آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟

November 30th, 2007بذریعہ

زکریا کا یہ اعتراض وزن دار ہے کہ پاکستانی بلاگز انگریزی میں‌ بھی تو ہیں تو پھر اردو میں کیوں نہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میں‌کمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں‌ کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میں‌اپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں‌ ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں‌ تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں‌ ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو میں بلاگنگ کیوں نہیں؟

November 30th, 2007بذریعہ

محب علوی نے اہم مسئلہ اٹھایا ہے کہ جب ساری دنیا میں لوگ بلاگنگ کو اتنا سنجیدگی سے لے رہے ہیں تب پاکستان میں لوگ اسے کھیڈ تماشا کیوں سمجھ رہے ہیں۔
میں آپ کو اپنی بات بتاتا ہوں۔ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ والد ناشتے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کا خرچہ مرچہ میں اپنے پلے سے پورا کرتا ہوں یا چھوٹے بھائی کی مہربانی کہ وہ کام کرتا ہے اور کیبل نیٹ کی فیس اکثر دے دیا کرتا ہے۔ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ساتھ اس لیے اکثر و بیشتر پایا جاتا ہوں کہ میرا سوشل سرکل بہت محدود ہے۔ خاندان میں‌ پچھلے دس سال سے کوئی شادی اٹینڈ نہیں کی میں نے۔ دوست وہ جو یونیورسٹی وغیرہ میں ہیں۔ محلے میں بس کسی کسی سے سلام دعا ہے۔ تو میں جب کچھ نہیں کرتا تو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنا خون جلاتا ہوں۔ سڑتا کڑھتا ہوں اور بلاگنگ کرتا ہوں۔
اگر میں ایسا کرتا ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں کرتے؟
اول تو کسی کو اس کا شعور ہی نہیں۔ لوگ انٹرنیٹ کے بارے میں جانتے ہیں بلاگنگ کے بارے میں نہیں۔ میرے چھوٹے بھائی کو پتا ہے کہ میں بلاگنگ بھی کرتا ہوں۔ لیکن وہ اسی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر آرکٹ کو وزٹ کرنا پسند کرتا ہے اور کسی بی بی سے چیٹ کرنا اسے زیادہ مرغوب ہے۔
جو لوگ اس وقت بلاگنگ کررہے ہیں ان میں سے بہت سے بیرون ممالک سے بلاگنگ کرتے ہیں۔ یا کم از کم پردیس پلٹ ہیں۔
پاکستان میں بلاگنگ کرنے والے یا تو فارغ و البال قسم کے احباب ہیں۔ یا پھر وہ معاشی طور پر خوشحال لوگ ہیں۔ میرے جیسے چند ایک ہی ہیں یا پھر وہ لوگ جن کا وقت زیادہ تر نوکری کے سلسلے میں کمپیوٹر پر گزرتا ہے۔
انٹرنیٹ پر وقت یہاں فحش ویب سائٹس دیکھنے اور اس کے بعد چینٹنگ کرنے اور آرکٹ جیسی ویب سائٹس کو دیکھنے میں گزرتا ہے۔
بلاگنگ کیا خاک ہوگی؟
ابھی پاکستانیوں کو کم از کم پانچ سال مزید چاہییں کہ انھیں ٹیکنالوجی کا صحیح اندازہ ہوسکے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سکائپ لینکس بی‌ٹا 2

November 29th, 2007بذریعہ

سکائپ نے لینکس کے لیے اپنا بی ٹا 2 ورژن جاری کردیا ہے۔ اس ورژن میں ویڈیو کالز کی سہولت شامل کی گئی ہے۔ یہ سہولت سکائپ کے ونڈوز اور میک ورژنز میں موجود تھی لیکن لینکس ورژن میں اسے اب شامل کیا گیا ہے۔ سکائپ کو لینکس پر ویڈیو کالز کے لیے استعمال کرنے کے سلسلے میں سب سے بڑا مسئلہ سپورٹ شدہ ویب کیم ڈھونڈنا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لینکس کے ساتھ ہارڈوئیر والے سوتیلوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔اس وقت سکائپ بی ٹا کے بائنری پیکجز اوبنٹو 7.04، ڈیبین 4 اییچ، میپش، زنڈراس، سینٹ او ایس، فیڈورا کور 6، فیڈورا 7، اوپن سوسی 10 و جدید اور مینڈریوا کے لیے دستیاب ہے۔
سکائپ کو اوبنٹو میں انسٹال کرنے کے لیے یہ پیکجز درکار ہونگے: Qt 4.2.1, D-Bus 1.0.0, اور libasound2 1.0.12۔ سکائپ کے مواجے میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ آپشنز کے مینیو میں ایک نئے زمرے ویڈیو ڈیوائسز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو کوڈر “ری لوڈڈ”

November 28th, 2007بذریعہ

محمد علی مکی ایک عرصے تک اردو کوڈر فورم چلاتے رہے ہیں۔ پھر گردش زمانہ اور عنایت خسروانہ فری ہوسٹ کی وجہ سے یہ فورم ڈیلیٹ ہوگیا۔ کچھ عرصے تک آفلائن رہنے کے بعد کچھ میرے کہنے اور کچھ اپنے کہنے پر مکی بھائی نے اردو کوڈر فورم پھر سے شروع کیا ہے۔ فری ہوسٹ پر دوران اپگریڈ ان کی ہارڈ ڈسک کریش کرگئی اور سارا قیمتی ڈیٹا برباد ہوگیا۔ چناچہ اب ہمیں دوبارہ صفر سے گنتی گننی پڑ رہی ہے۔ اس بار اردو کوڈر کا مقصد صرف لینکس ہے۔ لینکس کے سافٹویرز، مسائل، ٹیوٹوریلز اور اوپن سورس کی خبریں سب کچھ اردو میں فراہم کیا جائے گا۔ یہ دعوٰی تو نہیں کہ یہ اردو میں‌ بہترین لینکس فورم ہوگا لیکن ہماری پوری کوشش رہے گی اس سلسلے میں۔ اردو کے ہر فورم کا دعوٰی ہے کہ وہ “فلانا” پہلا یونیکوڈ فورم ہے تو ہم بھی دعوٰی کیے دیتے ہیں۔
یونیکوڈ اردو میں “پہلا لینکس فورم”۔ :D :D :D خیر یہ تو مذاق تھا۔ دعا کیجیے گا کہ ہم اپنی انفرادیت کو قائم رکھ سکیں اور اچھی سروس دے سکیں۔ اس سارے خطبے کے بعد بھی اگر آپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ آپ کو فورم پر آنے کی دعوت دی جارہی ہے تو پھر یا میں پاگل ہوں یا پھر۔۔۔۔میں ہی پاگل ہوں۔ ;) :D آپ کو تو کہہ نہیں سکتا کہ آپ ہمارے متوقع صارف بھی ہوسکتے ہیں۔ ;) چناچہ پاء جی تشریف لائیے اردو کوڈر پر ہم آپ کے منتظر ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

کنونشل نے اوبنٹولینکس ڈویلپرز سروس جاری کردی

November 28th, 2007بذریعہ

اوبنٹو لینکس نے سافٹویر ڈویلپمنٹ اور ڈویلپرز کے لیے ایک نئی سروس لانچ کی ہے۔ یہ سروس اوبنٹو کے ڈیسکٹاپ، سرور اور موبائل ایڈینشنز کے لیے اطلاقیے لکھنے میں استعمال کی جائے گی۔
کنونشیل لیمٹڈ جو اوبنٹو کو سپانسر بھی کرتے ہیں نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ نئی لانچ پیڈ پرسنل پیکج آرکائیو کو موجودہ لانچ پیڈ ڈویلپمنٹ ویب سائٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔ یہ گروپس کو پیکجز کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی ڈویلپرز کو بھی آزاد مصدر اطلاقیوں کے ذاتی ورژن ہوسٹ کرنے کی سہولت دے گی۔
ڈویلپرز پی پی اے کو استعمال کرتے ہوئے ایک گیگا بائٹ کی سپیس حاصل کرے گا جہاں وہ اپنا سافٹویر پیکج چڑھا سکے گا۔ جبکہ شریک کار اس میں ہاتھ بٹا سکیں گے۔ یہ سپیس کنونشل کی طرف سے صرف فری سافٹویر کے لیے فراہم کی جائے گی۔
“پی پی اے جو آزمائشی مراحل میں تھا اب مکمل طور پر جاری کردیا گیا ہے” کمپنی نے کہا
” بہت سے ڈویلپرز موجودہ پیکجز میں تبدیلی یا اپنے سافٹویرز کے نئے پیکج بنانا چاہتے ہیں” کرسٹان روبوٹم ریز جنھوں نے کنونشل میں پی پی اے کے پراجیکٹ کی قیادت کی ہے نے ایک بیان میں کہا۔ “پی پی اے سروس ہر کسی کو اوبنٹو کا ڈویلپر بننے کی اجازت حاصل کیے بغیر اپنا پیکج شائع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ فری سافٹویر برادری میں دھماکہ خیز اضافہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پی پی اے پراجیکٹ ڈویلپرز اور ڈویلپمنٹ ٹیموں کو ان کے سافٹویر سازی کے بہترین تصورات کو صارف تک پہنچانے اور ان سے آراء کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔”
“انھیں تجربہ کار پیکج کاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی موقع ملے گا۔” انھوں نے کہا۔” پی پی اے ایک تعمیر کار اور اشاعتی نظام ہے جس میں کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہم لانچ پیڈ سے موبائل ماحول کے لیے پیکجز تیار کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کے سلسلے میں کافی پرجوش ہیں۔ ”
کنونشل نے کہا کہ پی پی اے سروس ڈویلپرز کو براہ راست صارفین کے ساتھ ملادے گی اور صارفین یہ پیکج حاصل کرکے اپنے سسٹم میں صرف ایک اپڈیٹ سے نصب کرسکیں گے۔ نیز پی پی اے پر پیکج کا نیا ورژن جاری ہونے پر متعلقہ صارفین کو خودکارانہ اپڈیٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔
بحوالہ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

دنیا بھی آخرت بھی :D

November 26th, 2007بذریعہ

فری رائس ویب سائٹ پر جائیں۔ اپنا انگریزی کا ذخیرہ الفاظ بڑھائیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ ایک لفظ آپ کے سامنے ہے اور اس کے کچھ ممکنہ جوابات نیچے ہیں۔ جواب پر کلک کریں ٹھیک ہے تو مبارک ہو غلط ہے تو کوئی بات نہیں آپ کو ایک نئے لفظ کا مطلب پتا چل گیا۔ لیکن اتنا ہی نہیں آپ کو اس کے ساتھ ساتھ ہر صحیح جواب پر فری رائس اقوام متحدہ کو دس دانے چاول دان کرتی ہے تاکہ اسے انھیں امدادی پروگراموں میں استعمال کیا جاسکے۔ کہتے ہیں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ یہاں بھی دانہ دانہ کرکے بوری ہوہی جائے گی اور لفظ لفظ کرکے “لغت”۔۔
انجوائے کیجیے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر نوازشریف نے سرزمین پاک کو چھو ہی لیا!!

November 25th, 2007بذریعہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مارشل لاء حکومت کے صدر پرویز مشرف کے سعودی عرب کے مختصر دورے میں نجانے کیا کھچڑی پکی ہے کہ نواز شریف کو واپسی کی اجازت مل گئی ہے۔ حاسدوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس بار سعودی عرب بھی امریکہ کے ساتھ اس ڈیل میں ملوث ہے۔ مارشل لاء حکومت تو ایسے لگتا ہے جیسے شترمرغ ریت میں سر دے لیتا ہے۔ نواز شریف کی طرف سے بھی ایسے بیان آرہے ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارا ایجنڈا مختلف ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایجنڈا کیا ہے۔ حالات واقعی نو مارچ والے نہیں ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو ایک ڈگڈگی چاہیے تھی جو انھیں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں مل گئی اور انھوں نے اچھی طرح بجا بھی لی۔ اب کی بار ان کے پاس الیکشن کی ڈگڈگی ہے۔ جسے بجا کر انھیں اصلی تے وڈا فائدہ مل سکتا ہے۔ چناچہ ہر کوئی دبے پاؤں الیکشن کی تیاری میں ہے۔ چند ایک سرپھرے ہیں جو ببانگ دہل بائیکاٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ بلوچ پہلے ہی فوجی صدر سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکے ہیں۔ عمران خان ابھی ‘نواں آیاں اے سوہنیا’ ہے۔ وکلاء کو اپنے چیف جسٹس کی فکر ہے چناچہ وہ تو تحریک جاری رکھیں گے ہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اے پی ڈی ایم کی چھتری تلے نوازشریف کی طرف سے کیا حکمت عملی طے ہوتی ہے۔ آیا کوئی “درمیانی” راہ نکل آتی ہے یا۔۔۔۔۔بے نظیر نے تو آج کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے بیان دے دیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نتیجہ ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سوات: آخر بندوق ہی حل کیوں؟

