آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

بلڈی پورز

October 4th, 2007بذریعہ

ہر بچہ پڑھ جائے گا تے ملک ترقی پائے گا۔

صاحب کیا واقعی ایسا ہی ہوگا۔

ہاں ہاں کیوں ایسا ہورہا ہے۔ تم نے ٹیلی وژن پر نہیں دیکھا۔ بچے سکول جارہے ہیں۔ انھیں کتابیں مل رہی ہیں۔ میں روز تو پڑھا لکھا پنجاب ہمارا کے ساتھ ٹیلی وژن پر آتا ہوں۔

پر صاحب ہمارے محلے میں جو ہائی سکول ہے اس میں تو صرف ڈیڑھ سو بچہ رہ گیا ہے باقی سب بھاگ گئے ہیں۔

اچھا اسے چھوڑو یہ سنو۔ سب کی خدمت فرض ہمارا صحت مند پنجاب ہمارا۔ دیکھا پنجاب کتنا صحت مند ہوگیا ہے۔ پہلے کبھی ایسا ہوا تھا؟

پر صاحب ہمارے محلے میں جو ہسپتال جتنی بڑی ڈسپنسری تھی اس میں اب ناظم نے دفتر بنا لیا ہے۔

اوئے کم عقل جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ چھوٹے لوگ اور چھوٹی سوچ کی جان چھوڑ دو۔ ٹیلی وژن پر دیکھو یہ آج کی حقیقت ہے باقی سب چھوڑو۔

صاحب اس پر تو اربوں روپے لگتے ہونگے نا مشہوری دینے کے لیے؟ اگر یہ عوام پر لگتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

ابے چپ کر۔ جنرل صاحب ٹھیک کہتے ہیں بڈی پورز انھیں ذرا بھی تمیز نہیں۔ دفع ہوجاؤ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لسانیات

October 1st, 2007بذریعہ

ہمارے اگلے سمسٹر میں ایک مضمون پڑھایا جائے گا ہمیں جس کا نام سٹائلسٹکس ہے۔ اردو ترجمہ کریں تو انداز بیاں۔ اس کا کام یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے انداز بیاں کا کھوج لگائے۔ یہ انداز کسی لکھاری کا بھی ہوسکتا ہے جیسے آپ ممتاز مفتی کو اس کی تحریر سے پہچان لیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص الفاظ، کچھ گرامر کے پیٹرنز کا بے تکلفانہ استعمال کرتا ہے۔ گرامر کے پیٹرن کا ایک رف سا خاکہ یہ ہوسکتا ہے کہ محی الدین نواب کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ گئی، گیا نہیں لکھتا ہمیشہ یہ لکھے گا کہ چلتی ہوئی گئی، چلتا ہوا گیا۔ یہ چلتا ہوا گیا جو کہ ایک فعل گیا کی جگہ استعمال ہورہا ہے ایک خاص گرامر پیٹرن ہے۔۔کم از کم میں فورًا پہچان جاتا ہوں کہ یہ بندہ محی الدین نواب ہے۔

اگر ہم عمومی سٹائلسٹکس کی بات کریں تو یہ انداز کسی خاص شعبہ زندگی کے لوگوں کا ہوسکتا ہے۔ جیسے قانون سے تعلق رکھنے والوں کی ایک مخصوص پیشہ ورانہ زبان ہوتی ہے۔ جسے وہ عدالتوں، کچہریوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہم ان کو بھی ان کے انداز بیاں سے پہچان لیتے ہیں۔

کسی بندے کا تکیہ کلام اس کے انداز بیاں کا حصہ ہے چناچہ اکثر آپ تکیہ کلام کے بل پر دوسرے بندے کو پہچان لیتے ہیں۔ سٹائلسٹکس میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کسی بے نام لکھاری کی تحاریر کو اس تجزے کی بنیاد پر شناخت کرلیا گیا۔ کام صرف اتنا تھا کہ بے نام لکھاری کی تحاریر کا سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے، کس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے، فعل زیادہ یا اسماء زیادہ، کونسے گرامر پیٹرن زیادہ استعمال کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کام کو ان لکھاریوں کی تحاریر کے تجزیے سے ملایا گیا جن کے بارے میں کنفرم تھا کہ اس تحریر کا لکھاری یہی ہے۔ اس طرح گمنام لکھاریوں کو انداز بیاں ایک ہونے کی بناء پر جانے مانے لکھاری سے ملایا گیا اور بعض اوقات سو سال بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ گمنام تحریر فلاں لکھاری کی ہے۔

اسی بنیاد پر میں نے آج سوچا کہ اگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی سٹائلسٹکس تجزیہ کیا جائے تو کیسا رہے؟ یہ خیال مجھے محفل پر کئی ماہ تک پڑی رہنے والی کھپ کی وجہ سے آیا جس میں یار لوگوں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچ ہونے پر انگلیاں اٹھائیں۔

اس تجزیے کے لیے ایک ایسا بندہ درکار ہوگا جو عربی اور لسانیات کی اس شاخ یعنی سٹائلسٹکس پر عبور رکھتا ہو۔ نیز عربی کا مشینی تجزیہ کرنے کے لیے کئی سافٹویر بھی درکار ہونگے۔ یعنی اچھا خاصا ایک پراجیکٹ بن سکتا ہے۔ لیکن ہمارا کام تو تجویز دینا تھا۔ پتا نہیں یہ قابل عمل بھی ہے یا نہیں۔ چونکہ احادیث کو جانچنے کے کئی معیارات صدیوں سے مستعمل ہیں۔ اسماء الرجال اور شاید صرف و نحو بھی۔ ان میں شاید انداز بیاں کا تجزیہ جیسی کوئی چیز بھی ہو۔

آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

محب علوی

September 30th, 2007بذریعہ

محب علوی نال میرا ایک معاہدہ ہویا سی کے او میرے اُتے لکھن گے تے فیر میں کاؤنٹر اٹیک کراں گا۔ لیکن عرصہ ہویا ایس گل نوں۔ اج اونھاں نال گل ہورہی سی تے میں سوچیا چلو اے وی فرض ادا کردے چلئیے۔ چونکہ معاہدے دے مطابق میں کاؤنٹر اٹیک کرناں سی ایس لئی اردو دی جگہ پنجابی وچ لکھن لگا واں۔

محب علوی مینوں ہن تے یاد وی نئیں آؤنداں محفل سے کدوں آیا سی۔ لگدا اے جیویں اے ہمیشہ توں محفل تے سی۔ تسی یقین کرو یا نہ کرو زندگی وچ پہلی دفعہ جس علوی نال ملیا او محب علوی سی۔ حالانکہ شادی شہداء بندہ اے لیکن ایدے کم کاکیاں والے نیں۔

ٹیلی فون کرے گا تے پونا کینٹا کتے نئیں گیا۔ مینوں تے اینج لگدا اے فون اَک کے ایدے ہتھوں نکل کے نسدا اے تے اے کال مکاؤندا اے۔ اردو واسطے کجھ کرن دا جذبہ ایدے اندر ٹھاٹھاں ماردا اے۔ اے ٹھاٹھاں کس قسم دیاں نیں میں کجھ کہہ نئیں سکدا۔ شاید اُچی اڈی والے سینڈل دیاں ٹھاٹھاں۔

ہون نوں بہت کجھ ہوسکدا اے، لیکن اے ایسا بندا اے جیڑا بہت کجھ کرسکدا اے۔ گلاں اینج سناؤندا اے کہ اگلا بندہ کہندا اے بس دنیا تے اے ہو ای اے۔ ایدی ایسے خاصیت دی وجہ توں اینھوں اردو لائبریری دا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا اے۔ اردو ٹیک تے گیا تے اوتھے وی سائیاں اینھوں مزدوراں دا ہیڈ بنا چھڈیا۔

