محفوظاتِ تحاریر
مونو (Mono) میری نظر سے
منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے “قابل پڑھائی” کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔![]()
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔
محفوظاتِ تحاریر
لینکس کی ہلکی پھلکی ڈِسٹروز
لینکس میں اس وقت کئی تصویری مواجے دستیاب ہیں۔ جیسے گنوم ، کیڈی اور ایکس ایف سی ای۔ اول الذکر دو ڈیسکٹاپ ماحول نسبتًا ماڈرن پی سی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان میں تبدیلیاں بہت تیزی کے ساتھ آتی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد صارف کو ایک مکمل تصویری مواجہ فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ ہر کام اپنے لینکس سسٹم ہر رہتے ہوئے کرسکے۔ چناچہ ان تصویری مواجوں کو استعمال کرنے والے بھی زیادہ ہیں اور ان کی “پیدائیشی” ڈویلپمنٹ کٹس میں تیار کئے گئے اطلاقیے لینکس دنیا میں تھوک کے حساب سے مل جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا مقصد ہر سہولت تصویری مواجے میں فراہم کرنا ہے اس لیے پرانے پی سی جیسے پی ٹو 450 میگا ہرٹز پر ان کا چلنا خاصا اوکھا کام ہے۔ خصوصًا کیڈی تو پرانے پی سی کا ویری ہے ذرا سی میموری کم ہے یا سپیڈ کم ہے تو سسٹم اڑیل ٹٹو کی طرح بار بار کھڑا ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف لینکس کے لیے کچھ ایسے تصویری مواجے بھی دستیاب ہیں جو یا تو بہت ہی ہلکے پھلکے ہیں یا پھر ان کے اطلاقیے نسبتًا سادہ اور کام چلاو پالیسی کے تحت بنائے گئے ہیں۔ ایسے مواجے عمومًا فائل مینجر کہلاتے ہیں۔ کیڈی اورگنوم میں بھی فائل مینجر ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جہیز میں اور بھی بہت کچھ آجاتا ہے۔ ان کی عام مثال فلکس باکس

اور انلائٹمنٹ وغیرہ ہیں۔ یہ فائل مینجر سادہ، آسان اور ہلکے پھلکے ہیں چناچہ اگر آپ کا پی سی دادا پڑدادا قسم کا ہے تو اچھی رفتار کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیجیے۔
جہاں تصویری مواجے کی سطح پر یہ تحریک چل رہی ہے وہیں ڈسٹرو کی سطح پر بہت سی ہلکی پھلی ڈسٹروز موجود ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانے 486 سسٹم پر بھی یہ ڈسٹروز چل جاتی ہیں۔ پپی لینکس اس قسم کی ڈسٹروز کی مثال ہے۔
پپی لینکس سے قطع نظر چونکہ ہم بھی 486 کو اب کوڑے کی زینت بنانا پسند کریں گے ہم آپ کو پی ٹو اور تھری سسٹمز کے لیے ایک آدھی اچھی اور ہلکی پھلی ڈسٹرو کا مشورہ دیں گے۔ اوبنٹو کے ایک عاشق نے فلکس باکس کو اوبنٹو پر لگا کر ایک نئی ڈسٹرو بنائی ہے۔
فلکس بنٹو اوبنٹو کی روائیتی آزادی اور فلکس باکس کے “ہلکے پن” کے ساتھ پرانے پی سی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سادہ سا ٹیکسٹ بیسڈ انسٹالر استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔
اسی قسم کی ایک اور تحریک مینڈریوا کے فورمز پر بھی چل رہی ہے۔
جہاں مینڈریوا کا ایک ہلکا پھلکا بہروپ تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اگر دیسی چیز استعمال کرنے کا ارادہ ہے تو اردو سلیکس بھی استعمال کرسکتے ہیں جسے محمد علی مکی نے کچھ فونٹس اور وال پیپرز ڈال کر “مسلمان” کیا ہے۔
محفوظاتِ تحاریر
اوبنٹو 7.10 گسٹی گبن
ٹھیک گیارہ دن بعد اوبنٹو کا نیا ورژن گسٹی گبن جاری کیا جارہا ہے۔ اس ورژن میں کافی ساری نئی چیزیں متعارف کروائی گئی ہیں۔
- گوگل ڈیسکٹاپ جو اس سال لینکس کے لیے بھی جاری کردیا گیا تھا کے مقابلے پر اوبنتو اور کبنٹو دونوں میں ڈیسکٹاپ تلاش گر متعارف کروائے گئے ہیں۔ امید ہے یہ "پیدائشی" اطلاقیے گوگل ڈیسکٹاپ کی نسبت بہتر اور تیزی سے کام کریں گے۔
- این ٹی ایف ایس فائل سسٹم کی رائٹنگ سپورٹ شامل کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے اوبنٹو لینکس اور اس کے "بچڑے" صرف اس کو پڑھ ہی سکتے تھے۔ یہ کام این ٹی ایف ایس 3 جی نامی ایک ڈرائیور کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
- اوبنٹو میں سہ جہتی اثر کے لیے کمپز بیرائل طےشدہ طور پر شامل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ کا سسٹم اس قابل ہے (یعنی کم از کم 512 میگا بائٹ ریم اور 64 میگا بائٹ سے زیادہ گرافکس کارڈ میموری والا) تو سہ جہتی ڈیسکٹاپ خود بخود دوران تنصیب فعال ہوجائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ صرف اوبنٹو میں کیا گیا ہے۔ کبنٹو میں یہ سارا کام خود سے کرنا ہوگا۔
- کبنٹو میں کنکرر کی چھٹی کرکے ڈولفن کو فائل مینجر بنا دیا گیا ہے۔ اگرچہ کنکرر بھی یہ کام کرتا رہے گا۔
- کے ڈی ای 4 اس اشاعت میں شامل نہیں۔ اس کا مستحکم ورژن اکتوبر کی بجائے اب نومبر میں متوقع ہے۔
- کبنٹو میں ایجوکیشن اوبنتو کے پیکج شامل کردیئے گئے ہیں۔ ایجو اوبنتو اصل میں اوبنٹو کا ایک بچڑا ہے جو کہ خصوصًا بچوں اور اساتذہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن اس کے سارے اطلاقیے کے ڈی ای ایجوکشن پروجیکٹ سے لیے گئے ہیں جبکہ ڈیسکٹاپ گنوم ہے۔ اب یہ سارے اطلاقیے آپ کبنٹو میں ایک کمانڈ سے نصب کرسکتے ہیں۔
sudo apt-get install edubuntu-desktop-kde
- فائر فاکس اور کنکرر میں پلگ انز کی تنصیب زیادہ آسان کردی گئی ہے۔ خصوصًا فائر فاکس میں اب انھیں ونڈوز کی طرح پلگ ان سرچ سے ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
- اوبنٹو میں سکرین ریزولوشن کم زیادہ کرنے کے لیے ایک ٹول شامل کیا گیا ہے
- ملکیتی ڈرائیورز کو منظم کرنے کے لیے ایک ڈرائیور مینجر الگ سے دونوں میں شامل کیا گیا ہے۔
- اوبنٹو میں پرنٹرز کی تنصیب کے بارے میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔ اب یہ خودکارانہ نصب ہوتے ہیں۔
- اوبنٹو میں غیر مفت پروگرام انسٹال کرنے کے لیے ایک پیکج ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا پیکج اب کبنٹو کے لیے بھی kubuntu-restricted-extras کے نام سے دستیاب ہے۔ اس میں جاوا، فلیش پلئیر، کوڈکس وغیرہ شامل ہیں۔
- کبنٹو کا آرٹ ورک اور اس کی دستاویزات کو بھی جدید کیا گیا ہے۔
ہم تو ابھی سے دانت تیز کررہے ہیں کہ سسٹم کو اپگریڈ کریں۔ 
محفوظاتِ تحاریر
اردو مارفالوجی ایپلیکیشن
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔
محفوظاتِ تحاریر
کے ڈی ای کا میوزک پلئیر ایماراک
کے ڈی ای کے میوزک پلئیر ایماراک کا ورژن 1.4.6 اب دستیاب ہے۔ اگر آپ کو اپڈیٹ مینجر نے ابھی تک اس سے مطلع نہیں کیا تو سنیپٹک پیکج مینجر سے جاکر پہلے ری لوڈ سے سافٹویر لسٹ تازہ کریں اور اس کے بعد اپگریڈ کے ذریعے تازہ ترین سافٹویر نصب کرلیں۔
اگر یہ سب کمانڈ لائن سے کرنا چاہتے ہیں تو ٹرمینل کھولیں اور یہ کمانڈ دیں۔
sudo apt-get update
اور اس کے بعد یہ کمانڈ دیں۔
sudo apt-get upgrade
کچھ ہی دیر میں آپ کے پاس تازہ ترین ایماراک ہوگا۔ اس میں نیا کیا ہے؟
بہت سارے بگ فکسز
آئکنز کا ایک نیا سیٹ جو کے ڈی ای چار کے آکسیجن آئکنز جیسے ہیں۔ ایماراک دو میں آکسیجن آئکن کو مکمل متعارف کروایا جائے گا۔
ایس کیو ایل لائٹ کا نیا ورژن جو آپ کے گانوں کی ڈیٹا بیس بنانے میں زیادہ معاون ثابت ہوگا۔
اور ہاں ایپل کے راک باکس آئی پاڈ کی سپورٹ بھی اس میں شامل ہے۔
وسلام



