محفوظاتِ تحاریر
December 15th, 2007بذریعہ
منگوئل ڈی اکازا صاحب جن کی جوہر شناس نظروں نے ڈاٹ نیٹ کے ابتدائی دور سے ہی بروا کے چکنے چکنے پات پہچان لیے تھے۔ اسی دوران انھوں میں سی شارپ میں بطور مشق سی شارپ کا ہی ایک عدد کمپائلر لکھا۔ کمپائلر وہ سافٹویر ہوتا ہے جو ہائی لیول لینگوئج جیسے جاوا، سی شارپ وغیرہ کو مشین کوڈ یعنی صفر ایک کے “قابل پڑھائی” کوڈ میں بدلتا ہے تاکہ کمپیوٹر اسے سمجھ سکے اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ زیمین وہ کمپنی تھی جس میں یہ صاحب کام کررہے تھے۔ زیمین ایک مرحوم کمپنی ہے جو لینکس اور یونکس کے لیے آزاد سافٹویر بنانے میں خاصی مشہور تھی بعد میں اسے نووِل نے خرید لیا اور آج کل اس کے ڈویلپرز نووِل کے انڈر ہی کام کررہے ہیں۔ سو بات یہاں پہنچی کی زیمین کو بھی منگوئل صاحب کا آئیڈیا پسند آٰیا اور انھوں نے ڈویلپرز کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے ایک عدد پراجیکٹ تشکیل دے ڈالا جس کا نام مونو رکھا گیا۔ اس کے بارے میں پہلا اعلان مورخہ 19 جولائی 2001 کو ایک کانفرنس میں کیا گیا۔
مونو کا پہلا ورژن تین سال کی محنت کے بعد 30 جون 2004 میں جاری کیا گیا جسے مونو 1.0 کہا جاتا ہے۔
مونو کا نشان ایک بندر ہے۔ ہسپانوی میں مونو بندر کو کہتے ہیں۔
مونو مائیکرو سافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک کا آزاد مصدر متبادل ہے اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ڈاٹ نیٹ کو لینکس ،یونکس، بی ایس ڈی اور میک تک پھیلایا جائے۔ مائیکرو سافٹ کے ایک بیان کے مطابق وہ تحقیق و تلاش کے سلسلے میں مختص اپنے وسائل کا اسی فیصد ڈاٹ نیٹ پر خرچ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس میں شامل زبانوں کا ڈھیر ہی لگتا جارہا ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک ایک پھر دو، تین اور اب 3.5 موجود ہے۔ اس رفتار کا مقابلہ کرنا مونو جیسے پراجیکٹ کے لیے شاید ممکن بھی نہیں۔ تاہم اس وقت مونو کی صورت حال یہ ہے کہ اس کے تازہ ترین ورژن 1.2.6 بتاریخ 12 دسمبر 2007 میں سی شارپ 2 اور وژوئل بیسک ڈاٹ نیٹ مع سی شارپ 3 کی جزوی سپورٹ موجود ہے۔ ونڈوز ڈاٹ فارمز اور دوسری اے پی آئیز کی سپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ ڈاٹ نیٹ فریم ورک 3 کی سپورٹ تجرباتی ورژن بنام اولیو تلے ارتقائی مراحل میں ہے تاہم ابھی اس کو جاری کرنے کا کوئی امکان نہیں۔
میں تکنیکی باتوں میں جانے سے قاصر ہوں چونکہ اتنا علم میرے پاس نہیں کہ اس کی وضاحت کرسکوں۔ مونو کی تاریخ کے سلسلے میں معلومات انگریزی وکی پیڈیا اور اس کی آفیشل سائٹ سے لی گئی ہیں۔ میں اس کے دوسرے پہلوؤں پر کچھ گفتگو کرنا چاہوں گا۔
مونو مائیکرو سافٹ کے ملکیتی مال کی اوپن سورس نقل ہے۔ اور اس میں مائیکرو سافٹ کی ہی پینٹنٹ شدہ کچھ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ اے ایس پی۔ نیٹ، اڈو۔ نیٹ اور ونڈوز فارمز نامی کئی حصے ایسے ہیں جو مونو میں اس لیے شامل ہیں تاکہ اسے ونڈوز کے ساتھ مشابہہ رکھا جاسکے۔ لیکن ان کی بنیاد پر مائیکرو سافٹ مونو پر مقدمہ بھی کرسکتا ہے۔ مونو کا سب سے بڑا سپانسر نوویل ہے۔ نوویل اوپن سورس حلقوں میں ایک متنازعہ کمپنی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ ریڈ ہیٹ کی طرح یہ سوسی لینکس انٹر پرائز ایڈیشن کے نام سے ایک لینکس او ایس تیار کرتی ہے۔ سوسی لینکس کا ایک عدد کمیونٹی ورژن بھی ہے جو اوپن سورس کے عمومی فلسفے کے تحت مل جل کر تیار اور جاری کیا جاتا ہے۔ نوویل مائیکرو سافٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو برا نہیں سمجھتی۔ اس سلسلے میں اس نے مائیکرو سافٹ سے کئی ایک معاہدے بھی کررکھے ہیں جیسے لینکس اور ونڈوز سرورز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کا معاہدہ۔۔اس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کئی کمپنیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر پیٹنٹ مقدمات نہ کرنے کے معاہدے بھی کرچکی ہے جس میں نوویل بھی شامل ہے۔
اوپن سورس والوں کو اعتراض اس بات پر ہے کہ مائیکرو سافٹ پر اعتبار کیونکر کیا جائے۔ پچھلے بیس سالوں میں م س نے جب چاہا اپنے معیارات بدل ڈالے، اس کے معاہدوں کا اعتبار نہیں اور اسے صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے سے غرض ہے تو ڈاٹ نیٹ کو اوپن سورس میں کیوں قبول کیا جائے۔ اوپن سورس کا یہ اعتراض کہ کل کو اگر م س نے اپنے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مونو پر مقدمہ کردیا تو یہ پراجیکٹ تو ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔ نیز مونو صرف اور صرف ڈاٹ نیٹ کی نقل ہے چناچہ م س جب چاہے اپنے معیارات آئندہ آنے والے ورژنوں میں بدل کر مونو کی ساری ترقی کا بیڑہ غرق کرسکتا ہے۔
لیکن بعض لوگ مونو کے سلسلے میں بہت پرامید ہیں۔ بلاشبہ م س نے ڈاٹ نیٹ میں اب تک کی تمام اہم زبانوں کی خوبیاں سمو دی ہیں۔ سی، سی پلس پلس اور جاوا کے بہترین فیچرز سی شارپ میں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات ڈاٹ نیٹ کا جاوا کے بائٹ کوڈ کی طرح کا طرز عمل ہے۔ ڈاٹ نیٹ کی درجن بھر سے زیادہ زبانیں پہلے ایک انٹرمیڈیٹ لینگوئج میں ترجمہ ہوتی ہیں جہاں سے اس کو ڈاٹ نیٹ فریم ورک مشین کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خوبی ان تمام زبانوں کے کوڈ کو ایک دوسرے کی کلاسز استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جاوا میں یہی کام جاوا رن ٹائم انوائرمنٹ کرتا ہے لیکن اس میں صرف جاوا کا بائٹ کوڈ ہوتا ہے جو کہ پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ ڈاٹ نیٹ میں کوڈ نہ صرف پلیٹ فارم کی قید سے آزاد ہے بلکہ جاوا کی طرح صرف جاوا میں لکھنے کی قید نہیں۔ آپ سی شارپ استعمال کرسکتے ہیں، وی بی ڈاٹ نیٹ اپنی پیشرو وی بی 6 سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے اسے آزمائیں۔ جاوا شارپ موجود ہے جو جاوا کو ڈاٹ نیٹ سے ملاتی ہے۔ پائتھون کے لیے بھی آئرن پائتھون کے نام سے ایک زبان موجود ہے۔
پچھلے چھ سال سے مونو لینکس یونکس مارکیٹ میں پہچانا جارہا ہے اور 3 سال سے اس کے مستحکم ورژن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوگ اب بھی مونو کا نام ہی کیوں جانتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مونو کو اوپن سورس برادری کا اعتبار شاید ابھی مکمل طرح سے حاصل نہیں ہوسکا۔ اس میں کچھ بگز بھی موجود ہیں۔ بیگل ایک ڈیسکٹاپ تلاش گر ہے لیکن اکثر اوقات جب یہ چلے تو میموری لیک ہونے کی شکایت کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا سسٹم یکلخت کی میموری کے قحط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک مونو میں بنا ہوا فائل مینجر اتارا۔ یہ چند کلو بائٹس کا ڈیبین پیکج تھا۔ لیکن جب میں نے اسے اپنے کبنٹو سسٹم پر انسٹال کرنے کےلیے چلایا تو موصوف نے مجھے 73 پیکجز کی ڈیپنڈنسی لسٹ پکڑا دی۔ لینکس میں ڈیپنڈنسی سے مراد وہ سافٹویرز یا پیکجز ہوتے ہیں جو پروگرام چلنے کے لیے مطلوبہ سپورٹ و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان پیکجز میں مونو کے پیکج بھی شامل تھے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ مونو کو ابھی تک ڈسٹروز میں آفیشلی شامل نہیں کیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اسے ڈسٹرو کی انسٹالیشن سی ڈی میں شامل کیا جائے نا کہ متعلقہ پروگرام کی تنصیب کے وقت صارف کو اسے اتارنا پڑے۔
مونو میں ابھی تک تجارتی استعمال کے لیے کوئی خاص اطلاقیہ سوائے آئی فولڈر کے نہیں لکھا جاسکا۔ البتہ ڈیسک ٹاپ کے لیے کافی اطلاقیے یعنی ایپلی کیشنز لکھی جاچکی ہیں۔ جو خاصے مقبول بھی ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہوئے میں نے پالڈو کے بارے میں سنا جس کا پیکجنگ سسٹم یو پیکج نامی ایک نظام پر مشتمل ہے جو مونو اور ایکس ایم ایل کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کئی ایک اطلاقیے اور پروجیکٹس ایسے ہیں جن میں مونو کا استعمال جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے جو اپنے تلاش کے نظام کے لیے مونو کی بنیاد پر بنے ہوئے اطلاقیوں سے کام لیتا ہے۔
مونو ابھی اتنا مقبول نہیں جتنا ڈاٹ نیٹ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر بننے والے اطلاقیے اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ مونو کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے۔ اس پراجیکٹ نے مجھے متوجہ کیا کہ میں ڈاٹ نیٹ سیکھوں۔ پچھلے کچھ دن سے میں اس سلسلے میں کچھ کام کررہا ہوں۔ مونو کو بنیاد بنا کر شاید میں سی شارپ یا وی بی ڈاٹ نیٹ نہ سیکھ سکوں لیکن سیکھنے کے بعد میں مونو میں پروگرامز لکھنا پسند کروں گا۔ آپ بھی اسے ٹرائی کیجیے اور یقین کریں آپ مایوس نہیں ہونگے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 9th, 2007بذریعہ
بندہ کس کو دوش دے۔ اردو محفل کے لوگوں کو جنھوں نے میرا اتنا دماغ خراب کردیا کہ میرے جیسا سیدھا سادھا بندہ جو زیادہ زیادہ ایم بی اے کرکے کسی فرم میں چھوٹے موٹے عہدے پر لگ جاتا، کچھ سال بعد ٹنڈ ہوجاتی اور صاحب توند ہوجاتا۔ ایک بیوی مع چند بچوں کے معرض وجود میں آجاتی اور پھر فوت ہوجاتا۔ چند ایک لوگ جانتے کہ فلانا تھا اور چنگا تھا فوت ہوگیا۔
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی “کامی” کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے “گوڑھے” پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی “گھنڈیاں” ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 1st, 2007بذریعہ
تلاش گروں کا گرو گوگل اب موبائل اور وائرلیس نیٹ ورکس میں بھی ٹانگ اڑانے کی کوشش میں ہے۔ گوگل کی اینڈرائڈ سافٹویر ڈیلوپمنٹ کٹ کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ اینڈرائد موبائل کی ایپلی کیشنز تیار کرنے کے لیے ایک اوپن ڈویلپمنٹ کٹ ہے۔ اس سلسلے میں گوگل کو موبائل انڈسٹری کے دیووں کا تعاون حاصل ہے۔
اب گوگل امریکہ میں اپنا ایک وائرلیس نیٹ ورک شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی ماہ پہلے گوگل نے اعلان کردیا تھا کہ وہ امریکہ میں ہونے والی 700 میگا ہرٹز وائرلیس طیف کے لیے بولی لگائے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ریڈیائی امواج کی مختلف فریکوئنسی ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے آلات کو بذریعہ وائرلیس چلانے کے لیے ان سے نکلنے والی امواج کو ایک خاص فریکوئنسی حد ہی الاٹ کی جاتی ہے۔ جبکہ طیف سے مراد ہم ایسا سکیل لیتے ہیں جس پر مختلف امواج کو ان کی فریکوئنسی یا طول موج کے حساب سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ طیف کی سادہ سی مثال سورج کی روشنی کو منشور میں سے گزارنے سے حاصل ہونے والے رنگ ہیں۔ یہ سات رنگ جب سفید کاغذ پر ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے۔
گوگل اس طیف یعنی 700 میگا ہرٹز طیف کے لیے اگر بولی جیت جاتا ہے تو وہ اپنا وائرلیس نیٹ ورک لانچ کرسکے گا یا پھر ہوسکتا ہے وہ کسی کو اپنا پارٹنر بنا لے۔ اپنی سروس دینے کے ساتھ ساتھ گوگل وائرلیس سروس “تھوک” کے بھاؤ بھی بیچ سکتا ہے جسے آگے اینڈ یوزر تک دوسرے لوگ پہنچائیں گے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 29th, 2006بذریعہ
کمپیوٹر استعمال کرنے والوں نے لینکس کا نام اکثر سنا ہوگا۔۔ لینکس ایک اوپن سورس یعنی آزاد مصدر خدمتگا نظام( آپریٹنگ سسٹم) ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آزاد مصدر ہے اور خدمتگار نظام بھی ہے تو اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ جب ونڈوز موجود ہے اور چل رہا ہے ،ہر کوئی اس کو استعمال کرنا جانتا ہے ہر چیز نارمل ہے تو پھر لینکس ہی کیوں؟ اس لیے کہ: لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کسی قسم کی چوری کے مرتکب نہیں ہوتے۔۔چوری؟ جی ہاں چوری! آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز ایکس پی یا 2000 یا 98 کی سی ڈی جو آپ 20 سے 30 روپے میں حاصل کرتے ہیں ان کی اصل قیمت کیا ہے؟ ان کی اصل قیمت ہزاروں میں ہے۔اور ہم ان کی پائریٹڈ یا آسان الفاظ میں غیر قانونی طور پر کی گئی نقول استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایکس پی کی سی ڈی 10000 روپے کی ہے تو آپ کتنے روپے کی چوری کے مرتکب ہورہے ہیں؟ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ بحث کہ سب ہی ایسا کرتے ہیں، کون دیکھتا ہے اس کو، انگریز بھی تو ہمارا مال کھا رہے ہیں بالکل بودے بہانے ہیں اور حقیقت سے فرار کی لاحاصل کوششیں ہیں۔ لینکس استعمال کرتے ہوئے آپ کو کسی بھی قسم کا سیکیورٹی رسک لاحق نہیں ہوتا۔ہمارا مقصد ونڈوز کی برائیاں کرنا نہیں لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ لینکس کی تمام قسمیں ونڈوز سے ہزاروں گنا زیادہ محفوظ ہیں۔ لینکس کی کسی بھی قسم کی بنیادی تنصیب (انسٹالیشن) کے ساتھ ہی درجنوں عمومی ضرورت کے سافٹویر نصب ہوجاتے ہیں جن کے لیے ونڈوز میں کئی جگہ دھکے کھانے پڑتے ہیں۔جیسے سی ڈی برنر لینکس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اس لیے اس کو کوئی بھی تقسیم کرسکتا ہے، بدل سکتا ہے جس کی وجہ سے اس میں جتنی جلد ترقی ہوتی ہے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ممکن ہے۔ یہ کچھ فائدے تھے جولینکس استعمال کرنے والے کو ملتے ہیں۔۔لیکن اگر آپ بطور مسلمان سوچیں تو حلال راستہ یہی ہے کہ یا تو ونڈوز خرید کر استعمال کیا جائے یا اگر استطاعت نہیں تو لینکس جیسا کوئی نظام استعمال کیا جائے جو قانونًا ایسی کوئی پابندی نہیں رکھتا کہ اسے خریدا ہی جائے۔ چلیں یہ تو قصیدے تھے جو ہم نے لینکس کی شان میں پڑھے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام صارف کو یا سیدھے لفظوں میں ایک ونڈوز کے صارف کو لینکس استعمال کرتے ہوئے کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ لینکس بنیادی طور پر ایک انتہائی غیر صارف دوست خدمتگار نظام کے طور پر مشہور ہے۔ایک لطیفہ کبھی گلوبل سائنس کے صفحات پر ہی پڑھا تھا کہ ایک صاحب کمپیوٹر لینے چلے گئے۔ ڈیلر نے پوچھا سر کونسا آپریٹنگ سسٹم پسند کریں گے صاحب بولے کوئی بھی کردو۔ ڈیلر بڑا متاثر ہوا کہ لائق بندہ ہے اس نے لینکس آپریٹنگ سسٹم نصب کردیا۔ صاحب کمپیوٹر لے کر گھر چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد ان ڈیلر کا گزر ایک جگہ سے ہوا تو ایک جگہ ایک پاگل نظر آیا جو لی لو لی لوکررہا تھا اور بچے اس کو پتھر مارتے تھے۔ حال دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ صاحب کمپیوٹر لینے گئے تھے اور اس پر لینکس نصب کروا لیا۔ کچھ ہی دن میں یہ حال ہوگیا کہ ہر بات کے جواب میں لی لو لی لو کرتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک فکاہیہ تھا اصل میں لینکس اتنا مشکل بھی نہیں۔ ہمارے ایک لینکس دار دوست فرمایا کرتے ہیں کہ لینکس مشکل نہیں مختلف ہے۔ اور ہم ان کی بات سے متفق ہیں۔ لینکس میں یہ ضرور ہے کہ اب بھی کچھ گُرو تصویری مواجے( گرافک انٹرفیس) کی جگہ تحریری مواجے ( کمانڈ لائن انٹرفیس) کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لینکس سارا ایم ایس ڈوس جیسی کوئی چیز ہے۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے ایسا ہی تھا لیکن اب وہ زمانے لد گئے اب آپ اسی فیصد سے زیادہ کام تصویری مواجے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ لیکن تحریری مواجے کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ لینکس والوں کے خیال میں جو کام ایک سطر کی کمانڈ سے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے آٹھ دس کلک وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن یہ آپ کی مرضی پر ہوتا ہے کہ آپ کیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق آپ جوں جوں لینکس کو استعمال کرتے جاتے ہیں یہ سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے۔ لینکس کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ اس کی تنصیب بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک عدد سویپ پارٹیشن چاہیے ہوتی ہے جس کو بنانے سے ہارڈ ڈسک پر ڈیٹا اڑ سکتا ہے،یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کل لینکس کے اتنے آسان تنصیب کار آگئے ہیں جو دس منٹ میں تنصیب کردیتے ہیں اور پارٹیشن بنانے کا کام بھی خود ہی کرلیتے ہیں۔ لینکس پر سافٹویر نہیں ملتے۔ یاہو میسنجر کو ہی لے لیں اس کا لینکس ورژن کوئی تین سال پرانا ہے اور فیچر بھی محدود سے دیتا ہے جبکہ ونڈوز پر اس کا ورژن آٹھ دستیاب ہے اب۔ یہ بات بجا ہے کہ لینکس کے سلسلے میں سافٹویر ساز کمپنیاں سوتیلے پن کا سا سلوک کرتی ہیں لیکن لینکس والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر سافٹویر کے متبادل بنا لیے ہیں اس لیے کسی سافٹویر کی کمی کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ لینکس پر سافٹویر کی تنصیب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لینکس کے فورم پر جائیں تو آگے کمانڈ کا ڈھیر رکھ دیا جاتا ہے یہ کر لو وہ کرلو۔ صارف چکرا جاتا ہے بلکہ چکرا کر بھاگ جاتا ہے۔ اصل میں لینکس میں سافٹویر کی تنصیب ایک خاص انداز سے ہوتی ہے ۔ ونڈوز والے ایک عدد تنصیب کار کی توقع کرتے ہیں جو ڈبل کلک سے چلے اور نیکسٹ نیکسٹ کرکے سب کچھ نصب کردے۔ لینکس میں ہر ایرے غیرے کو منہ اٹھا کر نظام میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ لینکس کی ہر قسم(ڈِسٹرو) کے ذمہ داران اپنی ڈسٹرو کے لیے آنلائن سافٹویر رکھتے ہیں۔ یہ سافٹویر مختلف سرورز پر رکھے جاتے ہیں اور ان کو مختلف زمروں میں بانٹا گیا ہوتا ہے ا
ور یہ ریپازٹری کہلاتے ہیں۔چناچہ صارف کو جو بھی نصب کرنا ہوتا ہے وہ پیکج مینجر کے ذریعے تلاش کرکے اسے نصب کرنے کا آرڈر دے دیتا ہے اور آگے کام پیکج مینجر کا ہوتا ہے کہ وہ اتارے اور نصب کرے۔ پیکج مینجر جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ایسا سافٹ ویر جو پروگرام اور اطلاقیوں ( ایپلی کیشنز) کو نصب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لینکس میں اگر کوئی سافٹویر باہر سے نصب کرنے کے لیے حاصل کر بھی لیں تو نصب نہیں ہوتا کہ اس کی انحصاریتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انحصاریت یعنی ڈیپینڈینسی کا مطلب ہے کہ سافٹویر جس جس چیز پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ایم پی تھری گانے چلانے کے لیے کسی میڈیا پلئیر کو ایک عدد ایم پی تھری ڈی کوڈر کی ضرورت ہوگی۔ یا ڈاٹ نیٹ پر مشتمل اطلاقیوں کو چلانے کے لیے ونڈوز پر م س ڈاٹ نیٹ فریم ورک نصب کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لیے ہمیشہ پیکج مینجر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے یا اکثر سافٹویر کی ریڈ می میں بتایا گیا ہوتا ہےکہ اس سافٹویر کو چلانے کے لیے فلاں فلاں انحصاریت چاہیے چناچہ صارف اسے نصب کرلیتا ہے سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں۔ لینکس پر ایک بہت بڑا مسئلہ ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔ ڈرائیور ہارڈ ویر کو چلانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لینکس چونکہ آزاد خدمتگار نظام ہے اس لیے اس کو کمپنیاں کم ہی سپورٹ کرتی ہیں چونکہ انھیں لینکس کی طرف سے کسی رائلٹی کی توقع نہیں ہوتی دوسری طرف ونڈوز میں ہر قسم کےہارڈ ویر کی سپورٹ موجود ہوتی ہے اور اس کی ڈرائیور ڈیٹابیس بہت بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک مسئلہ تو ہے لیکن اتنا بڑا نہیں۔ اگر آپ کا سسٹم بہت زیادہ پرانا نہیں(یعنی پی ون یا پی ٹو یا اس کے سن کا نہیں) تو فکر مند نہ ہوں اس کے سارے ڈرائیورز کا لینکس میں موجود ہونے کا اسی فیصد امکان ہے۔ آپ ان کو سسٹم کی تنصیب کے بعد بھی حاصل کرکے نصب کرسکتے ہیں۔مزید تسلی کے لیے آپ ان کے فورمز پر جاکر اپنی ہارڈویر کی تفاصیل دے کر ان کی سپورٹ کے بارے میں استفسار بھی کرسکتے ہیں۔ بلکہ اچھی قسمیں جیسے اوبنٹو وغیرہ کی ویب سائٹس پر یہ سہولت موجود ہے کہ آپ اپنے ہارڈویر کی سپورٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ لینکس چلے گا تو میرے ونڈوز سسٹم کا کیا ہوگا؟ یا میں اگر ونڈوز کو بھی ساتھ ہی استعمال کرنا چاہوں تو؟ اس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوہرا یعنی ڈوئل بوٹ لینکس میں عام سی بات ہے۔ ایک ڈرائیو میں ونڈوز نصب ہے اور کسی بھی دوسری ڈرائیو میں لینکس نصب کرلیں۔ لینکس کا بوٹ لوڈر گرب یا لی لو آپ کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ ونڈوز سسٹم کو بھی بوٹ مینیو میں فعال رکھیں اور یہ سارا کام بوقت تنصیب خودکار انداز میں ہوتا ہے چناچہ اگر ونڈوز کا کوئی ورژن پہلے سے نصب شدہ ہے تو وہ بھی بوٹ کے وقت ایک آپشن کے طور پر ظاہر ہوجاتا ہے چاہے لینکس چلائیں یا ونڈوز ایسے ہی جیسے کبھی ایکس پی اور 98 کا ڈوئل بوٹ بہت مقبول ہوا تھا۔ اور آخری مشکل جو صارف کو پیش آسکتی ہے وہ ہے لینکس کا انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار اور عمومًا نیٹ ورک ایڈمنز کا اسے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہ دینا(ڈائل اپ کی صورت میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا یہ کیبل نیٹ کی بات ہورہی ہے)۔ لینکس کی عمومی اور مقبول قسمیں تنصیب کے بعد سب سے پہلے تازہ کاری یعنی اپڈیٹ کا مشورہ دیتی ہیں۔ نیز عمومی نوعیت کے کئی سافٹویر جو بنیادی تنصیب میں شامل نہیں ہوتے براہ راست سرور سے حاصل کرنا پڑتے ہیں چونکہ لینکس کے سافٹویر سی ڈیز پر کم از کم ہمارے ہاں تو دستیاب نہیں۔ہمارے ڈائل اپ صارفین کے لیے یہ کافی مشکل ہوسکتا ہے لیکن ڈاؤنلوڈ مینجر سے اس کا کچھ نہ کچھ حل نکل آتا ہے دوسر ے پیکج مینجر بھی ایک بار جتنا پروگرام اتار لے اگلی بار وہیں سے آگے اتارنا شروع کرتا ہے (یاد رہے پہلے اتارا جاتا ہے پھر نصب کیا جاتا ہے اور آپ کے پاس یہ انتخاب ہوتا ہے کہ پیکج کو صرف اتاریں نصب بعد میں کریں)۔ کیبل نیٹ پاکستان میں بہت مقبول ہورہا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ڈی ایس ایل پر کیبل نیٹ چلایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ لینکس سسٹم منسلک کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ نیٹ ورک خالصتًا ونڈوز پر چلتے ہیں اور ان کے منتظمین بھی ونڈوز کلائنٹ کو رکھنا پسند کرتے ہیں یا لینکس کے لیے سیٹنگ میں مناسب تبدیلی کرنے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ لیکن ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک مل جاتا ہے جو لینکس سے بھی مکمل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے یا آپ کے لیے اپنی سیٹنگ اتنی تبدیل کرلیتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا مسئلہ درپیش ہے تو ہم کچھ نسخے بتائیں گے جس سے کافی افاقے کی امید ہے لیکن یہ سب بنیادی وضع قطع کے بعد ہوگا۔خود ہم ذاتی طور پر کیبل نیٹ استعمال کرتے ہیں اور لینکس سے کرتے ہیں ہمارے نیٹ ورک ایڈمن نے ہمیں روٹر سے براہ راست رسائی دے رکھی ہے جس پر ہم اس کے بہت مشکور ہیں۔ یہ لینکس کا ہلکا سا تعارف تھا اور اس کے بارے میں وہ چند غلط فہمیاں جو عمومًا پائی جاتی ہیں یا پائی جانے کا امکان ہے۔ اگلی بار ہم انشاءاللہ اس کی کسی مقبول قسم کو لے کر اس کی تنصیب اور بعد میں مکمل وضع کرنے(کنفگریشن) تک تفصیل سے جانیں گے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
October 26th, 2006بذریعہ
ساجد اقبال کے اردو ٹیکنالوجی بلاگ پر فائر فاکس دو کے آنے کی خبر پڑھی تو میں کے اوبنٹو پر تھا۔متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر لینکس کے لیے اسے اتارا اور اوبنٹو کے فورمز پر جاکر اس کی تنصیب کے سلسلے میں ہدایات دیکھیں۔ دو تین پیغامات دیکھنے پر پتا چلا کہ یہ تو سیدھا سادھا کیس ہے اسے غیر مختصر کریں اور فائر فاکس کی کمانڈ دے کر چلانا شروع کردیں۔ یعنی کمپائل کا کوئی رپھڑ نہیں ورنہ لینکس میں تو بندہ مرنے والا ہوجاتا ہے کمپائل کرکرکے ہی۔ بہرحال فائر فاکس کو چلانا ہو تو 1۔ جہاں اسے غیر مختصر کیا ہے وہاں چلے جائیں اور ٹرمینل کھول کر لکھیں
./firefox
2۔ یا پھر اپنے ڈیسکٹاپ پر رائٹ کلک کریں اور اطلاقیے کو ربط بنا لیں۔ یعن لنک ٹو ایپلی کیشن اس میں آپ نے اپنے فولڈ کا پاتھ دے کر آخر میں اوپر والی کمانڈ کا دم چھلہ لگا دینا ہے جیسے میرے ہاں کچھ ایسے ہے
/home/ss/firefox/firefox
فائر فاکس لینکس میں ویسے کا ویسا ہی ہے بلکہ یوں کہنا ہوگا کہ اوبنٹو میں ویسے کا ویسا ہی ہے۔ ڈیپر میں خرابی کی وجہ سے اردو فونٹس کی پیشکش انتہائی خراب ہوتی ہے فائر فاکس میں اور اس ورژن میں بھی وہی حال ہے۔ میرا بلاگ کہیں تاہوما اور کہین ٹوٹے پھوٹے ایشیا ٹائپ میں نظر آرہا ہے۔ یہی حال اردو محفل کا ہے۔ ہاں فائر فاکس کا مواجہ خوبصورت لگ رہا ہے پہلی نظر میں ونڈوز وسٹا کے کسی اطلاقیے کا گمان ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کچھ نئی خوبیاں بھی شامل کی گئی ہیں فائر فاکس میں۔ جیسے پچھلی نشست کی بحالی، ہر روزن یعنی ٹیب کے ساتھ بند کرنے کا ایک بٹن۔ اگر ٹیب زیادہ ہوجائیں تو دائیں بائیں ایک بٹن نمودار ہوکر زائد روزنوں کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔

Loading ...