آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

اوپن سورس کی حکمت عملی

March 19th, 2008بذریعہ

میں پچھلے کچھ دنوں سے اس بارے میں پڑھ رہا ہوں سوچا آپ سے شئیر کرتا چلوں۔ رات الف نظامی سے بات ہوئی تو کہنے لگے تقسیم کرو اور فتح کرو کی پالیسی پر چلو۔ انھوں نے تو یہ سی شارپ سیکھنے کے تناظر میں کہا تھا لیکن میں اسے اوپن سورس کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔

آزاد مصدر پراجیکٹس زیادہ دیر نہ چل سکنے کے سلسلے میں خاصے بدنام ہیں۔ اکثر پراجیکٹ جو بہت مشہور ہوئے ان کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اچھی سپانسر شپ حاصل ہے اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ایک اور چیز جو میں نے ان مقبول پراجیکٹس کے بارے میں نوٹ کی وہ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سہولیات ہیں۔ غضب خدا کا آپ کو ہر چیز کا حل مل جاتا ہے۔ اب فائر فاکس کو ہی لے لیں اضافتوں کے نام پر آپ فائر فاکس کو جانے کیا کیا روپ دے سکتے ہیں۔ ایف ٹی پی ٹرانسفر کی سہولت، اس میں بیٹھ کر بلاگ لکھیں، آنلائن بک مارکس محفوظ کریں اور جانے کیا کیا۔۔

یہ اضافتوں والا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ آپ پروگرامر کو ایک حد تک اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ سافٹویر میں قابل تبدیلی اضافے کردے۔ اس حکمت عملی کی کامیاب مثالیں فائر فاکس اور ورڈپریس ہیں۔ اس کو بنیاد بنا کر اب کئی دوسرے پراجیکٹس بھی اس طرف آرہے ہیں۔ اوپن آفس مشہور زمانہ آزاد مصدر آفس پروگرام ہے۔ یہ پچھلے کچھ عرصہ سے اضافتوں کے سلسلے میں آگے آرہا ہے ۔اگرچہ یہ ابھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن اوپن آفس 3 جو کہ ستمبر اکتوبر کے قریب مارکیٹ میں آرہا ہے میں اضافتوں کے لیے اچھا فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اس سے اوپن آفس میں بہت زیادہ سہولیات میسر آجائیں گی۔ اس وقت اوپن آفس میں بہت سی چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں جو اس کے کمرشل متبادل مائیکروسافٹ آفس کے پانچ سال پرانے ورژنز میں بھی ہیں۔ عام سی مثال ایک عدد کلپ بورڈ ٹول ہے جو آپ کو فعال ہونے پر 24 کاپی کرنے کی اجازت دیتا ہے جنھیں آپ ترتیب وار ایسے ہی ورڈ فائل میں پیسٹ کرسکتے ہیں۔

مونو اور مونو ڈویلپ آج کل میرےعشق میں شامل ہیں اور میں سوتے میں بھی ان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ایک الگ داستان ہے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ مونو ڈویلپ بھی پلگ انز کی طرز پر خصوصیات اور فیچرز میں اضافے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت اگرچہ اس کے پلگ ان نوویل کے ہی تیار کردہ ہیں لیکن مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے کہ لوگ ایویں کھیڈ تماشے کے لیے اس کے پلگ ان تشکیل دے دیا کریں گے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بی‌ٹا کا اجراء

December 24th, 2007بذریعہ

ویکیا ایک اوپن سورس تلاش گر کا نام ہے۔ تلاش گری یعنی سرچ انجن کے میدان کا بادشاہ گوگل ہے۔ کبھی یاہو اور الٹا وسٹا کا نام بھی اسی ضمن میں بہت اونچا تھا آجکل لوگ ان کی طرف کم کم ہی جاتے ہیں۔ تلاش گری میں مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز لائیو سرچ کی صورت میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے لیکن گوگل کو ان پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

گوگل ٹاک میں اب زبانوں کے مابین ترجمہ

December 19th, 2007بذریعہ

اگرچہ یہ خبر اوپن سورس سے متعلق نہیں لیکن مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بارے میں‌ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی سہولت سے ایک زمانہ واقف ہے اور رزانہ لاکھوں‌ یا شاید کروڑوں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اب تو گوگل نے عربی انگریزی ترجمے کی سہولت بھی دینی شروع کردی ہے۔ شاید کسی دن اردو انگریزی کی سہولت بھی میسر آجائے۔ خیر خبر یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی طرح ترجمہ کرنے کی یہ سہولت اب گوگل ٹاک میں‌ بھی دستیاب ہوگی۔ یعنی آپ انگریز ہیں اور آپ کا چیٹ‌ کرنے والا دوست چینی تو بھی آپ دونوں اپنی زبانوں یعنی انگریزی اور چینی میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو کنورسیشن میں‌ ترجمہ کرنے کے لیے ایک عدد گوگل بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ جیسے انگریزی سے چینی میں ترجمے کے لیے یہ بوٹ شامل کرنا ہوگا:‌en2zh@bot.talk.google.com۔ اسی طرح چینی سے انگریزی میں ترجمے کے لیے بھی ایک عدد بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ آپ کے چینی دوست کا پیغام انگریزی ترجمہ کرنے والے بوٹ‌ کے پاس جائے گا اور پھر چیٹ ونڈو میں آپ کو انگریزی میں ترجمہ ہوکر دکھائی دے گا۔ یہی حال انگریزی سے چینی ترجمہ کرنے والا بوٹ آپ کی انگریزی کا کرے گا۔ ونڈو ملاحظہ کیجیے۔ ترجمہ صرف انگریزی سے غیر انگریزی زبان میں نہیں بلکہ دو غیر انگریزی زبانوں‌ کے لیے بھی دستیاب ہوگا جیسے فرنچ اور ہسپانوی زبانیں‌ وغیرہ۔ زبانوں‌ کے ترجمے کے لیے متعلقہ بوٹس کے کوڈز یہاں‌‌ سے حاصل کریں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

مجلس سائنس

December 19th, 2007بذریعہ

مجلس سائنس اردو فورمز میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ محمد سعد نے اس چوپال کو خالصتًا سائنسی موضوعات پر گفتگو و معلومات کے لیے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں تھوڑا سا تعاون اردو کوڈر کا بھی ہے کہ ہم نے اپنے مسکین سے ہوسٹ پر انھیں ہوسٹنگ فراہم کی ہے۔ ابھی فورم پر آپ کو شاید ایک آدھ پوسٹ ہی نظر آئے لیکن امید ہے سعد کی محنت اور سائنس سے محبت رکھنے والوں کے تعاون سے یہ فورم بھی ہل چل والی محفل میں بدل جائے گا۔ ابھی فورم کا حلیہ بھی خاصا ڈیفالٹ سا ہے ذرا اس پر چہل پہل ہو تو ہم انشاءاللہ پی ایچ پی بی بی کے نئے تھیم اور بہتر سہولیات دینے والے موڈز بھی مہیا کردیں گے۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب عمومی انداز سے ہٹ کر مخصوص قسم کے فورمز بھی اردو میں بن رہے ہیں۔ اردو کوڈر پر بھی ہماری کوشش ہے کہ مقصد صرف اور صرف لینکس اور اوپن سورس ہی ہو لیکن ہمارے اراکین کا اصرار ہے کہ کچھ مزید زمرے بھی بنائے جائیں۔ ہم ان کی خواہشات کے احترام میں کچھ مزید فورمز تو بنا دیں گے لیکن بحیثیت انتظامیہ ہمارا فوکس لینکس اور اوپن سورس ہی ہوگا۔ اسی امید کے ساتھ کہ سعد بھی اپنے فورم کو پاکستان کا بہترین اردو سائنس فورم بنا دیں گے۔ اللہ انھیں مزید اچھا کام کرنے کی توفیق دے۔
اتنا سارا خطبہ سن لیا آپ نے اور مجلس سائنس کا وزٹ نہیں کیا۔ اب میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں۔ :D

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

مونو (Mono) میری نظر سے

December 15th, 2007بذریعہ

منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے “قابل پڑھائی” کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔Mono
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سورس فورج مارکیٹ‌ پلیس

December 7th, 2007بذریعہ

سورس فورج کو انٹرنیٹ کی بڑی ویب سائٹوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے ایک دعوے کے مطابق اس وقت قریبًا سترہ لاکھ صارفین ان کے پاس مندرج ہیں۔ سورس فورج کی بنیادی خاصیت اس کی وہ خدمات ہیں جو یہ اوپن سورس پراجیکٹس کی ہوسٹنگ کی صورت میں فراہم کرتی ہے۔ سورس فورج پر ان کے بقول اس وقت ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پراجیکٹس رجسٹر ہیں۔
اس سال مئی سے سورس فورج ایک بی ٹا سروس چلا رہی تھی۔ کبھی آپ سورس فورج پر گئے ہوں تو کسی بھی پراجیکٹ سے فائل اتارنے والے صفحے پر Get Support For xxx کا آئکن بھی نظر آتا ہوگا۔ میں بھی ایک عرصے تک اس بارے میں حیران ہوتا رہا ہوں۔ بہرحال اب سورس فورج نے اس سروس کو آزمائشی بنیادوں سے نکال کر آفیشلی جاری کردیا ہے۔ اسے سورس فورج مارکیٹ پلیس کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے چہرے و انداز کی بدولت سورس فورج اب اوپن سورس سافٹویرز کی مفت میں میزبانی کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت میں بھی حصہ لےگا اور گاہک و پروفیشنل میں رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ اس وقت مارکیٹ پلیس پر رجسٹرڈ پراجیکٹس کی تعداد 700 کے قریب ہے جس میں بہت تیزی سے بڑھوتری کی توقع کی جارہی ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟

November 30th, 2007بذریعہ

زکریا کا یہ اعتراض وزن دار ہے کہ پاکستانی بلاگز انگریزی میں‌ بھی تو ہیں تو پھر اردو میں کیوں نہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میں‌کمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں‌ کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میں‌اپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں‌ ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں‌ تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں‌ ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو کوڈر “ری لوڈڈ”

November 28th, 2007بذریعہ

محمد علی مکی ایک عرصے تک اردو کوڈر فورم چلاتے رہے ہیں۔ پھر گردش زمانہ اور عنایت خسروانہ فری ہوسٹ کی وجہ سے یہ فورم ڈیلیٹ ہوگیا۔ کچھ عرصے تک آفلائن رہنے کے بعد کچھ میرے کہنے اور کچھ اپنے کہنے پر مکی بھائی نے اردو کوڈر فورم پھر سے شروع کیا ہے۔ فری ہوسٹ پر دوران اپگریڈ ان کی ہارڈ ڈسک کریش کرگئی اور سارا قیمتی ڈیٹا برباد ہوگیا۔ چناچہ اب ہمیں دوبارہ صفر سے گنتی گننی پڑ رہی ہے۔ اس بار اردو کوڈر کا مقصد صرف لینکس ہے۔ لینکس کے سافٹویرز، مسائل، ٹیوٹوریلز اور اوپن سورس کی خبریں سب کچھ اردو میں فراہم کیا جائے گا۔ یہ دعوٰی تو نہیں کہ یہ اردو میں‌ بہترین لینکس فورم ہوگا لیکن ہماری پوری کوشش رہے گی اس سلسلے میں۔ اردو کے ہر فورم کا دعوٰی ہے کہ وہ “فلانا” پہلا یونیکوڈ فورم ہے تو ہم بھی دعوٰی کیے دیتے ہیں۔
یونیکوڈ اردو میں “پہلا لینکس فورم”۔ :D :D :D خیر یہ تو مذاق تھا۔ دعا کیجیے گا کہ ہم اپنی انفرادیت کو قائم رکھ سکیں اور اچھی سروس دے سکیں۔ اس سارے خطبے کے بعد بھی اگر آپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ آپ کو فورم پر آنے کی دعوت دی جارہی ہے تو پھر یا میں پاگل ہوں یا پھر۔۔۔۔میں ہی پاگل ہوں۔ ;) :D آپ کو تو کہہ نہیں سکتا کہ آپ ہمارے متوقع صارف بھی ہوسکتے ہیں۔ ;) چناچہ پاء جی تشریف لائیے اردو کوڈر پر ہم آپ کے منتظر ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو مارفالوجی ایپلیکیشن

August 28th, 2007بذریعہ
آپ احباب انٹرنیٹ میری گفتگو سے یہ تو جان گئے ہونگے کہ میں نے بی کام کے بعد لسانیات میں ٹانگ اڑا لی ہے۔ یہ لمبی کہانی ہے بس یہ سمجھ لیں کہ کچھ راہنما مل گئے جنھوں نے مجھے پکڑ کر گھما ڈالا۔ کہنے کو تو میں انگلش لینگوئج ٹیچنگ میں ڈپلومہ کررہا ہوں جو اگلے سال ایم ایس سی میں بدل جائے گا (یعنی ایک سال کی ایم  ایس سی) لیکن انگریزی تو زبردستی ساتھ لگ گئی ہے۔ سمجھ لیں روزی روٹی کا معاملہ ہے ورنہ اپنی دلچسپی تو ازل سے اردو میں ہے۔ سوچا لسانیات میں رہ کر اردو کے لیے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اردو کی صوتیات (فونولوجی) پر فاسٹ لاہور میں بہت اچھا کام ہورہا ہے لیکن اس کے مشینی تجزیے کے سلسلے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔ مشینی تجزیے سے مراد ہے کہ سافٹویر بنائے جائیں جو عبارت یعنی ٹیکسٹ کا تجزیہ کریں۔ اس کے ہر ہر لفظ کی گرامر کے لحاظ سے زمرہ بندی کریں۔ پھر اس بل پر شماریاتی فارمولے لگا کر زبان کے ٹرینڈز بتائے جائیں۔ میرا علم اس سلسلے میں ابھی محدود ہے۔ تاہم آپ مزید جاننا چاہیں تو Computational Linguistics  اور Corpus Linguistics کے نام سے وکی پیڈیا اور گوگل پر تلاش کرکے جان سکتے ہیں۔
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز  انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

لینکس تعارف( لینکس کی تنصیب سلسلے کا پہلا سبق)

December 29th, 2006بذریعہ

کمپیوٹر استعمال کرنے والوں نے لینکس کا نام اکثر سنا ہوگا۔۔ لینکس ایک اوپن سورس یعنی آزاد مصدر خدمتگا نظام( آپریٹنگ سسٹم) ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آزاد مصدر ہے اور خدمتگار نظام بھی ہے تو اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ جب ونڈوز موجود ہے اور چل رہا ہے ،ہر کوئی اس کو استعمال کرنا جانتا ہے ہر چیز نارمل ہے تو پھر لینکس ہی کیوں؟ اس لیے کہ: لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی قسم کی چوری کے مرتکب نہیں ہوتے۔۔چوری؟ جی ہاں چوری! آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز ایکس پی یا 2000 یا 98 کی سی ڈی جو آپ 20 سے 30 روپے میں حاصل کرتے ہیں ان کی اصل قیمت کیا ہے؟ ان کی اصل قیمت ہزاروں میں ہے۔اور ہم ان کی پائریٹڈ یا آسان الفاظ میں غیر قانونی طور پر کی گئی نقول استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایکس پی کی سی ڈی 10000 روپے کی ہے تو آپ کتنے روپے کی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ بحث کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں، کون دیکھتا ہے اس کو، انگریز بھی تو ہمارا مال کھا رہے ہیں بالکل بودے بہانے ہیں اور حقیقت سے فرار کی لاحاصل کوششیں ہیں۔ لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کو کسی بھی قسم کا سیکیورٹی رسک لاحق نہیں ہوتا۔ہمارا مقصد ونڈوز کی برائیاں کرنا نہیں لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لینکس کی تمام قسمیں ونڈوز سے ہزاروں گنا زیادہ محفوظ ہیں۔ لینکس کی کسی بھی قسم کی بنیادی تنصیب (انسٹالیشن) کے ساتھ ہی درجنوں عمومی ضرورت کے سافٹویر نصب ہوجاتے ہیں جن کے لیے ونڈوز میں کئی جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں۔جیسے سی ڈی برنر لینکس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اس لیے اس کو کوئی بھی تقسیم کرسکتا ہے، بدل سکتا ہے جس کی وجہ سے اس میں جتنی جلد ترقی ہوتی ہے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ممکن ہے۔ یہ کچھ فائدے تھے جولینکس استعمال کرنے والے کو ملتے ہیں۔۔لیکن اگر آپ بطور مسلمان سوچیں تو حلال راستہ یہی ہے کہ یا تو ونڈوز خرید کر استعمال کیا جائے یا اگر استطاعت نہیں تو لینکس جیسا کوئی نظام استعمال کیا جائے جو قانونًا ایسی کوئی پابندی نہیں رکھتا کہ اسے خریدا ہی جائے۔ چلیں یہ تو قصیدے تھے جو ہم نے لینکس کی شان میں پڑھے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام صارف کو یا سیدھے لفظوں میں ایک ونڈوز کے صارف کو لینکس استعمال کرتے ہوئے کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ لینکس بنیادی طور پر ایک انتہائی غیر صارف دوست خدمتگار نظام کے طور پر مشہور ہے۔ایک لطیفہ کبھی گلوبل سائنس کے صفحات پر ہی پڑھا تھا کہ ایک صاحب کمپیوٹر لینے چلے گئے۔ ڈیلر نے پوچھا سر کونسا آپریٹنگ سسٹم پسند کریں گے صاحب بولے کوئی بھی کردو۔ ڈیلر بڑا متاثر ہوا کہ لائق بندہ ہے اس نے لینکس آپریٹنگ سسٹم نصب کردیا۔ صاحب کمپیوٹر لے کر گھر چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد ان ڈیلر کا گزر ایک جگہ سے ہوا تو ایک جگہ ایک پاگل نظر آیا جو لی لو لی لوکررہا تھا اور بچے اس کو پتھر مارتے تھے۔ حال دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ صاحب کمپیوٹر لینے گئے تھے اور اس پر لینکس نصب کروا لیا۔ کچھ ہی دن میں یہ حال ہوگیا کہ ہر بات کے جواب میں لی لو لی لو کرتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فکاہیہ تھا اصل میں لینکس اتنا مشکل بھی نہیں۔ ہمارے ایک لینکس دار دوست فرمایا کرتے ہیں کہ لینکس مشکل نہیں مختلف ہے۔ اور ہم ان کی بات سے متفق ہیں۔ لینکس میں یہ ضرور ہے کہ اب بھی کچھ گُرو تصویری مواجے( گرافک انٹرفیس) کی جگہ تحریری مواجے ( کمانڈ لائن انٹرفیس) کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لینکس سارا ایم ایس ڈوس جیسی کوئی چیز ہے۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے ایسا ہی تھا لیکن اب وہ زمانے لد گئے اب آپ اسی فیصد سے زیادہ کام تصویری مواجے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ لیکن تحریری مواجے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ لینکس والوں کے خیال میں جو کام ایک سطر کی کمانڈ سے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے آٹھ دس کلک وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہ آپ کی مرضی پر ہوتا ہے کہ آپ کیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق آپ جوں جوں لینکس کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے۔ لینکس کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس کی تنصیب بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک عدد سویپ پارٹیشن چاہیے ہوتی ہے جس کو بنانے سے ہارڈ ڈسک پر ڈیٹا اڑ سکتا ہے،یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کل لینکس کے اتنے آسان تنصیب کار آگئے ہیں جو دس منٹ میں تنصیب کردیتے ہیں اور پارٹیشن بنانے کا کام بھی خود ہی کرلیتے ہیں۔ لینکس پر سافٹویر نہیں ملتے۔ یاہو میسنجر کو ہی لے لیں اس کا لینکس ورژن کوئی تین سال پرانا ہے اور فیچر بھی محدود سے دیتا ہے جبکہ ونڈوز پر اس کا ورژن آٹھ دستیاب ہے اب۔ یہ بات بجا ہے کہ لینکس کے سلسلے میں سافٹویر ساز کمپنیاں سوتیلے پن کا سا سلوک کرتی ہیں لیکن لینکس والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر سافٹویر کے متبادل بنا لیے ہیں اس لیے کسی سافٹویر کی کمی کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ لینکس پر سافٹویر کی تنصیب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لینکس کے فورم پر جائیں تو آگے کمانڈ کا ڈھیر رکھ دیا جاتا ہے یہ کر لو وہ کرلو۔ صارف چکرا جاتا ہے بلکہ چکرا کر بھاگ جاتا ہے۔ اصل میں لینکس میں سافٹویر کی تنصیب ایک خاص انداز سے ہوتی ہے ۔ ونڈوز والے ایک عدد تنصیب کار کی توقع کرتے ہیں جو ڈبل کلک سے چلے اور نیکسٹ نیکسٹ کرکے سب کچھ نصب کردے۔ لینکس میں ہر ایرے غیرے کو منہ اٹھا کر نظام میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ لینکس کی ہر قسم(ڈِسٹرو) کے ذمہ داران اپنی ڈسٹرو کے لیے آنلائن سافٹویر رکھتے ہیں۔ یہ سافٹویر مختلف سرورز پر رکھے جاتے ہیں اور ان کو مختلف زمروں میں بانٹا گیا ہوتا ہے ا
ور یہ ریپازٹری کہلاتے ہیں۔چناچہ صارف کو جو بھی نصب کرنا ہوتا ہے وہ پیکج مینجر کے ذریعے تلاش کرکے اسے نصب کرنے کا آرڈر دے دیتا ہے اور آگے کام پیکج مینجر کا ہوتا ہے کہ وہ اتارے اور نصب کرے۔ پیکج مینجر جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایسا سافٹ ویر جو پروگرام اور اطلاقیوں ( ایپلی کیشنز) کو نصب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لینکس میں اگر کوئی سافٹویر باہر سے نصب کرنے کے لیے حاصل کر بھی لیں تو نصب نہیں ہوتا کہ اس کی انحصاریتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انحصاریت یعنی ڈیپینڈینسی کا مطلب ہے کہ سافٹویر جس جس چیز پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ایم پی تھری گانے چلانے کے لیے کسی میڈیا پلئیر کو ایک عدد ایم پی تھری ڈی کوڈر کی ضرورت ہوگی۔ یا ڈاٹ نیٹ پر مشتمل اطلاقیوں کو چلانے کے لیے ونڈوز پر م س ڈاٹ نیٹ فریم ورک نصب کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لیے ہمیشہ پیکج مینجر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا اکثر سافٹویر کی ریڈ می میں بتایا گیا ہوتا ہےکہ اس سافٹویر کو چلانے کے لیے فلاں فلاں انحصاریت چاہیے چناچہ صارف اسے نصب کرلیتا ہے سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں۔ لینکس پر ایک بہت بڑا مسئلہ ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔ ڈرائیور ہارڈ ویر کو چلانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لینکس چونکہ آزاد خدمتگار نظام ہے اس لیے اس کو کمپنیاں کم ہی سپورٹ کرتی ہیں چونکہ انھیں لینکس کی طرف سے کسی رائلٹی کی توقع نہیں ہوتی دوسری طرف ونڈوز میں ہر قسم کےہارڈ ویر کی سپورٹ موجود ہوتی ہے اور اس کی ڈرائیور ڈیٹابیس بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن اتنا بڑا نہیں۔ اگر آپ کا سسٹم بہت زیادہ پرانا نہیں(یعنی پی ون یا پی ٹو یا اس کے سن کا نہیں) تو فکر مند نہ ہوں اس کے سارے ڈرائیورز کا لینکس میں موجود ہونے کا اسی فیصد امکان ہے۔ آپ ان کو سسٹم کی تنصیب کے بعد بھی حاصل کرکے نصب کرسکتے ہیں۔مزید تسلی کے لیے آپ ان کے فورمز پر جاکر اپنی ہارڈویر کی تفاصیل دے کر ان کی سپورٹ کے بارے میں استفسار بھی کرسکتے ہیں۔ بلکہ اچھی قسمیں جیسے اوبنٹو وغیرہ کی ویب سائٹس پر یہ سہولت موجود ہے کہ آپ اپنے ہارڈویر کی سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ لینکس چلے گا تو میرے ونڈوز سسٹم کا کیا ہوگا؟ یا میں اگر ونڈوز کو بھی ساتھ ہی استعمال کرنا چاہوں تو؟ اس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوہرا یعنی ڈوئل بوٹ لینکس میں عام سی بات ہے۔ ایک ڈرائیو میں ونڈوز نصب ہے اور کسی بھی دوسری ڈرائیو میں لینکس نصب کرلیں۔ لینکس کا بوٹ لوڈر گرب یا لی لو آپ کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ ونڈوز سسٹم کو بھی بوٹ مینیو میں فعال رکھیں اور یہ سارا کام بوقت تنصیب خودکار انداز میں ہوتا ہے چناچہ اگر ونڈوز کا کوئی ورژن پہلے سے نصب شدہ ہے تو وہ بھی بوٹ کے وقت ایک آپشن کے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے چاہے لینکس چلائیں یا ونڈوز ایسے ہی جیسے کبھی ایکس پی اور 98 کا ڈوئل بوٹ بہت مقبول ہوا تھا۔ اور آخری مشکل جو صارف کو پیش آسکتی ہے وہ ہے لینکس کا انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار اور عمومًا نیٹ ورک ایڈمنز کا اسے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہ دینا(ڈائل اپ کی صورت میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا یہ کیبل نیٹ کی بات ہورہی ہے)۔ لینکس کی عمومی اور مقبول قسمیں تنصیب کے بعد سب سے پہلے تازہ کاری یعنی اپڈیٹ کا مشورہ دیتی ہیں۔ نیز عمومی نوعیت کے کئی سافٹویر جو بنیادی تنصیب میں شامل نہیں ہوتے براہ راست سرور سے حاصل کرنا پڑتے ہیں چونکہ لینکس کے سافٹویر سی ڈیز پر کم از کم ہمارے ہاں تو دستیاب نہیں۔ہمارے ڈائل اپ صارفین کے لیے یہ کافی مشکل ہوسکتا ہے لیکن ڈاؤنلوڈ مینجر سے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکل آتا ہے دوسر ے پیکج مینجر بھی ایک بار جتنا پروگرام اتار لے اگلی بار وہیں سے آگے اتارنا شروع کرتا ہے (یاد رہے پہلے اتارا جاتا ہے پھر نصب کیا جاتا ہے اور آپ کے پاس یہ انتخاب ہوتا ہے کہ پیکج کو صرف اتاریں نصب بعد میں کریں)۔ کیبل نیٹ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ڈی ایس ایل پر کیبل نیٹ چلایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ لینکس سسٹم منسلک کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ نیٹ ورک خالصتًا ونڈوز پر چلتے ہیں اور ان کے منتظمین بھی ونڈوز کلائنٹ کو رکھنا پسند کرتے ہیں یا لینکس کے لیے سیٹنگ میں مناسب تبدیلی کرنے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ لیکن ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک مل جاتا ہے جو لینکس سے بھی مکمل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے یا آپ کے لیے اپنی سیٹنگ اتنی تبدیل کرلیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا مسئلہ درپیش ہے تو ہم کچھ نسخے بتائیں گے جس سے کافی افاقے کی امید ہے لیکن یہ سب بنیادی وضع قطع کے بعد ہوگا۔خود ہم ذاتی طور پر کیبل نیٹ استعمال کرتے ہیں اور لینکس سے کرتے ہیں ہمارے نیٹ ورک ایڈمن نے ہمیں روٹر سے براہ راست رسائی دے رکھی ہے جس پر ہم اس کے بہت مشکور ہیں۔ یہ لینکس کا ہلکا سا تعارف تھا اور اس کے بارے میں وہ چند غلط فہمیاں جو عمومًا پائی جاتی ہیں یا پائی جانے کا امکان ہے۔ اگلی بار ہم انشاءاللہ اس کی کسی مقبول قسم کو لے کر اس کی تنصیب اور بعد میں مکمل وضع کرنے(کنفگریشن) تک تفصیل سے جانیں گے۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...