وہ بندا ہے جو بہت کچھ کرسکتا ہے۔ باتیں اس طرح سناتا ہے کہ اگلا بندہ کہتا ہے بس دنیا تو یہی ہے۔ اس کی اسی خاصیت کی وجہ سے اسے اردو لائبریری کا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا ہے۔ اردو ٹیک پر گیا تو وہاں بھی سائیاں اسے مزدوروں کا ہیڈ بنا دیا ہے۔
سٹیٹ لائف والوں کی بدقسمتی یہ ان کو نہیں مل سکا۔ چکما دے کر سافٹ وئیر پروگرامنگ کی طرف نکل آیا۔ ورنہ اس کے لچھن انشورنس ایجنٹوں والے ہیں۔ باتوں باتوں میں بیمار کو کھڑا کرے اور کھڑے کو بیمار کردے بیچارہ ہائے ہائے کرتا پھرے۔ اچھے بھلے بندے کو آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔ خود بے نیازی سے آگے بڑھ جاتا ہے پیچھے وہ غریب چاہے اپنی ہڈی پسلی تڑوا بیٹھے۔
شروع شروع میں مجھے بھی اس نے آسمان پر چڑھایا تھا۔ لیکن شکر ہے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مجھے تو اپنے اندر وہ وہ خوبیاں نظر آنے لگی تھیں کہ کبھی خواب میں نہیں سوچا تھا۔ ایسے بندے سے تو بندہ حسد بھی نہیں کرسکتا۔ حسد کس چیز پر کرے۔ الٹا یہ آپ کو پتنگ کی طرح آسمان پر چڑھا دے گا۔
کوئی پراجیکٹ چلانا اس کے بائیں ہاتھ کی مار ہے۔ سب کو ایک دفعہ گھن چکر بنا ڈالتا ہے۔ تم بھی آجاؤ، تم بھی آجاؤ۔ ایسے ایسے بندے لے آتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ لوگ نا نا کرکے بھی کام کر جاتے ہیں۔ بس اتنا ہی، ہاں ٹھیک ہے اتنا ہی۔ اچھا تھوڑا سا اور چلو دے دو یہ بھی۔ اور اتنے میں کام ہی ختم ہوجاتا ہے۔
میں مشورہ دوں گا جن ماؤں کے بچے سکول نہیں جاتے، کڑوی دوا پلانے پر تنگ کرتے ہیں۔ وہ چینی کی جگہ محب علوی کو ٹرائی کریں انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔
اس بندے کا نام محب علوی نہیں محبوب علوی ہونا چاہیے تھا۔ اردو کے ساتھ محبت رکھنے والے محب علوی سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا اصلی نام فاروق ظفر ہے۔ جس سے شک پڑتا ہے کہ یہ ایس ایم ظفر کا کوئی رشتے دار ہے۔ شاید اسی وجہ سے یہ اپنا اصلی نام پبلک نہیں کرتا۔
خیر ہمیں یار کی یاری سے غرض۔ محب علوی سدا خوش رہے۔ بیبا بندہ ہے۔ (بی با پنجابی میں اچھے بندے کو کہتے ہیں)۔ دعا ہے اس کا ہمارا اور اردو کا ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔ آمین۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

محب علوی

September 30th, 2007بذریعہ

محب علوی نال میرا ایک معاہدہ ہویا سی کے او میرے اُتے لکھن گے تے فیر میں کاؤنٹر اٹیک کراں گا۔ لیکن عرصہ ہویا ایس گل نوں۔ اج اونھاں نال گل ہورہی سی تے میں سوچیا چلو اے وی فرض ادا کردے چلئیے۔ چونکہ معاہدے دے مطابق میں کاؤنٹر اٹیک کرناں سی ایس لئی اردو دی جگہ پنجابی وچ لکھن لگا واں۔

محب علوی مینوں ہن تے یاد وی نئیں آؤنداں محفل سے کدوں آیا سی۔ لگدا اے جیویں اے ہمیشہ توں محفل تے سی۔ تسی یقین کرو یا نہ کرو زندگی وچ پہلی دفعہ جس علوی نال ملیا او محب علوی سی۔ حالانکہ شادی شہداء بندہ اے لیکن ایدے کم کاکیاں والے نیں۔

ٹیلی فون کرے گا تے پونا کینٹا کتے نئیں گیا۔ مینوں تے اینج لگدا اے فون اَک کے ایدے ہتھوں نکل کے نسدا اے تے اے کال مکاؤندا اے۔ اردو واسطے کجھ کرن دا جذبہ ایدے اندر ٹھاٹھاں ماردا اے۔ اے ٹھاٹھاں کس قسم دیاں نیں میں کجھ کہہ نئیں سکدا۔ شاید اُچی اڈی والے سینڈل دیاں ٹھاٹھاں۔

ہون نوں بہت کجھ ہوسکدا اے، لیکن اے ایسا بندا اے جیڑا بہت کجھ کرسکدا اے۔ گلاں اینج سناؤندا اے کہ اگلا بندہ کہندا اے بس دنیا تے اے ہو ای اے۔ ایدی ایسے خاصیت دی وجہ توں اینھوں اردو لائبریری دا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا اے۔ اردو ٹیک تے گیا تے اوتھے وی سائیاں اینھوں مزدوراں دا ہیڈ بنا چھڈیا۔

سٹیٹ لائف والیاں دی بدقسمتی کہ اونھاں نو نئیں مل سکیا چکانویں دے کے سافٹ وئیر پروگرامنگ ول آگیا۔ ورنہ ایدھے لچھن انشورنش ایجنٹاں والے نیں۔ گلاں گلاں وچ بیمار نو کھڑا کر دوے دے کھڑے نوں لمے پا دوے وچارہ ہائے ہائے کردا پھرے۔ چنگے پلے بندے نوں زمینوں چک کے اسمانیں چڑھا دندا اے۔ فیر آپ بے نیازی نال اگے ودھ جاندا اے پچھوں پانویں او غریب اپنی ہڈی پسلی تڑا بیٹھے۔

شروع شروع چ مینوں وی اسمانیں چڑھایا۔ لیکن شکر اے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مینوں اپنے آپ وچ او او خوبیاں نظر آؤن لگ پیاں سی جہیڑیاں کدی میں خواب وچ وی نئیں سی سوچیاں۔ ایہو جئے بندے کولوں تے بندہ سڑ وی نئیں سکدا۔ بھئی سڑے کس چیز تے، الٹا آپ تھلے بے کے تہانوں گڈی وانگ اسمانیں چاڑھد دندا ے۔

کوئی پراجیکٹ چلاؤنا ایدے کھبے ہتھ دی مار اے۔ ساریاں نوں ایک دفعہ تے گھن چکر بنا دیندا اے۔ فلانیاں نوں وی آجا ٹینگڑیا توں وی آجا۔ ایسے ایسے بندیاں نوں لے آؤندا اے کہ تسی سوچ وی نئیں سکدے۔ لوکیں نا نا کرکے وی کم کرجاندے نیں۔ بس اینھاں ای، ہاں ٹھیک اے اینھاں ای۔ اچھا تھوڑا جئا ہور چل دے اے وی۔تے اینیں دیر وچ کم ای مک گی ہندا اے۔

میں مشورہ دواں گا جنھاں ماواں دے بچے سکول نئیں جاندے، کوڑی دوائی پین لگے تنگ کردے نیں۔ او چینی دی بجائے محب علوی نوں ٹرائی کرن انشاءاللہ افاقہ ہوئے گا۔

ایس بندے دا ناں محب علوی نئیں محبوب علوی ہوناں چائیدا سی۔ اردو نال محبت رکھن والے محب علوی نال وی محبت رکھدے نیں۔ اے علیحدہ گل اے کہ پاء جی ہوراں دا اصل ناں فاروق ظفر اے۔ مینوں ایس ایم ظفر دے کوئی قریبی شریبی لگے نیں، شاید ایسے وجہ توں محب علوی کہلواؤندے نیں۔

خیر سانوں یار دی یاری نال غرض۔ محب علوی سدا خوش رہوے۔ بیبا بندا اے۔ (نہ بی بی نا بابا، بلکہ بی با رب جانے کیس سیانے نے اے لفظ ایجاد کیتا سی خیر چھڈو تسیں اگے پڑھو) دعا اے ایدا ساڈا تے اردو دا ساتھ سدا قائم رہے۔ اور آ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

قصہ ہماری “کرنٹ” مصروفیات کا

August 6th, 2007بذریعہ

یوں تو آج کل کرنٹ یعنی بجلی کا کافی کال شال پڑا ہوا ہے۔ جب چاہے بجلی آنکھ بند کرلیتی ہے۔ لیکن ہم نے سوچا ان دنوں کی کچھ مصروفیات کا ذکر کرتے چلیں۔

یونیورسٹی کھل چکی ہے، ہم ہیں اور اساتذہ کی ظالم اسائنمنٹس۔ ہمارا امتحانی نظام دوہرا سا ہے۔ ایک آدھ اسائنمٹ مبلغ پچیس فیصد نمبر کی ہر مضمون میں گھسیڑی ہوئی ہے۔ سمسٹر کے آخر پر سب کو ان کی پڑ جاتی ہے۔ چناچہ اب سارے اساتذہ ہم پر دانت تیز کررہے ہیں۔ کچھ نے اسائنمنٹس دے دی ہیں کچھ دینے کی باتیں کررہے ہیں۔ اور ہم جیسے نئے پنچھی منہ چَک کر دیکھ رہے ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ ساتھ ایک عدد پریزینٹیشن بھی ہے۔ یعنی نمائش غریباں بہ روئے رقیباں۔ سوال کرنے کے بھی نمبر ہیں اور یار لوگوں نے سوال کرکر کے سب رٹا شٹا بھلا دینا ہے۔ دعا کیجیے گا کہ اللہ ہمیں اس "امتحان" سے بخیر مکتی دے۔ ابھی فائنل کا امتحان پڑا ہے۔ آہ!!!!

آہ سے یاد آیا آہا اپنے مکی بھائی آج کل لینکس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ دھڑا دھڑ ڈسٹروز اتار رہے ہیں اور رائٹ کررہے ہیں۔ ڈی وی ڈی رائٹر کیا لے لیا ان کی تو چاندی ہوگئی۔ کوئی درجن بھر ڈسٹروز اتار چکے ہیں۔ اور کئی ایک قطار میں لگی اپنی باری کی منتظر ہیں۔ خود بھی کبھی فیڈورا استعمال کررہے ہوتے ہیں کبھی مینڈ(ر)ک۔ آج کل سلیک وئیر کو اتار رہے ہیں۔ ہمیں بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ڈی وی ڈی ریڈر ہی کم از کم لے لو تاکہ فیڈورا نصب کرسکو۔ ہم بس ایک ٹھنڈی آہ سی بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ابھی فرصت اور ہمت کہاں اتنی۔ لیکن امیدہے جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بس اس سمسٹر کا بخیر اختتام ہوجائے اور ہماری چنگی سے وہ بن جائے(پتا نہیں اسے کیا کہتے ہیں سی جی پی اے شاید) چلیں جو بھی ہے۔ بس بن جائے۔

دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اور بلاگ کا لے آؤٹ انشاءاللہ جلد ہی بدل دوں گا فی الحال گزارہ کریں۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میرے ویب دوست (چلتے چلتے ایک کرم فرما پر میری نظر کرم)

May 22nd, 2007بذریعہ

امانت علی گوہر۔ بقول علمدار ان کے نام سے لگتا ہے کہ ایک نہیں تین بندے ہیں جنھیں پیک کردیا گیا ہے۔ امانت علی گوہر کے بارے میں ہمارے احساسات بڑے مریدانہ قسم کے تھے۔ ان سے واقفیت تب کی ہے جب یہ گلوبل سائنس میں لکھا کرتے تھے اور ہم ان کی تحاریر پڑھ پڑھ کر سر دھنا کرتے تھے۔

(کبھی ان کا سر دھننے کا خیال آیا ہو تو حد ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ذکر نہیں کررہے ۔) ان کے بارے میں اگلی سن گن اس وقت ملی جب ہم محفل پر تشریف لائے۔ یہ بھی کبھی کبھی آیا کرتے تھے۔ اس وقت ہمیں محسوس ہوتا تھا یہ کوئی انٹلکچوئل قسم کی چیز ہیں۔ مثلًا ایک بار تشریف آوری ہوئی تو ایک عدد اردو ورڈ فریکوئنسی کاؤنٹر بنا لائے۔ اب ہم ٹھہرے پینڈو ہم اتنے میں ہی مرعوب ہوگئے۔

پھر پتا چلا کہ طبیعت ناساز رہتی ہے۔ تو ہم نے اس سارے سیاق سباق سے یہ اندازہ لگایا کہ دانشور قسم کی چیز ہیں اور نازک طبع بھی کہ ذرا سی بات سے طبیعت ناساز ہوجاتی ہے۔

ان کا اگلا ٹاکر ہم سے محمد علی مکی کے "تھرُو" ہوا۔ انھوں نے انھیں ہماری طرف تھرو کردیا۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا مکی بھائی فون پر ہم سے بات کررہے تھے کرتے کرتے انھوں نے انھیں فون پکڑا دیا۔ ہمیں  نوے فیصد شک ہے کہ ان کے احترام میں فورًا اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے ہم(اگرچہ یہ دو ماہ سے پرانی بات نہیں لیکن صاحبو ایسی باتیں ہمیں بھولنے کی پرانی عادت ہے)۔ ان کی آواز سنی تو لگا جیسے ساتھ والوں کا چھوٹا لڑکا بول رہا ہے۔ اس دن ہمارے ارے ارمان چکنا چور ہوگئے۔ ہم جو ان کو پیر و مرشد بنانے کے خواہش مند عرصہ دراز سے تھے اب ان کے انکل کے رتبہ جلیلہ پر فائز ہیں۔ یہ بھی لمبی داستا ن ہے بس اتنا سمجھ لیں کہ ایک بار جب ہم نے اپنی عمر عرض کرکے کہا کہ ابھی تو ہمارے کھلینے کودنے کے دن ہیں تو انھوں نے جواب آں غزل کے طور پر اپنی عمر ظاہر فرمائی اور ہمیں شک ہوا کہ اگر ہمارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں تو ان کے لازمًا جھولا جھولنے کے دن ہونگے۔

ٰامانت علی گوہرٰ واقعی تین بندے ہیں۔ جو کام انھوں نے "اتنی سی عمر" میں سنبھالا ہوا ہے ایک بندے کا کام نہیں۔ ویسے ہمیں شک ہے کہ ٰگوہرٰ ان میں عارضی بندہ ہے۔ چونکہ یہ ابھی منے ہیں لیکن بڑے ہونے پر ان کی شادی بھی ہوگی۔ اور ہمیں 99 فیصد یقین ہے کہ شادی کے بعد ان کا نام امانت علی گوہر نہیں امانت علی ٰشوہرٰ ہوجائے گا۔

امانت علی گوہر ہمارے بہت اچھے دوست اور کرم فرما ہیں۔ ان کی بدولت ہم خود اب لکھاری لکھاری سا محسوس کرتے ہیں۔ چلتے پھرتے یونہی جب خیال آئے کہ کمپیوٹنگ میں ہماری تحریریں بھی چھپتی ہیں گردن میں سریا آجاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا اور کمپیوٹنگ کا ہم سے اور اردو سے ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔

 

 

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میرے ویب دوست

March 26th, 2007بذریعہ

اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔

نعمان یعقوب

بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔

ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔

قدیر احمد رانا

قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔

بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔

بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو —کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔

بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔

اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔

شعیب صفدر

کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔

ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔

شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب

;)

 

محمد علی مکی

محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔

چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔

اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔

اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح “موج” بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔

ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔

اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

نکالنا حلق سے “ق” کا اور حالت فدوی کی

February 25th, 2007بذریعہ


ہم سوچا کرتے تھے کہ لوگ بچپن کو یاد کرکے ایویں اداس ہوتے ہیں بھلا بچپن میں کیا رکھا ہے۔ لیکن برا ہو اس بڑے ہونے کا جس نے ہمیں بھی اسی چکر میں ڈال دیا۔ اب دیکھیے نا جیسے جیسے بندہ بڑا ہوتا جاتا ہے اس کے اندر احساس ذمہ داری بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہر شے کو مکمل ترین دیکھنے کا خبط سر پر سوا ہوجاتا ہے۔
اسی خبط کے صلے میں ہر بار ہمیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ لیکن ق کے معاملے میں ہمیں منہ کے ساتھ ساتھ حلق کی بھی کھانی پڑی۔ ارے ٹھہریے یہ بابے مشرف والی ق نہیں جس کے ساتھ لیگ لگ جائے تو وہ وزیر اعظم کی اماں بن جاتی ہے بلکہ یہ اردو کی ق ہے جس کو قینچی والی ق کہتے ہیں۔
اردو میں دو “کافز” ہیں۔ ایک کاف کتے والی اور دوسری قینچی والی۔ ویسے ناظرین ہمیں کتے والی ک کے ساتھ ہمیشہ ہمدردی ہی محسوس ہوئی ہے ایک تو بے چاری کے اوپر اتنا بڑا سا ڈنڈا دوسرے اس کو کتے کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے کتنا غیر شاعرانہ جوڑ ہے۔ کتا آخر قتا بھی تو ہوسکتا تھا آخر اردو کے بابوں کا کیا جاتا۔ لیکن کیا کہیں ان سیانوں کو جن کے سیانے پن کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔
ق اصل میں‌ قاف نہیں “کوہ قاف” ہے۔ اس کوہ کو سر کرنا عام بندے و ہرکس و ناقص کے بس کا روگ نہیں۔ اس ق کے اتنے قصے مشہور ہیں کہ بڑے بڑے اس سے پنگا لیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔سنا کرتے ہیں ایک صاحب لکھنوء (اجی وہی لکھنوء جس کو اردو والے بڑی حسرت سے یاد کرتے اور آہیں بھرتے ہیں) میں گزر رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دھان پان سا بندہ مرگی کے دورے کی سی حالت پر سڑک پر لوٹیں لگا رہا ہے۔ ان صاحب نے ارد گرد سے حال دریافت کیا حضور کیا معاملہ و ماجرا ہے بے چارے کی مدد کیوں نہیں کرتا کوئی تو جواب آیا حلق سے قاف نکال رہے ہیں۔
صاحبو موصوف جن پر یہ قصہ “فلمایا” گیا ہے ضرور سر نیچا کیے نکل لیے ہونگے لیکن ہماری بدقسمتی کے ہمارے سر میں یہ قاف جنرل صاحب کی طرح پھسکڑا مار کر بیٹھ گیا۔ اور مزید بدقسمتی ہم نے اس کو حلق سے ہی نکالنے کی ٹھان لی۔
بس پھر نہ پوچھیں فدوی پر کیا گزری۔ اس لیے ہم نے تمہید میں عرض کیا تھا کہ بچپن کے دن کتنے اچھے تھے۔ قمیض کو کمیض اور قینچی کو کینچی کہہ لیا کرتے تھے لیکن اب۔۔۔
اب یہ حال ہونے لگا ہے کہ کتا بھی کتا نہیں‌ قُتا لگتا ہے عجب “قُتا” سا لفظ بن جاتا ہے۔ :oops: صاحبو جب ہم نے ٹھان لی کہ اب بس بہت ہوگئی اردو کو اہل زبان کی طرح سیکھنا ہے اور ق کو حلق کی گہرائیوں سے برآمد کرنا ہے تو ہم نے سب سے پہلے اپنے گلے کی صفائی کروانا شروع کردی۔ روزانہ اٹھ کر آدھا جگ نمکین پانی کے غرارے وقتًا فوقتًا ہوسٹ اور گلا صاف کرنے والی گولیاں، فریش اپ ببل قسم کی چیزیں جیب میں رکھنا شروع کردیں۔
پورا ہفتہ یہ پریکٹس کرنے کے بعد اگلا ایک ہفتہ ہمیں قاف نکالنے کی حسرت ہی رہی چونکہ یہ الم غلم کھا کر ہمارا گلا خراب ہوگیا تھا اور اس کی گہرائیوں سے قاف کا نکلنا ممکن نہ تھا۔ ہم نے دو ایک بار نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن شاید کافی موٹا تازہ قاف تھا ہر بار کھانسی میں ٹوٹ ٹوٹ کر ہی نکلا۔
خیر صاحبو صحت یاب ہوکر ہم نے قاف نکالنے کے نئی تراکیب سوچنا شروع کردیں۔
کسی نے ہمیں بتایا کہ پی ٹی وی کے خبرنامے میں‌ اردو بڑی اچھی بولی جاتی ہے۔ چناچہ ہم نے آدھ گھنٹہ اس عذاب میں گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔ نیوز کاسٹر کے ہر قاف کو ہم “حلق کی گہرائیوں” سے محسوس کرتے لیکن نکالنے کی حسرت ہی رہ جاتی اکثر اوقات قاف نکلتے نکلتے اس وجہ سے رہ گئی کہ اسے ہنسی کو راستہ دینا پڑا۔ آخر اس طرف سے بھی ناکامی کے بعد ہم پھر منہ لٹکا کر بیٹھ گئے قاف نکالنے کی بجائے ہمیں اپنا “قافیہ” تنگ ہوتا محسوس ہورہا تھا۔
آخر کار ہم نے دوسروں کے مشوروں کی بجائے اپنے عقل سلیم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا نتیجہ اگلے ہی روز برآمد ہوگیا۔
اصل میں ہم اپنی دھن میں کہیں جارہے تھے کچھ بطخوں کی قیں قیں سن کر چونک گئے۔ پہلے چونکے پھر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ق ہم سے کتنا قریب تھا اور ہم اس کو نکالنے کے لیے کہاں کہاں “بین” تلاشتے رہے۔
بطخ کی “ق دانی” دیکھ کر ہم اس مقولے پر ایمان لے آئے کہ خدا نے کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی۔ ہم نے ق کا علم حاصل کرنے کے لیے بطخوں کی شاگردی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا
سائیکل وہیں چھوڑ کر بطخوں کے اس خاندان کے قریب جاکر بیٹھ گئے۔ پورے ایک گھنٹے ہم نے ان کے ساتھ بیٹھ کر قیں قیں کی گردان کی۔ اس قیں قیں کے بعد ہمارا یہ حال ہو گیا کہ ہیں کی بجائے قیں اور ہاں کی بجائے منہ سے قاں نکلنے لگا۔ لیکن حسرت ہی رہی کہ حلق سے قاف ٹھیک نکلے ۔ ملمع کے طرح جب دو گھنٹے بعد ہمارے ذہن سے بطخیں‌ محو ہونے لگیں تو ساتھ ہی ق بھی دوبارہ سے سو گئی۔
اب آپ سے کیا چھپانا اس طرح کی کئی مشقیں ہم نے آتے جاتے اٹھتے بیٹھے کیں، کبھی مرغ کی ککڑوں کوں کے ساتھ مل کر ققڑوں قوں کی ,کبھی صراحی کی قل قل کے ساتھ قل قل کی لیکن بات نہ بنی۔
آخر کوئی تین ماہ کی مشقت کے بعد ہم نے جب صبح قرآن کی تلاوت سنی اور اس میں قاری کے منہ سے کھنکھناتا ہوا قاف نکلتا سنا تو بے اختیار سر پیٹ لیا۔ بے شک اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے یہ سن کر ہمیں اپنے قاری اللہ انھیں درازی عمر اور صحت دے یاد آگئے جو کھوتوں گھوڑوں والے بید کے سوٹے سے ہمارے حلق سے قاف نکلوا لیا کرتے تھے۔ سو صاحبو اللہ کی رحت وہ دن اور آج کا دن جب بھی حلق سے قاف نکالنا ہو ہمیں قاری صاحب کا سوٹا اور اندازِ برآمدگیِ قاف یاد آجاتا ہے اور حلق سے ایک پھریری کے ساتھ کھنکھنا تا ہوا ق برآمد ہوجاتا ہے۔

ویسے آپ کے قاف کی کیا صورت حال ہے؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ایڈمن ہونا

October 20th, 2006بذریعہ

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

غیروں کی مشابہت : خبردار ہوشیار اس سے بچو

August 20th, 2006بذریعہ
غیروں کی مشابہت سے بچیں۔ جی ہاں بالکل ایسا کریں۔
اب دیکھیں نا غیر انٹیل کے پی سی استعمال کرتےہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو استعمال نہ کریں۔ نہیں کرسکتے؟؟ چلیں ایسا کریں جہاں سٹکر لگا ہوتا ہے “انٹیل انسائڈ” وہاں پر “ساختہ پاکستان ” کا سٹکر لگا دیں۔ جہاں بھی انگریزی میں کچھ پرنٹ ہوا ہو اسے چھری سے کھرچ دیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ٹھہریے ۔ یہ سب کچھ تو غیر بھی استعمال کرتے ہیں بھئی ونڈوز وغیرہ ۔ تو ان کی مشابہت سے بھی بچیں ۔ غیر لائسنس لے کر اور پیسے لگا کر اسے خریدتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ونڈوز کے چوری شدہ ورژن خریدیں جو سستے بھی مل جاتے ہیں۔ اس طرح آپ یقینًا غیروں کی مشابہت سے بچ سکتے ہیں۔
لیکن ہم یہ سب استعمال ہی کیوں کریں۔ کمپیوٹر غیروں کی ایجاد، سافٹ ویرز ان کی ایجاد۔ اس طرح تو ہم غیروں سے مشابہہ ہورہے ہیں۔ اس لیے اٹھیں اپنے پی سی کو بند کریں اور اٹھا کر گلی میں پھینک دیں۔ مبارک ہو آپ غیروں کی مشابہت سے بچ گئے۔ آپ فلاح پانے والوں میں سے ہوگئے۔
ارے یہ کیا آپ ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ چاہے اس پر کیو ٹی وی اور پیس ٹی وی ہی دیکھتےہیں۔ چلیں چلیں اسے بھی اٹھائیں اور گلی میں پھینکیں۔ بھئی یہ بھی غیروں کی مشابہت ہے۔ یہ جو نادان لوگ ہر وقت ان چینلوں پر بولتے رہتے ہیں یہ تو منافق ہیں۔ سچے مسلمان تو ہم ہیں جو ہر لحظہ غیروں کی مشابہت سے بچنا چاہتے ہیں۔
ارے آپ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں؟؟ اسے ون ویل پر چلائیں ورنہ اتریں اس سے ۔اتریں اتریں ۔ آگ لگائیں کمبخت کو یہ تو غیروں کی مشابہت ہوگئی۔ بھئی ہمیں منع کیا گیا ہے اس سے۔
ہاں جی بالکل کوئی دن ون بھی نہیں منانا ہم نے۔ آخر جی غیروں کی مشابہت ہے یہ۔ کوئی یوم آزادی اور 14 اگست نہیں آگے سے ۔
منانا ہے؟؟ چلیں ہم ان کی طرح نہیں مناتے۔
غیر تو اپنے ان دنوں میں عہد کرتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں گے اپنے جذبے تازہ کرتے ہیں۔ہمیں کیا۔ ہمیں کونسا حکم ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ ہم تو ایسے اپنا دن نہیں منائیں گے۔ ہم تو گھوڑے تیار رکھنے کا عزم نہیں کریں گے۔ بھئی ہم مسلمان ہیں ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہمیں جذبہ تازہ کرنے سے کیا۔ہم تو ویسے ہی بھرے بیٹھے ہیں۔ اپنے آپ پر،اپنے ملک پر اور اپنوں پر۔ ہمیں ان دنوں سے کیا۔ ہم تو اسے اور ہی طرح منائیں گے۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکلوا کر، بتیاں لگا کر، اونچی آواز میں کار میں گانے چلا کر اور ٹی وی دیکھ کر اور حکومت کو گالیاں دے کر ہم یہ دن منائیں گے۔ یہ غیروں کی مشابہت تھوڑا ہوئی۔ یہ تو شیطان کی مشابہت بھی نہیں اس سے بھی آگے کی چیز ہے۔ لیکن ہمیں تو غیروں کی مشابہت سے بچنا ہے ناں۔ سو ٹھیک ہے۔
تو صاحبو ٹوٹ پڑو ہر اس چیز پر جو غیروں سے مشابہہ ہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ ہمیں غیروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ ہمیں کونسا اچھی چیز اختیار کرلینے کا حکم ہے۔ مٹا دیں ہر وہ نقش جو غیروں سے ملتا جلتا ہوں۔ ہمیں اپنی الگ دنیا بسانی ہے۔ ان سب کافروں سے الگ۔ ان بے دینوں ملحدوں سے الگ۔ ہمیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی دنیا الگ بسانی ہے ان سے ۔ دیواریں کھڑی کردو، منہ موڑ لو ہمیں ان سب سے بچنا ہے کہیں انجانے میں ان کی مشابہت نہ ہوجائے۔
عقلمند را اشارہ است۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

گدھے۔۔۔۔

July 9th, 2006بذریعہ
بہت دنوں بعد آج کچھ لکھنے کو دل کیا توپچھلے دنوں کی ایک خبر یاد آگئی۔ کچھ یوں تھی کہ “پاکستان میں گدھوں کی آبادی میں اضافہ ہوگیا ہے”۔
ہم نے اپنے دوست حاسد سے اس بارے میں استفسار کیا تو منہ بنا کر بولے ” پھر کیا ہوا۔اگر غربت بڑھی سکتی ہے، بے روزگاری بڑھ سکتی ہے، مہنگائی بڑھ سکتی ہے تو گدھوں کی آبادی کیوں نہیں بڑھ سکتی۔کونسا قیامت آجائے گی اس سے”
اور ہم سر ہلا کر رہ گئے بات ان کی بھی غلط نہیں تھی۔ بھلا گدھوں کی آبادی بڑھنے سے کیا ہوجائے گا۔ صاحبو گدھا بڑا ہی شریف جانور ہے۔ اتنا شریف کہ نہ جانے کتنے عرصے سے اس کو زندگی کے ہر شعبے میں بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے مگر مجال ہے اس نے کبھی چوں چاں کی ہو۔
گدھا ایک کثیر المقاصد قسم کی چیز ہے۔ اس کے نام سے لے کر اس کی ذات تک ہر چیز قابل استعمال ہے۔
مثلًا “گدھا” ایک عمومی لقب ہے جو اکثر پاکستانی عوام و خواص کے منہ سے پھولوں کی طرح جھڑتا ہے اور مخالف کے کپڑوں پر کیچڑ کی طرح داغ لگا جاتا ہے۔گدھا آپ کسی کو غصے سے بھی کہہ سکتے ہیں اور پیار سے بھی۔
غصے میں کہیں گے تو اگلا بندہ یہ سوچ کر چپ رہے گا چلو گدھا ہی کہا ہے کچھ اور نہیں کہہ دیا۔
اگر پیار سے کہیں گے تو پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ کون مائی کا لال ہے جو آپ کو کچھ کہہ سکے۔
گدھے سے ہمیں اپنے استاد محترم یاد آگئے۔ میٹرک میں ہمارے فزکس کے استاد تھے۔ بڑے باشرع اور عملی انسان تھے۔بات منہ میں ہوتی تھی اور ہاتھ مصروف عمل ہو بھی چکتے تھے۔ہمیں گدھا اور ایک مزید نحس جانور کے القابات سے بڑی بے تکلفی سے نوازا کرتے ساتھ میں ان کا ہاتھ چلتا تو یقین آجاتا کہ ہم گدھے ہی ہیں۔بس فرق اتنا ہوتا کہ بوجھ کی بجائے وہ ہم پر فزکس کے عجیب و غریب کے قسم کے فارمولے لادنے کی کوشش کرتے۔خیر اللہ ان پر اپنی رحمت نازل کرے انھی کے ڈنڈے اور گالیوں کی برکت ہے کہ ہم ابھی تک یہ نہیں بھولے کہ فزکس میں حرکت کی تین مساواتیں ہوا کرتی تھیں۔(کرتی تھیں اس لیے کہا ہوسکتا ہے جب لوگوں نے دیکھا کہ نیوٹن خود بھی مرمرا گیا ہے اور اس کا کوئی عزیز رشتہ دار بھی نہیں تو انھوں نے سوچا ان مساواتوں کو تو بنّے لگاؤ۔ خیر ہمارے ہاں تو یہ کام پٹواری جائیداد کے کاغذوں کے ساتھ اس احسن اور فنکارانہ طریقے سے کرتے ہیں کہ اصل وارث بیچارہ ساری عمر مقدمہ لڑتے لڑتے مر جاتا ہے مگر کاغذات کی تبدیلی غلط ثابت نہیں کرپاتا۔لیجیے بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔)
گدھا باربرداری کے کام آتا ہے۔ اس پر جتنا مرضی وزن لاد لو اس کا کام ہے بس چلتے جانا۔ بس اس کی ذرا سی تفریح یہ ہے کہ کسی دوسرے گدھے یا گدھی کو دیکھ کر اسے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ گدھا ون مین شو کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور مالک کے ساتھ گدھا گاڑی بھی چلاتا ہے۔ گدھا گاڑی کو کچھ ستم ظریف چاند گاڑی بھی کہتے ہیں مگر آفرین ہے جو کبھی گدھے نے برا منایا ہو ہمیشہ ڈھینچوں کرکے اپنی رضامندی کا اعلان ہی کیا ہے۔
گدھا گاڑی سے یاد آیا یہ گاڑیوں کی اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کا سٹیرنگ اور بریک ایک ہی جگہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے دوست حاسد سے پوچھا گدھا گاڑی میں ایکسلریٹر کیوں نہیں ہوتا تو انھوں نے رازدارانہ انداز میں بتایا ” ہوتا ہے” ہم حیران رہ گئے یہ کیسے ہوسکتا ہے گدھا گاڑی کا ایکسلریٹر ہو اور نظر نہ آئے۔ ہم نے پھر عرض کیا اگر نشاندہی فرما دیں تو نوازش ہوگی۔ بڑے نخروں کے بعد حاسد نے بتایا گدھے کی “دم” اس کا ایکسلریٹر ہوتی ہے۔ ہم ان کی وسیع العلمی کے قائل ہوگئے۔ اسی بحر حیرت و احترام میں ہم نے جب پوچھا کہ کبھی گدھے کا یہ پرزہ استعمال کرنے کا اتفاق بھی ہوا تو حاسد ناراض ہوگئے کہ اب تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو۔ ہم نے بڑی مشکل سے یقین دلایا اس میں بھلا مذاق کی کیا بات ہے۔ تو انھوں نے جوابًا جو واقعہ سنایا اس کا لب لباب یہ تھا کہ ایک بار انھوں نے یہ کوشش کی تھی تاکہ اپنے نظریے کو عوام کے سامنے ہمراہ ثبوت پیش کرسکیں جواب میں انھیں دولتی کھانا پڑی تھی۔
خیر حاسد کے ارشادات تو چلتے رہیں گے کہتے ہیں ہاتھی زندہ لاکھ کا مرے تو سوا لاکھ کا۔ گدھے کے لیے بھی یہی ضرب المثل مشہور ہونی چاہیے تھی ۔ زندہ تو گدھا گاڑی میں مرگیا تو قصاب کی دوکان پر بکرے کے بھاؤ۔
پس ثابت ہوا کہ گدھا واقعی ایک شریف اور کثیر المقاصد جانور ہے جب تک زندہ رہتا ہے خدمت کرتا ہے جب مرجاتا ہے تب بھی کچھ نہ کچھ دے کر ہی جاتا ہے۔
صاحبو چلتے چلتے ایک لطیفہ سناتے چلیں۔
ایک ملک کے سربراہ کو ایک بار ان کے مشیروں نے باتوں ہی باتوں میں کہہ دیا کہ یہ قوم تو ہے ہی گدھی اور بے عقل۔ سربراہ مصر ہوگئے ثبوت پیش کرو۔ مشیران بولے حضور ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ابھی ثبوت مل جاتا ہے آپ بس جیسے ہم کہیں ویسے کرتے جائیں۔ سربراہ نے مشیروں کے کہنے کے مطابق کسی چیز کی قیمت بڑھا دی۔ چند دن گزرے کچھ احتجاج ہوا پھر خاموشی چھا گئی۔ مشیران بولے حضور دیکھا یہ قوم گدھی ہے۔ جتنا وزن ڈال لو کوئی مسئلہ نہیں۔ سربراہ اب بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ انھوں نے نرخ دوگنے کردیے۔ پھر کچھ چوں چاں ہوئی اور بات دب گئی۔
یہ بڑے لوگ بھی عجیب ہوا کرتے ہیں جس چیز کی ضد چڑھ جائے انھیں بس پھر نہ پوچھیں۔ انھوں نے نرخ چار گنا کرنے کا حکم دے دیا۔ بات پھر وہیں کسی کو کوئی فرق نہ پڑا معمولی احتجاج بھی نہ ہوا۔ سربراہ حیران رہ گئے۔ مشیران بولے حضور یہ قوم اس سے بھی زیادہ گدھی ہے۔ سربراہ بولے وہ کیسے۔ مشیروں نے عرض کی حضور ذرا ہمارے مشورے کے مطابق کیجیے ثبوت مل جائے گا۔
چناچہ اگلے دن سے متعلقہ چیز کی منڈیوں میں سرکاری اہلکار بیٹھ گئے۔ جو بھی چیز لینے آتا پہلے اسے دس چھتر کھانا پڑتے پھر چار گنا نرخوں پر چیز لے کر گھر جاتا۔لوگ کچھ پریشان ہوئے پھر عادی ہوگئے۔سربراہ پھر غصے میں آگئے۔ انھوں نے چھتروں کی تعداد دس سے بیس کردی۔بات پھر وہیں۔ چیز استعمال ہورہی تھی چھتر لگ رہے تھے اور یہ سب یونہی تھا جیسے عام سی بات ہو۔ آخر تنگ آکر انھوں نے چھتروں کی تعداد پچاس کردی۔ ایک کلو چیز ساتھ پچاس چھتر۔
اب تو ہر طرف رش۔ جہاں دیکھو لوگ لائن میں لگے چھتر کھارہے ہیں۔ چند دن لوگوں نے برداشت کیا پھر انھوں نے سوچا یہ تو بہت ہوگیا ایسے تو نہیں چلے گا۔ سب ایک وفد کی صورت میں سربراہ مملکت کی خدمت میں پیش ہوئے۔ سربراہ خوش ہوئے چلو میری قوم میں ابھی عقل والے موجود ہیں مگر انھوں نے جو درخواست کی ملاحظہ ہو۔
“عالی جناب کے حکم کے مطابق ہم چھتر تو کھا لیتے ہیں مگر اس سے ہمارا بہت سارا وقت ضائع ہوجاتا ہے اس لیے درخواست ہے کہ چھتر مارنے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد معقول حد تک بڑھائی جائے تاکہ عوام کو چھتر کھانے میں تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔”
وفد کے جانے کے بعد سربراہ مملکت محو حیرت تھے کہ مشیران بولے حضور ہم نہ کہتے تھے یہ قوم ہی گدھی اور بے عقل ہے۔
خیر یہ تو لطیفہ تھا ہم اس کا ذکر حاسد سے کر بیٹھے تو بڑے تلخ ہوکر بولے” وہ قوم کوئی اور نہیں پاکستانی قوم تھی۔” ہم حیران و پریشان وہ کیسے۔ تو جواب ملا ” خود دیکھ لو کیا حالات ہیں اور ان کے لچھن کیا ہیں۔”
تو صاحبو ہم نے تو جائزہ لے لیا اب آپ بھی جائزہ لیں اور سوچیں کہیں حاسد نے ٹھیک ہی تو نہیں کہا۔
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...