محفوظاتِ تحاریر
June 27th, 2007بذریعہ
آپ کو شاید میرا بلاگ ٹھیک نظر نہ آرہا ہو۔ آصل میں اس کے تھیم میں کچھ مسئلہ آگیا ہے جس کہ وجہ سے مجھے تھیم بدلنا پڑا۔ اب لینکس کے صارفین کو بلاگ پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہوگا۔ لیکن ایک دو دن تک میں اسے ٹھیک کردوں گا۔
تب تک کے لیے معذرت
وسلام

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 26th, 2007بذریعہ
کے ڈی ای کے میوزک پلئیر ایماراک کا ورژن 1.4.6 اب دستیاب ہے۔ اگر آپ کو اپڈیٹ مینجر نے ابھی تک اس سے مطلع نہیں کیا تو سنیپٹک پیکج مینجر سے جاکر پہلے ری لوڈ سے سافٹویر لسٹ تازہ کریں اور اس کے بعد اپگریڈ کے ذریعے تازہ ترین سافٹویر نصب کرلیں۔
اگر یہ سب کمانڈ لائن سے کرنا چاہتے ہیں تو ٹرمینل کھولیں اور یہ کمانڈ دیں۔
sudo apt-get update
اور اس کے بعد یہ کمانڈ دیں۔
sudo apt-get upgrade
کچھ ہی دیر میں آپ کے پاس تازہ ترین ایماراک ہوگا۔ اس میں نیا کیا ہے؟
بہت سارے بگ فکسز
آئکنز کا ایک نیا سیٹ جو کے ڈی ای چار کے آکسیجن آئکنز جیسے ہیں۔ ایماراک دو میں آکسیجن آئکن کو مکمل متعارف کروایا جائے گا۔
ایس کیو ایل لائٹ کا نیا ورژن جو آپ کے گانوں کی ڈیٹا بیس بنانے میں زیادہ معاون ثابت ہوگا۔
اور ہاں ایپل کے راک باکس آئی پاڈ کی سپورٹ بھی اس میں شامل ہے۔
وسلام

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 25th, 2007بذریعہ
ہمارے والد صاحب فرمایا کرتے ہیں "جد کُنڈ چُک لیا فیر نچنے توں کی ڈرنا" یعنی گھونگھٹ اٹھا لیا تو ناچنے سے کیا گھبرانا۔ سو ہم نے بھی آنکھیں بند کرکے غوطہ لگا دیا۔ کل سے اسی فری ہوسٹ پر ہمارا انگریزی بلاگ بھی فنکشنل ہوچکا ہے۔اس کا مقصد سادہ سا ہے۔ انگریزی میں اپنی استعداد کار کو بڑھانا چونکہ ہماری روزی روٹی اب اس سے وابستہ ہوچکی ہے ۔ نیز ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق کچھ اشتہارات وغیرہ عوام کو دکھا کر مشتہرین سے پیسے بٹورنا۔
ہم احباب سے فردًا فردًا بھی درخواست کریں گے لیکن اس تحریر کو پڑھنے والے احباب اسے اپنے انگریزی روابط میں شامل کرلیں تو ہم ان کے تاعمر ابھاری رہیں گے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 22nd, 2007بذریعہ
عرصہ دراز سے ملک کے مختلف حصوں سے خودمختاری دینے کے مطالبات آرہے ہیں لیکن ہر حکومت نے اس کو پس پشت ڈالا ہے۔ اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چھوٹے صوبے اور آئینی حقوق سے محروم یہ علاقے سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور اسلام آباد کو نفرت کے نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔
« تحریر کا بقیہ پڑھیں

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 21st, 2007بذریعہ
پھڑ نقطہ چھڈ حساباں نُوں
چھڈ دوزخ گر عذاباں نوں
کر بند کفر دیاں کتاباں نوں
کر صاف دلے دیاں خواباں نوں
گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے
اک نقطے وچ گل مکدی اے
ایویں متھا نئیں زمیں تے گھسائی دا
پالما محراب دکھائی دا
پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا
دل اندر سمجھ نہ لائی دا
کدی سچی گل وی لُکدی اے
اک نقطے وچ گل مکدی اے
اک جنگل بحریں جاندے نیں
اک دانہ روز دا کھاندے نیں
بے سمجھ وجود تھکاندے نیں
گھر آون ہوکے ماندے نیں
چلیاں اندر جند سکدی اے
اک نقطے وچ گل مکدی اے
کئی حاجی بن بن آئے جی
گل نیلے جامے پائے جی
حج ویچ، ٹکے لے کھائے جی
پر ایہہ کھل کینہوں بھائے جی
کتھے سچی گل وی رُکدی اے
اک نقطے وچ گل مُکدی اے
بلھے شاہ

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 15th, 2007بذریعہ
محفوظاتِ تحاریر
June 3rd, 2007بذریعہ
ہمارا موڈ بھی عجیب ہے۔ جب پرچے قریب آجائیں پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ لوگ پرچے قریب آنے پر حاجی ہوجاتے ہیں۔ مسجد میں حاضریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ زبان پر استغفار کا ورد ہر وقت رہنے لگتا ہے۔ نظریں نیچی اور ہاتھوں میں کتابیں آجاتی ہیں۔ گوشہ نشینی اور راہبانیت اپنا لیتے ہیں۔ اور ایک ہم ہیں۔
سال کے شروع سے لے کر بڑی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ ہر ٹاپک ہماری ٹانگ تلے ہوتا۔ کلاس میں ٹور الگ ہوتی ہے۔ اور پرچے نزدیک آجائیں تو کام ختم۔ کہاں کی کتابیں۔ کل ہمارا پرچہ ہے اور ہم صبح سے انٹرنیٹ کے سامنے جمے ہوئے ہیں۔ یونہی کے ڈی ای کی وضع قطع درست کررہے ہیں۔ تھیم ڈاؤنلوڈ ہورہے ہیں۔ ویب سائٹس کا وزٹ ہورہا ہے یہ کہہ کر کہ بس یہی آخری۔ ای میلز چیک ہورہی ہیں۔ رات ایک فلم آئی تھی اس کو دیکھا ہے۔ یعنی پڑھائی کے علاوہ ہر کام۔
سمجھ سے باہر ہے یہ رویہ۔ آخر کس چیز کا ڈر ہے جو پڑھنے سے روکتا ہے۔
کیا آپ اس کے پیچھے کارفرما نفسیاتی وجوہات بتا سکتے ہیں؟ شاید ہم اپنے آپ کو ٹھیک کرسکیں۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
June 1st, 2007بذریعہ
محفل پر ایک نہایت ہی محترم رکن نے دوران گفتگو یہ بات کی کہ پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ان کی باتوں کے آغاز میں گالی درمیان میں گالی اور آخر میں بھی گالی ہوتی ہے۔
میں ایک پنجابی ہوں۔ پنجاب کے ایسے شہر کا رہنے والا جو قریبًا پنجاب کے درمیان میں واقع ہے۔ سوچا اس پر کچھ تحقیق کروں۔ محفل پر کچھ احباب نے اوپر دئیے گئے اس بیان پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے بھی ایک نہیں لکھ مارا کہ ایسا نہیں۔ لیکن بعد میں جب تسلی سے سوچا تو نتیجہ کچھ اور نکلا۔ میں کوشش کروں گا کہ اس سارے سلسلے کو غیر جانبدار ہوکر دیکھ سکوں۔
« تحریر کا بقیہ پڑھیں

Loading ...