November 25th, 2007بذریعہ

جب لال مسجد کے واقعے کے بعد سوات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی مجھے اسی وقت لگا تھا کہ اگلا وزیرستان سوات ہوگا۔ یہ بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے۔ آج سوات میں عام لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے۔ پاکستان کا سوئزرلینڈ کہلانے والی وادی اب اپنے رہائشیوں کے لیے جہنم بن گئی ہے۔ حملے، جوابی حملے، خودکش حملے ، فائرنگ، کوبرا اور جانے کون کونسے ہیلی کاپٹرز سے بمباری۔۔یہاں کے مکین اس دوہری آگ کی دیوار میں پس رہے ہیں۔
وہاں کے لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔ بارہ سو سے زیادہ سکول یا تو بے کار پڑے ہیں، یا مقامی طالبان انھیں عقوبت خانوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ آئے دن کے کرفیو نے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل کردیا ہے۔ جو تعلیمی ادارے کھلے بھی ہیں وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔
آخر ہماری سمجھ میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں؟ پاکستانی فوج کے سامنے ہمیشہ فتح کرنے کے لیے اپنا ملک ہی کیوں ہوتا ہے؟
ایک عرصے تک یہ بھیرویں الاپتے رہنے بعد کہ دہشت گردی کی تعریف متعین کی جائے اس کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے آج ہماری فوجی حکومت اس طرف سے آنکھیں بند کیے بم برسا رہی ہے اور بدلے میں خودکش دھماکے وصول رہی ہے۔ اس کے بنیادی اسباب ہیں ہی کیا کہ اسلام نافذ کرر؟
تو کردو نا۔ اسلام نافذ کرنا کیا حاکموں کی ذمہ داری نہیں؟ ان سے مل بیٹھ کر مذاکرات کرکے اسلام کے ایک ورژن پر متفق ہوا جاسکتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ اسلام کو انتہائی غلط انداز میں لے رہے ہیں تو فوج کونسا صحیح انداز میں لے رہی ہے۔ ان کے مطالبات مانگے جائیں جوابی مطالبات پیش کئے جائیں کسی جگہ تو دونوں اطراف میں اتفاق ہوجائے گا یا نہیں؟
فوج کے خیال میں جواب نہیں ہے اس لیے وہ اپنے کوبرا ہیلی کاپٹر، توپیں اور بندوقیں وہاں آزما رہے ہیں۔ اگر کوئی مر بھی جاتا ہے تو پانچ ہزار ماہانہ والا سپاہی ہی ہے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کی بیوہ اور بچوں کو قوم کے سپرد کرکے یہ لوگ آرام سے ریٹائر منٹ کی زندگی گزاریں گے۔ رہے مزاحمت کار اور عام لوگ تو وہ تو ہیں ہی کیڑے مکوڑے۔اول الذکر کا تو ٹھکانہ ہی جہنم ہے موخرالذکر اگر مارا بھی گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
زندہ باد ایسی عقلمندیاں اور پھرتیاں۔
سوات والوں کو اپنی پڑی ہے اور لاہور والوں کو اپنی۔ ایک کو جان کا ڈر ہے دوسرے کو نواز شریف کی آمد کا۔ کراچی میں اپنے مسئلے ہیں اور فیصل آباد میں اپنے۔ کوئی مرتا ہے مرے جیتا ہے جئیے کسی کو کیا۔ جس پر گزرے کی نمٹ لے گا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ایمرجنسی کے بعد امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے: تو پھر یہ کیا ہے؟

November 24th, 2007بذریعہ

ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں میں ایمرجنسی کا دفاع کرتے ہوئے مارشل لاء حکومت کے وکیل نے یہ دلائل دئیے تھے کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے ایمرجنسی لگائی گئی۔ موصوف کا یہ دعوٰی بھی تھا کہ امن و امان کی صورت اب بالکل ٹھیک ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق راولپنڈی میں دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نشانہ واضح طور پر پاکستانی فوج سے متعلقہ افراد تھے۔
میرا خیال سے امن و امان کی صورت حال واقعی “بہتر” ہوئی ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

