محفوظاتِ تحاریر
رمضان مبارک
تمام احباب کو رمضان کی خوشیاں مبارک۔
احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔
ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
ہالی وڈ یا بالی وڈ؟
دونوں ہی۔
پیپسی یا کوک؟
جو مل جائے
کراچی یا لاہور؟
فیصل آباد
سیب یا انگور؟
غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے
پاپ یا راک؟
جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔
چائے یا کافی؟
چائے ہی۔
نہاری یا حلیم؟
حلیم کبھی کبھار۔
فورمز یا بلاگ؟
دونوں
دوست یا کزن؟
دوست
کرکٹ یا فٹ بال؟
کرکٹ
پرسکون یا پریشان؟
منحصر بہ وقت
چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔
مورخہ سات مارچ سے میرے سمسٹر فائنل ٹیسٹ ہورہے ہیں جو چودہ مارچ کو ختم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد میں ایک بار پھر ویلا مصروف ہوجاؤں گا۔ بی کام کرنے کے بعد پتا ہی نہیں لگا ڈیڑھ سال گزر گیا۔ میرے ہم جماعت اس وقت اپنا ایم بی اے اور ایم کام مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ جبکہ میں ابھی تک لنڈورا ہی پھر رہا ہوں۔
اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔ میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔
اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔ ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟
ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔
بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔
میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔
اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔
اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔
اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔
اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک
پانچویں جماعت پاس کی تو والدین نے بڑے دلار سے مدرسے میں داخل کروا دیا کہ بچہ قرآن حفظ کرلے تو سات پشتیں بخشی جائیں گی۔ بچہ بھی بہت خوش تھا کہ قرآن حفظ کرنا ہے۔ بڑے اہتمام سے موٹی مشین سے ٹنڈ کروائی اور خوشی خوشی مدرسے کو گیا۔ قاری جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت مارتا ہے نے اپنے مخصوص انداز میں کچھ باتیں کرنے کے بعد داخل کرلیا۔ وقت دھیرے دھیرے گذرنے لگا۔
کوئی اڑھائی ماہ میں نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھ لیا۔ قاعدے کی گردان ہوئی۔ ایک نگران نے سنا اور اسے پاس کرکے اگلے درجے میں بھیج دیا گیا۔ اس کو سو روپے لانے کو کہا گیا جن کے عوض اسے آخر پانچ سپاروں کا سیٹ دے دیا گیا جو اکٹھے جلد کئے ہوئے تھے۔ آخری سپارہ حفظ کیا گیا۔ اس کی ترتیب ذرا مختلف تھی تاکہ نیا بچہ آسانی سے حفظ کرسکے۔ چناچہ آسان سے مشکل کی طرف والی اس ترتیب کو قرآن کی ترتیب کے مطابق کیا گیا۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ کوئی ایک سات آٹھ ماہ میں دو سپارے ختم ہوچکے تھے جب اسے پہلا دورہ پڑا۔ میں نے پڑھنے نہیں جانا۔ ایک دن گھر واپسی پر وہ اڑ گیا۔ مدرسے کی ٹائمنگ صبح فجر سے رات عشاء تک تھی۔ آٹھ بجے ناشتے کی چھٹی آدھ گھنٹا۔ دوپہر ساڑھے بارہ سے ظہر اور شام عصر سے مغرب تک کی رخصت ملا کرتی تھی۔ لیکن بچے کو لگتا تھا جیسے اسے قید کردیا گیا ہے۔ سارا سارا دن دونواز بیٹھ کر قرآن کو رٹنا اوررات کو آکر سوجانا۔۔۔اس اڑی کا قاری کو پتا چلا تو اس نے پہلے کرسی لگوایا۔ پھر ٹانگیں اوپر کروا کر تشریف کی مزاج پرسی کی۔ بچے کو فورًا یاد آگیا کہ یہ سب شیطان کی کارستانی تھی ورنہ وہ تو اب بھی پڑھنے کو تیار ہے۔۔
بچہ سیدھا ہوگیا اور پڑھائی پھر سے چلنے لگی۔ کچھ مزید عرصہ گزر گیا۔ ایک بار پھر وہی بخار چڑھا تو قاری نے جعمرات اور جعمے کی اکلوتی ہفتہ وار چھٹی بند کردی۔ دو ہفتے چھٹی بند رہی تو بچہ پھر راہ راست پر آگیا۔ اس دوران قاری نے اپنا مدرسہ بنانے کے لیے زمین خرید لی اور پہلا مدرسہ جہاں وہ تنخواہ دار تھا چھوڑ دیا۔ اکثر طلباء اس کے ساتھ نئے مدرسے چلے گئے کچھ پرانے مدرسے میں رہ گئے۔ کچھ عرصہ پھر سکون سے گزرا اور پھر بچے کو دورہ پڑا۔ اب کے یہ بہت شدید تھا جمعے کے دن بچہ ریل پر بیٹھ کر اپنی نانی کے پاس پہنچ گیا۔ آخر گھر والے اسے سمجھا بجھا کر واپس لے آئے لیکن سکون عارضی ثابت ہوا۔ نیا مدرسہ عارضی سی عمارت تھی۔ چناچہ بچہ پھر سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ بھاگ کر سیدھا اسٹیشن پہنچ گیا لیکن گھر والوں کے پتا چل گیا اور اسٹیشن سے اسے پکڑ لیا گیا۔ گھر تک اس کی ٹھکائی ہوتی رہی۔ آخر گھر والوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مدرسے سے ہٹا لیا گیا۔ بچے کی رٹ تھی کہ اور جگہ داخل کروا دیں یہاں نہیں پڑھوں گا۔۔۔آخر اسے ایک اور شہر میں اقامتی درسگاہ میں داخل کروادیا گیا۔ لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہاں سے بھاگ کر پھر گھر آگیا۔ اب اس کی رٹ تھی کہ میں نے قرآن حفظ ہی نہیں کرنا۔ گھر والوں نے بہتیرا سمجھایا لیکن اس کے بھیجے میں بات نہ آسکی۔۔چناچہ اسے چھٹی میں داخل کروا دیا گیا۔ ذہین تھا آدھا سال ضائع ہونے کے باوجود دوسرے بچوں سے آگے نکل گیا۔۔۔
وہ بچہ آج بی کام ہے، لسانیات میں بہت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اس کی محبوبائیں ہیں۔۔۔ وہ بچہ یعنی منکہ مسمی شاکر عزیز آپ کے سامنے اپنی زندگی کا ایک تلخ پہلو کھول رہا ہے۔ شاید کتھارسس کے لیے یا پھر اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔۔ زندگی کا وہ ڈیڑھ سال میری شخصیت سازی میں بہت حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت کا احساس اب تک میرے ذہن سے نہیں مٹتا کہ خادم القرآن کہلوانے والے اتنے سخت دل کیوں ہوتے ہیں۔ عجیب عجیب سزائیں کیوں دی جاتی ہیں۔ شاکر شاید آج حافظ شاکر ہوتا اگر وہ قاری اتنا مارنے والا نہ ہوتا، یا وہ شیڈیول اتنا ٹف نا ہوتا جو پڑھائی کی بجائے قید لگتا تھا۔۔یا شاید اس کی نیت ہی خراب تھی۔۔۔لیکن وہ ڈیڑھ سال اگر ضائع نہ ہوتا میں کہیں اور ہوتا۔۔۔۔وہ ڈیڑھ سال بس ایسے ہی ماضی کا وہ ورق بن گیا جسے الٹتے ہوئے بہت سی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔اور احساس ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی نعمت سے محروم رہ گیا۔۔۔قرآن جسے میرے سینے میں نقش ہونا تھا نہ ہوسکا۔۔۔جو چند سپارے یاد تھے وہ بھی آہستہ آہستہ محو یادداشت ہوگئے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قرآن یاد کرنے کو تم ایسے پاؤ گے جیسے اونٹ ہے جس کے گلے میں رسی ڈالی گئی ہو اور وہ اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرے۔۔ قرآن یاد کرنا اور اس کو یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کے نصیب میں تھا ہی نہیں شاید۔۔آج جب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے ایک نہیں کئی خطائیں کی تھیں۔۔۔اللہ کی کتاب کو یاد نہ کرسکا جو یاد تھی اسے بھلا ڈالا تو میری زبان پر استغر اللہ الذی لا الہ الا ہوا الحی القیوم و اتوب الیہ کا ورد جاری ہوجاتا ہے۔ میرا مالک مجھے معاف کرے میں بہت گناہگار ہوں۔۔
یہاں لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میں نے لکھ ڈالا، اس امید کے ساتھ کہ آپ اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں گے۔
وسلام
لو جی بدتمیز کو مبارکباد ان کی سالگرہ پر۔ ویسے تو ہمارا آج کل لکھنے کو ککھ بھی دل نہیں کررہا۔ اس بہانے ایک اور پوسٹ ہی سہی۔ اللہ تم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ رکھے۔ آمین۔
محمد علی مکی کو عربی اور عربوں سے روحانی قسم کی وابستگی ہے۔ چناچہ سافٹویرز کو عربی سے اردو کرنا ان کی اضافی خوبی ہے۔ اردو کوڈر کو بھی ایک عربی فورم پیکج پر اپگریڈ کردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ساتھ عربی مترجم لائیں ۔۔۔سافٹویر کا اردو ترجمہ احتیاطًا کردیا گیا تھا۔ یہ فورم سافٹویر پی ایچ پی بی بی کی اولاد میں سے ہی لگتا ہے شاید اس کا کوئی کزن شزن ہے۔ یعنی تھوڑا سا مختلف ہے کچھ اختیارات زیادہ ہیں جیسے ذیلی فورم وغیرہ۔ چناچہ آپ بلاخطر تشریف لائیے اور ہمیں اس اپگریڈ کی خوبیوں اور خامیوں سے بھی آگاہ کیجیے۔ فورم کا ٹیپلیٹ ابھی ڈیفالٹ سا ہے اسے بدلنا ہے۔
وسلام
اردو کوڈر فورمز اپگریڈ کے سلسلے میں بند ہیں۔ محمد علی مکی آج اسے پی ایچ پی بی بی کے ایک ایکسٹرا پیکج پر اپگریڈ کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ آپ اور میں دونوں دیکھتے ہیں کہ کیا بنتا ہے یا تو اپگریڈ ہوجائے گا یا موج ہوجائے گی۔ ![]()
عید کی نماز میں ایک گھنٹے کے قریب وقت رہ گیا ہے اور میں اس وقت تمام دوستوں کو ایس ایم ایس کرنے بیٹھا ہوں۔ سوچا یہ پوسٹ بھی لکھ لی جائے۔
ّ
خوش رہیے مسکراتے رہیے شاد آباد رہیے۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کریم آپ کی قربانی قبول کرے اور ہم سب پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت رکھے۔
آمین