سٹیٹ لائف والیاں دی بدقسمتی کہ اونھاں نو نئیں مل سکیا چکانویں دے کے سافٹ وئیر پروگرامنگ ول آگیا۔ ورنہ ایدھے لچھن انشورنش ایجنٹاں والے نیں۔ گلاں گلاں وچ بیمار نو کھڑا کر دوے دے کھڑے نوں لمے پا دوے وچارہ ہائے ہائے کردا پھرے۔ چنگے پلے بندے نوں زمینوں چک کے اسمانیں چڑھا دندا اے۔ فیر آپ بے نیازی نال اگے ودھ جاندا اے پچھوں پانویں او غریب اپنی ہڈی پسلی تڑا بیٹھے۔

شروع شروع چ مینوں وی اسمانیں چڑھایا۔ لیکن شکر اے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مینوں اپنے آپ وچ او او خوبیاں نظر آؤن لگ پیاں سی جہیڑیاں کدی میں خواب وچ وی نئیں سی سوچیاں۔ ایہو جئے بندے کولوں تے بندہ سڑ وی نئیں سکدا۔ بھئی سڑے کس چیز تے، الٹا آپ تھلے بے کے تہانوں گڈی وانگ اسمانیں چاڑھد دندا ے۔

کوئی پراجیکٹ چلاؤنا ایدے کھبے ہتھ دی مار اے۔ ساریاں نوں ایک دفعہ تے گھن چکر بنا دیندا اے۔ فلانیاں نوں وی آجا ٹینگڑیا توں وی آجا۔ ایسے ایسے بندیاں نوں لے آؤندا اے کہ تسی سوچ وی نئیں سکدے۔ لوکیں نا نا کرکے وی کم کرجاندے نیں۔ بس اینھاں ای، ہاں ٹھیک اے اینھاں ای۔ اچھا تھوڑا جئا ہور چل دے اے وی۔تے اینیں دیر وچ کم ای مک گی ہندا اے۔

میں مشورہ دواں گا جنھاں ماواں دے بچے سکول نئیں جاندے، کوڑی دوائی پین لگے تنگ کردے نیں۔ او چینی دی بجائے محب علوی نوں ٹرائی کرن انشاءاللہ افاقہ ہوئے گا۔

ایس بندے دا ناں محب علوی نئیں محبوب علوی ہوناں چائیدا سی۔ اردو نال محبت رکھن والے محب علوی نال وی محبت رکھدے نیں۔ اے علیحدہ گل اے کہ پاء جی ہوراں دا اصل ناں فاروق ظفر اے۔ مینوں ایس ایم ظفر دے کوئی قریبی شریبی لگے نیں، شاید ایسے وجہ توں محب علوی کہلواؤندے نیں۔

خیر سانوں یار دی یاری نال غرض۔ محب علوی سدا خوش رہوے۔ بیبا بندا اے۔ (نہ بی بی نا بابا، بلکہ بی با رب جانے کیس سیانے نے اے لفظ ایجاد کیتا سی خیر چھڈو تسیں اگے پڑھو) دعا اے ایدا ساڈا تے اردو دا ساتھ سدا قائم رہے۔ اور آ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ورڈپریس 2.3 کے ٹیگ پلگ انز

September 24th, 2007بذریعہ

ورڈپریس ابھی آیا نہیں لیکن ڈھنڈورا گلی گلی پٹ رہا ہے۔ ورڈپریس والوں نے سادہ ٹیگ متعارف کروائے ہیں یار لوگوں نے اس بنیاد پر تین تین منزلہ پلازے کھڑے کرلیے ہیں۔ دو پلگ انز ملے ہیں دونوں ہی مجھے پسند آئے ہیں اگرچہ دونوں ہی میرے ہاں کام نہیں کررہے۔

آپ پریشان نہ ہوں آپ کے ہاں لازمی کریں گے۔ میرے پوسٹ پیج پر تو ٹنی ایم سی ای بھی عرصہ ہوا نہیں چلتا۔ چونکہ مجھے ورڈپریس سے پنگے بازی کی عادت ہے اس لیے سارا پوسٹ پیج تب سے ہی خراب ہے۔ اور سرور بھی ایسا ناراض ہوا ہے کہ کئی اپگریڈوں کے بعد بھی حالات ویسے ہیں ہیں۔ مجھے نبیل کا اردو کردہ ایف سی کے ایڈیٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔

خیر آپ اس کو چھوڑیں اور یہ پلگ انز دیکھیں۔ کیا شاندار چیز ہے۔ اور اجمل صاحب کے لیے خصوصًا: ورڈپریس ڈاٹ کوم پر ٹیگ کی سپورٹ شامل کردی گئ ہے۔ آپ اپنے پوسٹ پیج پر تحریر خانے کے نیچے ایک اور خانہ دیکھ سکتے ہیں جو کہ ٹیگز دینے کا ہے۔

ایڈوانسڈ ٹیگ انٹری

یہ پلگ ان آپ کے پوسٹ پیج کو خاصا لمبا کردیتا ہے۔ ٹیگ کا سلگ شامل کرنے کی سہولت مجھے کام کی لگی ہے اس طرح ٹیگ اردو ہونگے اور ان کا ربط انگریزی بنے گا۔ یعنی کیٹگری سلگ کی طرح اردو انگریزی دونوں۔

کلک ٹیگز

کلک سے ٹیگ شامل کرنے کے لیے اچھی چیز ہے۔ بالکل ویجٹ پلگ ان کی طرح اپنے ٹیگز کو ماؤس سے گھسیٹیے اور موج کیجیے۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

عام سے لوگ اور عام سی باتیں

September 22nd, 2007بذریعہ

کئی دن سے ایک رسالہ لائبریری سے آیا ہوا تھا کل وہ واپس دینے گیا تو وہاں باتوں ہی باتوں میں وہی عام سی باتیں شروع ہوگئیں۔

لائبریرین عرفان بھائی نے حسب معمول کاروبار کا موضوع چھیڑ دیا۔ کہنے لگے کچھ بھی نہیں رہا۔ دونمبر کام کرنے والوں کے مزے ہیں اور مزدور آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا مشکل سے مشکل ترین ہوگئی ہے۔ گندم چھ سو روپے من ہوگئی ہے۔ لائبریری کا طریقہ کار یہ ہے کہ کتاب کی رقم کے برابر سیکیورٹی رکھوا کر پھر کتاب کرائے پر ایشو کی جاتی ہے۔ بتانے لگے اب لوگ پیسے رکھنے سے کترانے لگے ہیں۔ کسی کا دو سو روپیہ بھی جمع ہے تو کہتا ہے بس واپس کردو۔

عرفان بھائی لائبریری کو سروے پلیس کہتے ہیں۔  ہر طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں تو سروے خود ہی ہوجاتا ہے۔ اور ان کے اس سروے کے مطابق عام آدمی اس وقت ایسی حالت میں ہے جیسے کسی نے گِچی(گردن)  سے کَس کر پکڑ رکھا ہو۔ ایک خاتون کا قصہ سنانے لگے کہ اس دن آئی تو کہنے لگی عرفان بھائی رمضان ہے بچے افطار کے وقت سیب مانگتے ہیں کہاں سے لا کر دیں اتنے مہنگے ہیں۔ پھر خود ہی سبزیوں کے ریٹ بتانے لگے کہ ستر روپے تک کلو  ہوگئی ہیں۔ کریلے اور ٹینڈے جنھیں میرے جیسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے تھے اب قریب نہیں آنے دیتے۔ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی چیز نہیں مل رہی۔ حکومت والے کہتے ہیں یوٹیلٹی سٹور پر دستیاب ہے۔ ان کے باپ کے نوکر ہیں جو یوٹیلٹی سٹور سے جاکر قطاروں میں لگ کر یوٹیلٹی سٹور والے کی منتیں کرکے ساتھ اور بھی زبردستی کی خریداری کرکے آٹا لیں۔

عام سی باتیں کرتے کرتے کئی اور دوست اکٹھے ہوگئے اور پھر بات مشرف کے الیکشن تک پہنچ گئی۔ ایک دوست کا خیال تھا اس قوم کو چھِتر ہی پڑنے چاہئیں۔ نہ یہ ان لیڈروں کو منتخب کرے اور نہ وہ ان کا استحصال کریں۔ عرفان بھائی کا خیال تھا کہ کون ایسا کرے۔ کوئی بھی نہیں کرے گا۔ ہمارے اندر اتحاد کی کمی ہے اور سب سے بڑھ کر لیڈرشپ موجود نہیں۔ اس سوال پر کہ لیڈرشپ کہاں سے آئے وہ بولے ہم تو یہ نہیں کرسکتے اب تو یہ نوجوانوں کا کام ہے۔ وہ آگے بڑھیں۔

اور میں سوچنے لگا کہ نوجوان کیا کررہے ہیں۔ نوجوان کراچی میں ہیں تو لسانی مذہبی تنظیموں کے چنگل میں پھنس کر اپنا آپ گنوا رہے ہیں۔ نوجوان پنجاب میں ہیں تو انھیں دو وقت کی روٹی کی فکر ہے یا یہ کہ اچھی نوکری مل جائے پڑھ لکھ کر۔ نوجوان سرحد اور بلوچستان میں ہیں تو اتنے زہریلے اور کڑوے کہ اپنوں کو ہی ڈنک مار رہے ہیں۔ اور ان کے علاوہ باقی قوم؟

باقی قوم دو وقت کی روٹی کی فکر میں بھاگے چلے جارہی ہے بھاگے چلے جارہی ہے۔ تَیلی کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں صبح شام شام رات رات صبح پھر شام اور یہی چکر ازل سے ابد حتٰی کہ ایک دن لڑکھڑا کر گرتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ ان کی جگہ نیا بندہ لاکر کھڑا کردیا جاتا ہے پھر وہی چکر۔

اور لیڈر کیا کررہے ہیں۔ لیڈروں کو اپنی کرسیاں بچانے کی پڑی ہے۔ منافع کی پڑی ہے۔ اب اس چیز کو مہنگا کردو۔ اس کو بلیک کردو۔ یہ پرمٹ لے لو۔ اس بات یہ ڈیل کرلو۔ فلانا ہاتھ آیا ہے کام نکلوا لو۔ صدر کو اپنی صدارت کی ہے۔ وزیروں کو وزارت کی ہے۔ چوہدریوں کو چوہدراہٹ کی ہے۔

اگر آپ پاکستان کو اوپر سے دیکھیں تو ایسے لگے گا جیسے عام آدمی گلے کی بکریاں ہیں جو سرجھکائے بکریوں نہیں گدھوں کی طرح کام میں جتے ہوئے ہیں اور ان  کی رکھوالی کرنے والے آپس میں کتوں کی طرح ہڈی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دور کسی بلندی پر کوئی بیٹھا کچھ دیر بعد ان کے لیے ایک ہڈی پھینک دیتا ہے اور وہ پھر سے اس ہڈی کے لیے لڑنے لگتے ہیں۔

عجب طُرفہ تماشا ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

قصہ ہماری “کرنٹ” مصروفیات کا

August 6th, 2007بذریعہ

یوں تو آج کل کرنٹ یعنی بجلی کا کافی کال شال پڑا ہوا ہے۔ جب چاہے بجلی آنکھ بند کرلیتی ہے۔ لیکن ہم نے سوچا ان دنوں کی کچھ مصروفیات کا ذکر کرتے چلیں۔

یونیورسٹی کھل چکی ہے، ہم ہیں اور اساتذہ کی ظالم اسائنمنٹس۔ ہمارا امتحانی نظام دوہرا سا ہے۔ ایک آدھ اسائنمٹ مبلغ پچیس فیصد نمبر کی ہر مضمون میں گھسیڑی ہوئی ہے۔ سمسٹر کے آخر پر سب کو ان کی پڑ جاتی ہے۔ چناچہ اب سارے اساتذہ ہم پر دانت تیز کررہے ہیں۔ کچھ نے اسائنمنٹس دے دی ہیں کچھ دینے کی باتیں کررہے ہیں۔ اور ہم جیسے نئے پنچھی منہ چَک کر دیکھ رہے ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ ساتھ ایک عدد پریزینٹیشن بھی ہے۔ یعنی نمائش غریباں بہ روئے رقیباں۔ سوال کرنے کے بھی نمبر ہیں اور یار لوگوں نے سوال کرکر کے سب رٹا شٹا بھلا دینا ہے۔ دعا کیجیے گا کہ اللہ ہمیں اس "امتحان" سے بخیر مکتی دے۔ ابھی فائنل کا امتحان پڑا ہے۔ آہ!!!!

آہ سے یاد آیا آہا اپنے مکی بھائی آج کل لینکس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ دھڑا دھڑ ڈسٹروز اتار رہے ہیں اور رائٹ کررہے ہیں۔ ڈی وی ڈی رائٹر کیا لے لیا ان کی تو چاندی ہوگئی۔ کوئی درجن بھر ڈسٹروز اتار چکے ہیں۔ اور کئی ایک قطار میں لگی اپنی باری کی منتظر ہیں۔ خود بھی کبھی فیڈورا استعمال کررہے ہوتے ہیں کبھی مینڈ(ر)ک۔ آج کل سلیک وئیر کو اتار رہے ہیں۔ ہمیں بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ڈی وی ڈی ریڈر ہی کم از کم لے لو تاکہ فیڈورا نصب کرسکو۔ ہم بس ایک ٹھنڈی آہ سی بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ابھی فرصت اور ہمت کہاں اتنی۔ لیکن امیدہے جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بس اس سمسٹر کا بخیر اختتام ہوجائے اور ہماری چنگی سے وہ بن جائے(پتا نہیں اسے کیا کہتے ہیں سی جی پی اے شاید) چلیں جو بھی ہے۔ بس بن جائے۔

دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اور بلاگ کا لے آؤٹ انشاءاللہ جلد ہی بدل دوں گا فی الحال گزارہ کریں۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

صوبائی اور علاقائی خودمختاری کے دیرینہ مطالبات اور حکومت

June 22nd, 2007بذریعہ

عرصہ دراز سے ملک کے مختلف حصوں سے خودمختاری دینے کے مطالبات آرہے ہیں لیکن ہر حکومت نے اس کو پس پشت ڈالا ہے۔ اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چھوٹے صوبے اور آئینی حقوق سے محروم یہ علاقے سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور اسلام آباد کو نفرت کے نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔

« تحریر کا بقیہ پڑھیں

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

کیا پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہے؟

June 1st, 2007بذریعہ

محفل پر ایک نہایت ہی محترم رکن نے دوران گفتگو یہ بات کی کہ پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ان کی باتوں کے آغاز میں گالی درمیان میں گالی اور آخر میں بھی گالی ہوتی ہے۔
 میں ایک پنجابی ہوں۔ پنجاب کے ایسے شہر کا رہنے والا جو قریبًا پنجاب کے درمیان میں واقع ہے۔ سوچا اس پر کچھ تحقیق کروں۔ محفل پر کچھ احباب نے اوپر دئیے گئے اس بیان پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے بھی ایک نہیں لکھ مارا کہ ایسا نہیں۔ لیکن بعد میں جب تسلی سے سوچا تو نتیجہ کچھ اور نکلا۔ میں کوشش کروں گا کہ اس سارے سلسلے کو غیر جانبدار ہوکر دیکھ سکوں۔

« تحریر کا بقیہ پڑھیں

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

جب ہمارے پسینے چھوٹے۔۔۔

May 14th, 2007بذریعہ

کل تک ہم نے پسینے چھوٹنے کے بارے میں چند ایک واقعات اور محاورات ہی سن رکھے تھے۔۔
لیکن کل  محسوس بھی کرلیا اور دیکھ بھی لیا۔ ہمارے استاد محترم سر راشد نے جو ہمیں انگریزی گرامر پڑھاتے ہیں ایک اسائنمٹ دی۔ ساری کلاس کی طرح ہم نے بھی اسے "لائٹ" لیا اور جب کل اسائنمنٹ چیک ہوئی تو ہمارے آدھے کام نے ہمارے پسینے چھڑوا دئیے۔ پسینوں پر عروج تب آیا جب سر نے اسائنمنٹ چیک کرکے اس کے نمبر دینا شروع کردئیے۔ ہمیں بے اختیار رومال نکالنا پڑا۔

کل بقول ہمارے ہی موج ہوگئی۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے یہ پسینے دوبارہ چھوٹیں۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر کیوں اتنا جنون کیوں؟

March 28th, 2007بذریعہ

کل میں  آنلائن نہیں ہوسکا آج دیکھا تو بی بی سی اردو کی ایک خبر کی ڈھنڈیا مچی ہوئی ہے۔ ملک طالبانائز ہورہا ہے۔ ہر طرف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہوئی ہے ۔ یہ وہ۔۔۔

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے سر پر جو بھوت سوار ہوجاتا ہے پھر ارنے بھینسے کی طرح ہم سر جھکا کر اسی طرف پل پڑتے ہیں۔

ہمارے ہاں آہستہ آہستہ ہر دو معاملات میں جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف اگر ویلنٹائن ڈے کو اتنا فروغ دیا جارہا ہے اور یوم محبت کا نام دیا جارہا ہے دوسری طرف کچھ مذہبی تہواروں کو بھی اسی قسم کی شکل دی جارہی ہے اور ان پر پہلے کے مقابلے میں بڑی شدت سے عمل کیا جارہا ہے ۔۔

آج سے دس بارہ سال پہلے کسی کو نہیں پتا تھا کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہے اور اب آٹھویں کا بچہ بھی جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہےا ور اس پر کیا کیا ،”کِیا” جاسکتا ہے۔

مذہب کے حوالے سے دیکھیں تو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کبھی ہمارے مولوی صاحب بتاتے تھے کہ یہی بیس پچیس سال پہلے کسی کو اتنا پتا نہیں تھا۔ لیکن اب یہ ایک رچوال بنتا جارہا ہے۔ گھر کو جھنڈیوں سے سجانا، سڑکوں کو سبز جھنڈوں سے سجانا، بینر لگانا، سٹکر لگانا اور اب  مرحبا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے لگانا۔

میں اس کی مذہبی حیثیت پر بحث نہیں کرتا چاہتا ورنہ اسے بڑی آسانی سے بدعت کہا جاسکتا ہے اور کہا بھی جاتا ہے۔

میرا یہاں یہ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔

ویلنٹائن ڈے، فلانا ڈے یہ ڈے وہ ڈے اور مذہب کے نام پر یہ تہوار عروس یہ وہ۔ یہ سب آہستہ آہستہ فیشن بنتے جارہے ہیں ہردو طبقوں میں۔ ان میں بھی جو دنیا دار ہیں اور ان میں بھی جو مذہبی سمجھے جاتے ہیں۔ اور اس سب کا فائدہ کس کوہورہا ہے؟

 اس کا فائدہ سراسر ان کو ہورہا ہے جو ہمارے لیے قطعًا مخلص نہیں۔ ہم دین کو چھوڑ کر چند بے معنی رسومات سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ مغربی تہوار ہمارے اندر میڈیا کے ذریعے زبردستی گھسیڑے جارہے ہیں۔ اب تو مذہبی تہواروں پر بھی میڈیا بڑے “اچھے” انداز میں نشریات پیش کرتا ہے۔ اب ربیع  االاول کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارا سرکاری ٹی وی رحمت اللعالمین کے نام سے نشریات پیش کررہا ہے، صبح آدھے گھنٹے کے گانوں کی جگہ نعتیں پیش کی جارہی ہیں، میزبان صاحب رائزنگ پاکستان میں آکر تلقین کرتے ہیں کہ اس مہینے خصوصًا درود شریف کی کثرت رکھی جائے وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح ویلنٹائن ڈے پر رج کے بے ہودگی کی جاتی ہے اور اسے حسین لبادوں میں لپیٹ کر ہمارے دماغوں میں داخل کیا جاتا ہے۔

یہ سب آخر کس طرف لے کر جارہا ہے؟

ہمیں رسومات کا عادی بنایا جارہا ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا صرف ایک اسی مہینے کے لیے ہے؟ ان کی سالگرہ منانا، نعرے بازی کرنا، جھنڈے لگانا، چار نعتیں پڑھ لینا، بس؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اس ملک کا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہاں کی حکومت کے گوڈوں میں پانی نہیں رہا۔ وہ خود بھی منافق ہوچکے ہیں اور باقی قوم کو بی منافقت کا سبق دے رہے ہیں۔ بلکہ دے کیا رہے ہیں مناق ہوچکے ہیں ہم۔

قوانین کو عجیب انداز سے مبہم بنایا جارہا ہے کہ کسی پر کوئی چیک نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کو روزی روٹی اور بھوک کی فکر ڈال دی گئی ہے۔ ہر دو قسم کے جنونیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

اگر اسلام آباد میں جامعہ حفصہ جیسے ادارے موجود ہیں جو صرف محلے والوں کی درخواست پر خواتین کو اٹھوا لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے بدکاری جسٹ نارمل سی بات ہے۔ میرا دوست اسلام آباد میں زیر تعلیم ہے اور اسے کسی واقف کار کے مطابق کسی برگیڈیر صاحب کی بیٹی کے ان کی بڑی اچھی سلام دعا رہی ہے اور بڑے عرصے تک وہ اس سے “فیضیاب  ” ہوتا رہا ہے بلکہ کئی بار اپنے دوستوں کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے لے جاچکا ہے۔

شاید آپ مجھے بے شرم کہیں لیکن سچ بولنے میں مجھے کوئی عار نہیں۔ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو واقعی ایسا ہوگا۔ چلیں وہ جھوٹ بول لے کوئی بات نہیں آپ میں سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا “ممکن” نہیں۔ بس روکڑا چاہیے ہر قسم تفریح مل سکتی ہے۔

یہ سب جنون نہیں تو اور کیا ہے؟

اور حکومت کیا کررہی ہے؟

حکومت بے حس بنی بیٹھی ہے۔ سڑکوں کے افتتاح ہورہے ہیں، پلوں کے افتتاح ہورہے ہیں، سیورج لائنوں کے افتتاح ہورہے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے انھیں کوئی ٹینشن نہیں۔

پھر نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ یا تو ڈاڑھیوں اور سر پر پگڑیوں اونچی شلواروں والی مخلوق پیدا ہورہی ہے جو دین پر عمل کروانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں نہ صرف عام جنتا کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دین کو پس پشت ڈالے ہر الٹے سیدھے کام میں بڑی ڈھٹائی سے ملوث ہیں، سود خوری ہورہی ہے، رشوت خوری ہورہی  ہے، بدکاری ہورہی ہے، سرعام بلیو پرنٹ فلموں کا لین دین ہورہا ہے دیکھی جارہی ہیں۔ دکھائی جارہی ہیں۔

اگر کوئی ان کے علاوہ ہیں تو وہ چپ بیٹھے ہوئے ہیں کہ کیا کریں؟

میرے جیسوں کو پتا ہے کہ اسلام آباد میں غلط ہورہا ہے، وزیرستان میں غلط ہورہا ہے اس کا سدباب کرنا چاہیے لیکن کون کرے گا؟ میں کروں؟ میں اپنی روزی روٹی کی اپنے گھر کی فکر کروں یا اس کی فکر کروں۔

میرے جیسے جن کو پتا ہے کہ اپنے محلے ہی میں کہاں کہاں کیا ہورہا ہے کس کے گھر میں بے غیرتی ہورہی ہے، کس انٹرنیٹ کلب پر نوجوانان ملت کو جنس کے جال میں پھنسا کر گھلایا جارہا ہے۔ لیکن میں کیا کروں اس کے لیے؟ اس کو روکوں جاکر؟ مجھے اپنے گھر کی فکر ہے اپنی روزی روٹی کی فکر ہے میں ان کو کیا دیکھوں۔

تو پھر کون یہ کرے گا؟ ۔۔۔۔۔کیا حکومت؟؟؟ یا عوام؟؟؟

یا اس طرح کے لٹھ براداران دین؟؟؟

آپ کا کیا خیال ہے کون ہوگا جو یہ کرے گا؟؟

مجھے تو لگتا ہے کہ ہم پر حجاج بن یوسف جیسا کوئی حکمران متعین کردیا جائے جو اس قوم کو ذلیل و خوار کرکر کے سیدھا کردے اور تو کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر اگلی تحاریر »