لینکس کی ہلکی پھلکی ڈِسٹروز

November 24th, 2007بذریعہ

لینکس میں اس وقت کئی تصویری مواجے دستیاب ہیں۔ جیسے گنوم ، کیڈی اور ایکس ایف سی ای۔ اول الذکر دو ڈیسکٹاپ ماحول نسبتًا ماڈرن پی سی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان میں تبدیلیاں بہت تیزی کے ساتھ آتی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد صارف کو ایک مکمل تصویری مواجہ فراہم کرنا ہے۔ تاکہ وہ ہر کام اپنے لینکس سسٹم ہر رہتے ہوئے کرسکے۔ چناچہ ان تصویری مواجوں کو استعمال کرنے والے بھی زیادہ ہیں اور ان کی “پیدائیشی” ڈویلپمنٹ کٹس میں تیار کئے گئے اطلاقیے لینکس دنیا میں تھوک کے حساب سے مل جاتے ہیں۔ چونکہ ان کا مقصد ہر سہولت تصویری مواجے میں‌ فراہم کرنا ہے اس لیے پرانے پی سی جیسے پی ٹو 450 میگا ہرٹز پر ان کا چلنا خاصا اوکھا کام ہے۔ خصوصًا کیڈی تو پرانے پی سی کا ویری ہے ذرا سی میموری کم ہے یا سپیڈ کم ہے تو سسٹم اڑیل ٹٹو کی طرح بار بار کھڑا ہوجاتا ہے۔
دوسری طرف لینکس کے لیے کچھ ایسے تصویری مواجے بھی دستیاب ہیں جو یا تو بہت ہی ہلکے پھلکے ہیں یا پھر ان کے اطلاقیے نسبتًا سادہ اور کام چلاو پالیسی کے تحت بنائے گئے ہیں۔ ایسے مواجے عمومًا فائل مینجر کہلاتے ہیں۔ کیڈی اورگنوم میں بھی فائل مینجر ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جہیز میں اور بھی بہت کچھ آجاتا ہے۔ ان کی عام مثال فلکس باکس
Free Image Hosting at www.ImageShack.us
اور انلائٹمنٹ وغیرہ ہیں۔ یہ فائل مینجر سادہ، آسان اور ہلکے پھلکے ہیں چناچہ اگر آپ کا پی سی دادا پڑدادا قسم کا ہے تو اچھی رفتار کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیجیے۔
جہاں تصویری مواجے کی سطح پر یہ تحریک چل رہی ہے وہیں ڈسٹرو کی سطح پر بہت سی ہلکی پھلی ڈسٹروز موجود ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانے 486 سسٹم پر بھی یہ ڈسٹروز چل جاتی ہیں۔ پپی لینکس اس قسم کی ڈسٹروز کی مثال ہے۔
پپی لینکس سے قطع نظر چونکہ ہم بھی 486 کو اب کوڑے کی زینت بنانا پسند کریں گے ہم آپ کو پی ٹو اور تھری سسٹمز کے لیے ایک آدھی اچھی اور ہلکی پھلی ڈسٹرو کا مشورہ دیں گے۔ اوبنٹو کے ایک عاشق نے فلکس باکس کو اوبنٹو پر لگا کر ایک نئی ڈسٹرو بنائی ہے۔
فلکس بنٹو
اوبنٹو کی روائیتی آزادی اور فلکس باکس کے “ہلکے پن” کے ساتھ پرانے پی سی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس کی تنصیب کوئی مشکل کام نہیں۔ سادہ سا ٹیکسٹ بیسڈ انسٹالر استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔
اسی قسم کی ایک اور تحریک مینڈریوا کے فورمز پر بھی چل رہی ہے۔
جہاں مینڈریوا کا ایک ہلکا پھلکا بہروپ تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اگر دیسی چیز استعمال کرنے کا ارادہ ہے تو اردو سلیکس بھی استعمال کرسکتے ہیں جسے محمد علی مکی نے کچھ فونٹس اور وال پیپرز ڈال کر “مسلمان” کیا ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر