آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

اور کل عید ہے

September 30th, 2008بذریعہ دوست

اگرچہ کل عید ہے اور خوشی کا دن ہے لیکن میرے حساب سے اس عید کی خوشی خاصی کمینی سی خوشی ہے۔ وہ اس لیے کہ سعودیہ میں 29 روزوں کے بعد جب آج رویت “حلال” کمیٹی والے تین گھنٹوں تک اجلاس فرماتے رہے تو مجھے سخت غصہ آرہا تھا۔ ان کو کوسنے بدعائیں اور گالیاں دینے کو دل کررہا تھا۔ جو کل کا روزہ زبردستی کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ ساتھ پرائیویٹ چینل جو اپنی ہی بین بجانے لگتے ہیں۔ عید نہیں ہورہی، کل روزہ ہوگا۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ مجھے تو لگتا تھا رات بارہ بجے تک ان سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکے گا اور عید سے بھی جائیں گے اور تراویح سے بھی۔ جانے کونسی دعا کام آگئی کہ کل عید کا مژدہ مفتی جی کے منہ سے نکل گیا۔

خیر کمینی سی خوشی ہی سہی لیکن خوشی تو ہے۔

ایک بار پھر عید مبارک۔۔۔ ان کو جن کی ابھی نہیں ہوئی۔:D

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اے دین کے ٹھیکیدارو

March 10th, 2008بذریعہ

ہمیں کیوں روکتے ہو

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم نے دین میں رسمیں ایجاد کرلیں؟

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم 360 دنوں میں ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کرکے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوجاتے ہو؟

کیا ہم نے کبھی تمہارے جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا؟

جو تم اب شاہ کے پیسے کھا کر ہم پر کرتے ہو؟

آخر ہم کیوں سیاہ جھنڈے نہ لہرائیں؟

کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟

“جس قوم میں انصاف نہ رہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے”

کیا تم اندھے، گونگے بہرے ہو کہ تمہیں نظر نہیں آتا؟

کیا تمہیں یہ بربادی اپنی آنکھوں سے دکھتی نہیں؟

تو پھر ہمیں کیوں روکتے ہو؟

کیوں شاہ کا پیسہ کھا کر فتوٰی دیتے ہو کہ سیاہ جھنڈا لہرانا گناہ ہے؟

ہم ماتم کیوں نہ کریں؟

اپنی قوم کی بربادی پر ماتم کیوں نہ کریں؟

جس سے انصاف بھی چھن گیا۔۔۔

ہم آخر ماتم کیوں نہ کریں۔۔۔۔ ؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بےنظیر چلی گئی۔۔۔۔۔

December 27th, 2007بذریعہ

بی بی سی پر تازترین میں‌ بینظیر کی ہلاکت کی خبر موجود ہے۔ ابھی سرکاری ٹیلی وژن نے بھی یہی خبر دی ہے۔ میں بے نظیر سے نظریاتی اختلاف رکھتا تھا اور بے شک میں‌ اسے ووٹ بھی نہ دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ جیسی بھی تھی ایک لیڈر تھی۔ لیڈر میں‌ پوری قوم کی جان ہوتی ہے۔ لیڈر کی موت قوم کے اندر ایسے نامٹنے والے زخم چھوڑ جاتی ہے جو ناسور بن کر قوم کو کھا جاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی موت ایک سیاسی عمل کی موت ہے۔ اگر پہلے انتخابات سے ہمیں‌ کچھ بہتری کی امید بھی تھی تو بھی نہیں‌۔ بے نظیر ایک ایسے طبقہ فکر کی نمائندہ تھی جو ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتا تھا۔ بے شک اس کی موت کا خلاء کبھی بھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
بےنظیر ایک جینوئن لیڈر تھی۔ بلاشک ذولفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کی تربیت ایسے ہی کی تھی۔ اس کے اندر اظہار کی جرات تھی اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اس کا موقف بہت سخت اور واضح تھا۔ یہی موقف اس کی موت کا سبب بن گیا۔ لعنت ہے ایسی حکومت پر جو ایک لیڈر کو سیکیورٹی بھی فراہم نہ کرسکی۔ یہ سب کچھ مشرف کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس ایک ہلاکت کے ردعمل میں کیا کیا فتنے سراٹھائیں‌گے ان کا تصور ہی لرزہ طاری کردیتا ہے۔ اب پیچھے رہ ہی کیا گیا ہے لوٹے اور چمچے۔
اللہ سائیں لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام نصیب فرمائے۔ یاللہ ہمیں‌ استقامت اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطاء‌فرما۔ آمین

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بی‌ٹا کا اجراء

December 24th, 2007بذریعہ

ویکیا ایک اوپن سورس تلاش گر کا نام ہے۔ تلاش گری یعنی سرچ انجن کے میدان کا بادشاہ گوگل ہے۔ کبھی یاہو اور الٹا وسٹا کا نام بھی اسی ضمن میں بہت اونچا تھا آجکل لوگ ان کی طرف کم کم ہی جاتے ہیں۔ تلاش گری میں مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز لائیو سرچ کی صورت میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے لیکن گوگل کو ان پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

گوگل ٹاک میں اب زبانوں کے مابین ترجمہ

December 19th, 2007بذریعہ

اگرچہ یہ خبر اوپن سورس سے متعلق نہیں لیکن مجھے اتنی پسند آئی کہ اس کے بارے میں‌ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی سہولت سے ایک زمانہ واقف ہے اور رزانہ لاکھوں‌ یا شاید کروڑوں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ اب تو گوگل نے عربی انگریزی ترجمے کی سہولت بھی دینی شروع کردی ہے۔ شاید کسی دن اردو انگریزی کی سہولت بھی میسر آجائے۔ خیر خبر یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ‌ کی طرح ترجمہ کرنے کی یہ سہولت اب گوگل ٹاک میں‌ بھی دستیاب ہوگی۔ یعنی آپ انگریز ہیں اور آپ کا چیٹ‌ کرنے والا دوست چینی تو بھی آپ دونوں اپنی زبانوں یعنی انگریزی اور چینی میں ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ آپ کو کنورسیشن میں‌ ترجمہ کرنے کے لیے ایک عدد گوگل بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ جیسے انگریزی سے چینی میں ترجمے کے لیے یہ بوٹ شامل کرنا ہوگا:‌en2zh@bot.talk.google.com۔ اسی طرح چینی سے انگریزی میں ترجمے کے لیے بھی ایک عدد بوٹ شامل کرنا ہوگا۔ آپ کے چینی دوست کا پیغام انگریزی ترجمہ کرنے والے بوٹ‌ کے پاس جائے گا اور پھر چیٹ ونڈو میں آپ کو انگریزی میں ترجمہ ہوکر دکھائی دے گا۔ یہی حال انگریزی سے چینی ترجمہ کرنے والا بوٹ آپ کی انگریزی کا کرے گا۔ ونڈو ملاحظہ کیجیے۔ ترجمہ صرف انگریزی سے غیر انگریزی زبان میں نہیں بلکہ دو غیر انگریزی زبانوں‌ کے لیے بھی دستیاب ہوگا جیسے فرنچ اور ہسپانوی زبانیں‌ وغیرہ۔ زبانوں‌ کے ترجمے کے لیے متعلقہ بوٹس کے کوڈز یہاں‌‌ سے حاصل کریں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

مجلس سائنس

December 19th, 2007بذریعہ

مجلس سائنس اردو فورمز میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ محمد سعد نے اس چوپال کو خالصتًا سائنسی موضوعات پر گفتگو و معلومات کے لیے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں تھوڑا سا تعاون اردو کوڈر کا بھی ہے کہ ہم نے اپنے مسکین سے ہوسٹ پر انھیں ہوسٹنگ فراہم کی ہے۔ ابھی فورم پر آپ کو شاید ایک آدھ پوسٹ ہی نظر آئے لیکن امید ہے سعد کی محنت اور سائنس سے محبت رکھنے والوں کے تعاون سے یہ فورم بھی ہل چل والی محفل میں بدل جائے گا۔ ابھی فورم کا حلیہ بھی خاصا ڈیفالٹ سا ہے ذرا اس پر چہل پہل ہو تو ہم انشاءاللہ پی ایچ پی بی بی کے نئے تھیم اور بہتر سہولیات دینے والے موڈز بھی مہیا کردیں گے۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب عمومی انداز سے ہٹ کر مخصوص قسم کے فورمز بھی اردو میں بن رہے ہیں۔ اردو کوڈر پر بھی ہماری کوشش ہے کہ مقصد صرف اور صرف لینکس اور اوپن سورس ہی ہو لیکن ہمارے اراکین کا اصرار ہے کہ کچھ مزید زمرے بھی بنائے جائیں۔ ہم ان کی خواہشات کے احترام میں کچھ مزید فورمز تو بنا دیں گے لیکن بحیثیت انتظامیہ ہمارا فوکس لینکس اور اوپن سورس ہی ہوگا۔ اسی امید کے ساتھ کہ سعد بھی اپنے فورم کو پاکستان کا بہترین اردو سائنس فورم بنا دیں گے۔ اللہ انھیں مزید اچھا کام کرنے کی توفیق دے۔
اتنا سارا خطبہ سن لیا آپ نے اور مجلس سائنس کا وزٹ نہیں کیا۔ اب میں آپ کو کیا کہہ سکتا ہوں۔ :D

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

زبان:‌ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے!!

December 18th, 2007بذریعہ

لسانیات میں‌ ہمیں دو بہت ہی اہم تصورات سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر لسانیات اور خصوصًا اطلاقی لسانیات (Applied Linguistics) میں زیادہ تر کام انگریزوں کا ہے یا ایسے لوگوں کا جو انگریز نہیں لیکن انگریزی بول سکتے ہیں اور انھوں نے یہ کام انگریزی کے نکتہ نظر سے کیا۔ اطلاقی لسانیات کی بات چلی تو بتاتا چلوں زبان کو سیکھانے کے سلسلے میں ہونے والے تمام اعمال اسی شعبے میں آتے ہیں۔ اچھا لینگوئج ٹیچر اطلاقی لسانیات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے جیسے سکھانے کے نئے طریقے وغیرہ۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں ان تصورات کی طرف۔ اٹھارہویں صدی یا اس سے پہلے انگریزی کے ماہرین لسانیات ایک چیز پر بڑی سختی سے اعتقاد رکھتے تھے اور وہ تھا کہ زبان کو “پابند” ہونا چاہیے۔ پابندی سے مراد یہاں یہ ہے کہ گرامر لکھتے وقت یہ بتایا جاتا کہ انگریزی ایسے لکھی اور بولی جائے نہ کہ کسی اور طرح۔ “معیاری” اور “غیر معیاری” زبان کے بارے میں‌ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معیاری زبان وہ ہے جو ماہرین گرامر و لسانیات کے بیان کردہ قواعد کے مطابق لکھی اور بولی جاتی ہے۔ غیر معیاری سے مراد وہ زبان تھی جو عام لوگ بولتے تھے اور عمومًا ان قواعد سے ہٹ‌ کر۔ اب یہ قواعد کیا تھے؟ انگریزی کی “آبائی” زبانوں یعنی لاطینی، یونانی وغیرہ کے قوانین جو وہ اس پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اس نظریے کو Prescriptive Approach کے نام سے ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔ یعنی زبان میں “کیا ہونا چاہیے”۔
وقت نے ان کے اِن نظریات کو غلط ثابت کیا اور آج ہم جانتے ہیں کہ زبان ایک دریا کی مانند ہے۔ جو وقت کے راستے پر بہتا چلا جاتا ہے۔ اس پر ہم بند نہیں باندھ سکتے۔ اگر باندھیں گے بھی تو یہ کسی اور طرف سے آگے جانے کا راستہ نکال لے گا۔ چناچہ زبان کو پرانے قواعد کا پابند کرنے کی بجائے ہمیں صرف موجودہ حالت کو “بیان” کرنا چاہیے۔ بجائے کہ ہم یہ بتائیں یہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے ہمیں یہ بتانا چاہیے کہ اس زبان کے بولنے والے یہ چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسے ہم Descriptive Approach کے نام سے جانتے ہیں۔
بیان کردینے کا مطلب یہ نہیں کہ زبان قواعد کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زبانوں کے قواعد کی جان اب چھوڑ دی جائے جو کئی سو سال پہلے اس زبان کی آبائی یا مادری زبانوں میں موجود تھے۔ انگریزی اب ایک الگ زبان ہے چناچہ اس پر لاطینی اور یونانی زبان کے قواعد لاگو نہیں ہوسکتے۔ اگر انگریزی نے وہاں سے گرامر، ذخیرہ الفاظ اور آوازیں مستعار لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان زبانوں کے تمام قواعد اس پر فٹ بیٹھیں گے۔
اصل میں اس سارے پس منظر کا مقصد اردو کے حوالے سے کچھ ایسی ہی گفتگو کرنا تھا۔ اردو کی آبائی زبانیں فارسی، عربی، قدیم ہندی یا ہندوی اور دوسری علاقائی زبانیں ہیں۔ اردو جب ظہور پذیر ہورہی تھی تو اس نے بہت سی چیزیں عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ سے لیں۔ لیکن آج چار سو سال کے بعد اردو کی اپنی ایک شناخت ہے۔ اس کا اپنا ذخیرہ الفاظ، الفاظ بنانے اور ملانے کی تراکیب، گرامر اور آوازیں ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ یا سب ہی کسی دوسری زبان جیسے عربی یا فارسی سے اخذ کردہ ہیں تو کیا ہوا؟ اردو کی ہر چیز اپنے اندر مکمل ہے اور اس کے صارفین کی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتی ہے۔
اکثر احباب قواعد کی غلطیوں کو عربی، فارسی اور ہندی تک لے جاتے ہیں۔ چند دن ہوئے محفل پر املاء کی درستگی کے دھاگے میں کسی دوست نے بات کی کہ “لاپرواہ” نہیں‌ بے پرواہ ہونا چاہیے۔ چونکہ لا عربی سے ہے اور عربی میں‌ پ کی آواز کی نہیں ہوتی اس لیے لاپرواہ کی بجائے بے پرواہ ہونا جاہیے۔ اسی طرح کبھی سکول میں غلط درست محاورے وغیرہ رٹا لگایا کرتے تھے وہ وہاں‌ بھی کچھ اس قسم کے قواعد بتائے جاتے تھے کہ فلاں‌ فارسی سے اور فلاں ہندی سے چناچہ ان کو ملانا درست نہیں۔
میرا اس معاملے میں استدلال یہ ہے کہ یہ اردو ہے اور اس میں ہمارے پاس یہ قواعد موجود ہیں کہ ہم کسی سابقے یا لاحقے کو دوسرے لفظ سے مرکب کرکے نئی ترکیب تشکیل دے سکتے ہیں قطع نظر اس بات کے کہ اس لفظ‌ کا ماخذ‌ عربی، فارسی یا ہندی ہے۔ ان میں یہ لفظ یقینًا اس طرح استعمال نہیں‌ ہوتا ہوگا اور نوے فیصد یہ چانس ہے کہ یہ لفظ‌ سرے سے اس شکل میں موجود ہی نہیں‌ ہوگا۔
زبان میں تبدیلی آرہی ہے آپ اسے غلط جانیں یا صحیح۔ املاء میں بہت تیزی کے ساتھ بولی کے حساب سے لکھنے کا رواج فروغ پا رہا ہے ۔ مختلف حروف کی آوازیں آپس میں بہت تیزی سے گڈ‌ مڈ‌ہورہی ہیں اور میں نے جہاں تک دیکھا ہے ذ اور ز کی املاء‌کی غلطیاں اب بہت سامنے آرہی ہیں۔
جاتے جاتے ایک تصویر دیکھیے آپ کو یقین آجائے گا کہ زبان بدلتی ہے۔

آپ اسے برا جانیں یا اچھا لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک ریسٹوران کا بورڈ ہے یہ۔ ال عربی کا آرٹیکل ہے جیسے انگریزی میں‌دی ہوتا ہے۔ ال کسی نام کے ساتھ لگا کر اسے خاص بنا دیا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ یہ ترکیب صرف عربی نژاد الفاظ یا اسماء کے ساتھ ہی آسکتی ہے لیکن صارفین ثابت کررہے ہیں کہ وہ عربی تھی یہ اردو ہے۔ میں اسے غلط ٹھیک نہیں‌کہہ رہا صرف بیان کررہا ہوں کہ “ایسے ہوتا ہے”۔
ذرا سوچئیے اور غور کیجیے آپ کے اردگرد زبان میں کس کس طرح تبدیلیاں آرہی ہیں اور زبردستی آرہی ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

تلاش گری کا جن اب وائرلیس کے میدان میں

December 1st, 2007بذریعہ

تلاش گروں کا گرو گوگل اب موبائل اور وائرلیس نیٹ ورکس میں بھی ٹانگ اڑانے کی کوشش میں ہے۔ گوگل کی اینڈرائڈ سافٹویر ڈیلوپمنٹ کٹ کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ اینڈرائد موبائل کی ایپلی کیشنز تیار کرنے کے لیے ایک اوپن ڈویلپمنٹ کٹ ہے۔ اس سلسلے میں گوگل کو موبائل انڈسٹری کے دیووں کا تعاون حاصل ہے۔
اب گوگل امریکہ میں اپنا ایک وائرلیس نیٹ ورک شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی ماہ پہلے گوگل نے اعلان کردیا تھا کہ وہ امریکہ میں ہونے والی 700 میگا ہرٹز وائرلیس طیف کے لیے بولی لگائے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ریڈیائی امواج کی مختلف فریکوئنسی ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے آلات کو بذریعہ وائرلیس چلانے کے لیے ان سے نکلنے والی امواج کو ایک خاص فریکوئنسی حد ہی الاٹ کی جاتی ہے۔ جبکہ طیف سے مراد ہم ایسا سکیل لیتے ہیں جس پر مختلف امواج کو ان کی فریکوئنسی یا طول موج کے حساب سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ طیف کی سادہ سی مثال سورج کی روشنی کو منشور میں سے گزارنے سے حاصل ہونے والے رنگ ہیں۔ یہ سات رنگ جب سفید کاغذ پر ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے۔
گوگل اس طیف یعنی 700 میگا ہرٹز طیف کے لیے اگر بولی جیت جاتا ہے تو وہ اپنا وائرلیس نیٹ ورک لانچ کرسکے گا یا پھر ہوسکتا ہے وہ کسی کو اپنا پارٹنر بنا لے۔ اپنی سروس دینے کے ساتھ ساتھ گوگل وائرلیس سروس “تھوک” کے بھاؤ بھی بیچ سکتا ہے جسے آگے اینڈ یوزر تک دوسرے لوگ پہنچائیں گے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

احتجاج؟

November 17th, 2007بذریعہ

ایمرجنسی لگے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ ہر جگہ احتجاج کی باتیں ہورہی ہیں یا احتجاج ہورہا ہے۔ حالات تیزی سے فوجی صدر کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی نے اس بار لوگوں کو بہت تیزی سے اس صورت حال سے باخبر کیا۔ اس کے نتیجیے میں مقبول ٹی وی چینلز کی بندش اور اس کے بعد جیو کے ختم ہونے کی خبر بھی سننی پڑی۔
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں‌ حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں‌ لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں‌ جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیں‌تو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں “سالا پاگل ہے”۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں‌ ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں‌ نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں‌ یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں‌ اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں‌ ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں‌ ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں‌ خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں‌ یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں‌ وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سبحان اللہ دل خوش ہوگیا

October 15th, 2007بذریعہ

افتخار اجمل صاحب کی حالیہ پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آج ذرا فراغت تھی میں نے سنت کی آئینی حیثیت از ابواعلٰی مودودی کا دیا گیا پی ڈی ایف ربط اتار لیا۔ ابھی صرف ایک سو پچاسی صفحات پڑھے ہیں۔ شاید مزید پڑھنے کی بھی توفیق نہ ہو۔ لیکن بخدا مزہ آگیا ایک بار۔

وہ منکر حدیث صاحب کج بحث اور نئے اعتراضات جڑنے کے ماہر ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی علمی بات تو ان سے ہو نہیں رہی۔ بس بودے اعتراضات کیے چلے جارہے ہیں۔ ایک دو جگہ مجھے اپنی کم علمی کی وجہ سے اعتراضات میں وزن لگا لیکن جب قرآن سے اس کا ثبوت مودودی صاحب نے نکال کر دیا تو سب کچھ آئینے کی طرح شفاف ہوگیا۔

یہ کوئی پچاس سال پرانی بات ہے۔ لیکن اعتراضات وہی ہیں جو ابھی کچھ دن پہلے ہی محفل پر کیے جارہے تھے۔ احادیث کو لکھا کیوں نہیں گیا۔ ان کتب میں ہر چیز قابل اعتبار کیوں نہیں ۔یہ کیوں نہیں وہ کیوں نہیں۔ یہ کتب روایات ہیں۔ اور پھر جب موسیقی کے حلال حرام کا قصہ آیا تو قرآن کی ایک آیت جس کا مفہوم ہے تم پر جو چیزیں حلال کی گئی ہیں ان سے پچھے نہ ہٹو وغیرہ کا حوالہ دے کر مطمئن ہوجانا۔ لیکن دین صرف قرآن کا نام ہی نہیں۔ صاحب قرآن کے احکامات اور اطاعت کا نام بھی ہے۔

بخدا میرے تصورات اس کتاب کے معاملے سے مزید کلئیر ہوئے ہیں۔ یہ حق و باطل کی جنگ بڑی پرانی ہے چناچہ مجھے اب کوئی چنتا نہیں۔ اللہ سائیں بہتر کرے گا۔ اگر اس وقت ابو لاعلٰی مودودی جیسے علماء موجود تھے تو آج بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقین موجود ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر