آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

ٹیگ ٹیگ اور ٹیگ

August 1st, 2008بذریعہ دوست

احباب پچھلے دو ماہ سے ٹیگ ٹیگ کھیل کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ میں ہوتا تو جنگلوں میں نکل جاتا سب چھوڑ چھاڑ کر۔ اتنی دیر میں تو ٹیگ بھی اک گئے ہونگے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ پوسٹ لکھیں اور اس میں ایک دوسرے کی متعلقہ پوسٹ کے روابط دینے کی عادت ڈالیں۔ خیر ہمیں بھی ابوشامل نے کانٹوں سوری ٹیگوں میں گھسیٹ لیا سو ونگار پوری کررہے ہیں۔

ونڈوز یا لینکس؟

دونوں

ہالی وڈ یا بالی وڈ؟

دونوں ہی۔

پیپسی یا کوک؟

جو مل جائے

کراچی یا لاہور؟

فیصل آباد ;)

سیب یا انگور؟

غریب آدمی کو تو جو سستا مل جائے

پاپ یا راک؟

جس کا گانا پسند آجائے ورنہ ہلکے پھلکے رومانوی گانے و غزلیں۔

چائے یا کافی؟

چائے ہی۔

نہاری یا حلیم؟

حلیم کبھی کبھار۔

فورمز یا بلاگ؟

دونوں

دوست یا کزن؟

دوست

کرکٹ یا فٹ بال؟

کرکٹ

پرسکون یا پریشان؟

منحصر بہ وقت

چونکہ یہ کھیل ہر جگہ پھر چکا ہے اس لیے ہمیں مزید کوئی بندہ یاد نہیں آرہا۔ کسی نے تو اسے بند کرنا ہی تھا ہم بند کررہے ہیں۔ ابوشامل کے ٹیگ شدگان باقی چار اسے آگے بڑھانا چاہیں تو بسم اللہ۔۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بارشیں، بجلی اور غذائی اجناس

April 4th, 2008بذریعہ

پچھلے چار پانچ دنوں سے ملک میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میں خوش تھا کہ چلو اب لوڈشیڈنگ سے جان چھوٹے گی۔ والدہ کہنے لگیں یہ بارشیں جو اب ہورہی ہیں جنوری کے آخر یا فروری میں ہونی چاہئیں تھیں۔ ان بارشوں کی وجہ سے ڈیم تو شاید بھر جائیں گے لیکن فصلوں کا ستیاناس ہوجائے گا۔ محکمہ موسمیات کے کے مطابق سندھ میں جاری ان طوفانی بارشوں سے گندم کی فصل بری طرح متاثر ہوگی۔

پچھلے ایک سال سے پاکستان شدید غذائی بحران میں مبتلا ہے اور یہ بحران آئندہ بڑھتا ہی نظر آرہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اسی قسم کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ دنیا بڑے غذائی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں تو پہلے ہی صورت حال بہت خراب ہے۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ کراچی میں فلور ملوں کا کوٹہ کم کردیا گیا ہے۔ میرے ایک عزیز بتا رہے تھے کہ آٹے کا تھیلا لینے کے لیے سارا دن ذلیل ہوا ہوں پوری کالونی میں کسی بھی دوکان پر آٹا نہیں تھا۔ فیصل آباد میں متوسط طبقے کے لوگ یوٹیلٹی سٹور سے آٹا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب واقع سٹور پر پچھلے کئی ہفتوں سے آٹا نہیں آیا۔

کل رات سے فیصل آباد میں لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے۔ سات سے آٹھ تک بند رہنے والی بجلی صرف چند منٹ بند رہ کر دوبارہ آگئی۔ آج بھی 9 سے 10 تک کے لیے بجلی بند نہیں ہوئی۔ شاید ڈیموں میں پانی وافر مقدار میں آچکا ہے۔ لیکن اس کی قیمت شاید ہمیں گندم اور دوسری فصلوں کے بحران کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ اس سال کپاس کی فصل بھی ہدف سے کم حاصل ہوگی۔ گندم کی فصل کو تو دوہرا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔ جنوری میں پڑنے والی سردی کی شدید لہر نے گندم کے پودے ہی جلا ڈالے۔ کہتے ہیں سردی کا بہترین علاج ہے کہ فصل کو پانی دے دیا جائے۔ اس سے درجہ حرارت معتدل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس وقت پانی کہاں تھا۔ ڈیم تو بیوہ کی مانگ کی طرح خالی تھے۔ اب بارشیں ہورہی ہیں تو گندم کی فصل پھل دینے کے لیے تیار ہے۔ اسے اس وقت گرمی کی ضرورت ہے لیکن ان بارشوں سے اتنی ٹھنڈ ہوگئی ہے کہ مجبورًا دوہرا کھیس لے کر سونا پڑ رہا ہے پھچلے دو تین دن سے۔ ورنہ کمرے میں سونا ہی محال ہوتا جارہا تھا اس سے پہلے ۔

ملک کی آدھی آبادی اور چورانوے اضلاع خوراک کے بحران کا شکار ہیں۔ پھچلے ایک سال میں آٹے کی قیمت 28 فیصد اور چاول کی قیمت 48 فیصد بڑھ چکی ہے۔ مجھے یاد ہے آج سے صرف دس سال پہلے تک میرے نانا اور ماموں کے گاؤں اور آس پاس کے علاقے میں چاول کثرت سے کاشت کیا جاتا تھا۔ میں سانگلہ ہل کے علاقے کی بات کررہا ہوں جو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے شیخوپورہ سے کچھ ادھر واقع ہے جنکشن ہے اور اچھا خاصا شہر بن چکا ہے۔ لیکن اب پانی کی کمی کی وجہ سے چونا (چاول کی فصل چُونا نہیں چونا پیش کے بغیر) کاشت کرنا موقوف کردیا گیا ہے۔ بہت کم جگہ سے چاول کی سوندھی خوشبو اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔

آنے والا وقت نہ جانے ہم پر کیسی آزمائشیں لارہا ہے۔ لیکن اس کا دیباچہ ہی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان، چین، افغانستان، بھارت، نیپال اور بھوٹان جیسے ممالک ہمالیہ کے گلئیشیرز سے نکلنے والے دریاؤں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ عالمی موسمی تبدیلیوں نے ان کے پگھلنے کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ ایک طرف جہاں بنگلہ دیش جیسے علاقے سطح سمندر بلند ہونے سے ڈوب جائیں گے وہاں پاکستان جیسے علاقے پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید غذائی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ دنیا کے قریبًا تین ارب افراد ان ممالک میں رہتے ہیں۔ ہمالیہ کی جھیلیں جو گلیشئیرز کے پگھلنے سے وجود میں آتی ہیں اپنی گنجائش سے زیادہ بھر رہی ہیں اور آئندہ پانچ سے دس برس میں یہ اپنے کناروں سے چھلک کر کروڑوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیں گی۔ اربوں ڈالر کی املاک تباہ ہوجائیں گی اور شدید سیلابوں سے ایک وسیع علاقہ زیر آب آکر تباہ ہوجائے گا۔ جس حساب سے یہ گلیشئیر پگھل رہے ہیں لگتا ہے ہمالیہ کا دامن ان سے خالی ہوجائے گا۔ پھر بارشیں ہوا کریں گی اور سیلاب کی صورت میں سمندروں کی نذر ہوجایا کریں گی۔

پاکستان کو اپنے پانی کے ذخائر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے پلے ککھ نہیں رہے گا اور پاکستان سے زندہ بھاگ جیسے نعرے سچ ثابت ہوجائیں گے۔ اس وقت ڈیموں کی تعمیر جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے زیریں علاقوں کے رہنے والوں کو اعتراض ہے کہ پانی روکنے سے ڈیلٹا کا علاقہ تباہ ہورہا ہے۔ اوپر والے یہ شور مچاتے ہیں کہ اتنا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک وسیع مذاکرے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ڈیم ضرور بننے چاہیئں چاہے ان سے نہریں نہ نکلیں بلکہ پانی واپس دریا میں ہی ڈال دیا جائے تو کچھ برا نہیں۔ پاکستان میں ابھی سے نظر آرہا ہے کہ پانی ایک مخصوص وقت میں وافر مقدار میں ہوتا ہے اس کے بعد کوئی چار ماہ ہمیں ہاتھ ملنا پڑتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پچھلے دس سال میں کبھی ڈیم اس طرح خالی ہونے کے بارے میں سنا ہو۔ تربیلا اور منگلا کی گنجائش تیزی سے کم ہورہی ہے۔ گار اور مٹی نے ان کی جھیلوں کی گنجائش بہت کم کردی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچا کرتا ہوں اگر ان کی بھل صفائی ہی کردی جائے تو بہت سی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ خالی ہی تو نہیں ہوجاتے۔ ڈیڈ لیول تلے پانی ہوتا تو ہے جو کہ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ تاہم ان کی صفائی کرنا ناممکن نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس کا کوئی طریقہ نکل آئے تو ہم شاید آئندہ بحرانوں کو کچھ وقت کے لیے ٹال سکیں۔

وقت بہت تیزی سے ہمارے خلاف ہوتا جارہا ہے۔ اگر ہم نے اس کے ساتھ چلنے کی کوشش نہ کی تو ہمیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ کاش یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے۔ کاش ہم کچھ کرلیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سوات: آخر بندوق ہی حل کیوں؟

November 25th, 2007بذریعہ

جب لال مسجد کے واقعے کے بعد سوات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی مجھے اسی وقت لگا تھا کہ اگلا وزیرستان سوات ہوگا۔ یہ بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے۔ آج سوات میں عام لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے۔ پاکستان کا سوئزرلینڈ کہلانے والی وادی اب اپنے رہائشیوں کے لیے جہنم بن گئی ہے۔ حملے، جوابی حملے، خودکش حملے ، فائرنگ، کوبرا اور جانے کون کونسے ہیلی کاپٹرز سے بمباری۔۔یہاں کے مکین اس دوہری آگ کی دیوار میں پس رہے ہیں۔
وہاں کے لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔ بارہ سو سے زیادہ سکول یا تو بے کار پڑے ہیں، یا مقامی طالبان انھیں عقوبت خانوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ آئے دن کے کرفیو نے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل کردیا ہے۔ جو تعلیمی ادارے کھلے بھی ہیں وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔
آخر ہماری سمجھ میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں؟ پاکستانی فوج کے سامنے ہمیشہ فتح کرنے کے لیے اپنا ملک ہی کیوں ہوتا ہے؟
ایک عرصے تک یہ بھیرویں الاپتے رہنے بعد کہ دہشت گردی کی تعریف متعین کی جائے اس کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے آج ہماری فوجی حکومت اس طرف سے آنکھیں بند کیے بم برسا رہی ہے اور بدلے میں خودکش دھماکے وصول رہی ہے۔ اس کے بنیادی اسباب ہیں ہی کیا کہ اسلام نافذ کرر؟
تو کردو نا۔ اسلام نافذ کرنا کیا حاکموں کی ذمہ داری نہیں؟ ان سے مل بیٹھ کر مذاکرات کرکے اسلام کے ایک ورژن پر متفق ہوا جاسکتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ اسلام کو انتہائی غلط انداز میں لے رہے ہیں تو فوج کونسا صحیح انداز میں لے رہی ہے۔ ان کے مطالبات مانگے جائیں جوابی مطالبات پیش کئے جائیں کسی جگہ تو دونوں اطراف میں اتفاق ہوجائے گا یا نہیں؟
فوج کے خیال میں جواب نہیں ہے اس لیے وہ اپنے کوبرا ہیلی کاپٹر، توپیں اور بندوقیں وہاں آزما رہے ہیں۔ اگر کوئی مر بھی جاتا ہے تو پانچ ہزار ماہانہ والا سپاہی ہی ہے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کی بیوہ اور بچوں کو قوم کے سپرد کرکے یہ لوگ آرام سے ریٹائر منٹ کی زندگی گزاریں گے۔ رہے مزاحمت کار اور عام لوگ تو وہ تو ہیں ہی کیڑے مکوڑے۔اول الذکر کا تو ٹھکانہ ہی جہنم ہے موخرالذکر اگر مارا بھی گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
زندہ باد ایسی عقلمندیاں اور پھرتیاں۔
سوات والوں کو اپنی پڑی ہے اور لاہور والوں کو اپنی۔ ایک کو جان کا ڈر ہے دوسرے کو نواز شریف کی آمد کا۔ کراچی میں اپنے مسئلے ہیں اور فیصل آباد میں اپنے۔ کوئی مرتا ہے مرے جیتا ہے جئیے کسی کو کیا۔ جس پر گزرے کی نمٹ لے گا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

نادرا کیاسک ہمارا تجربہ

October 10th, 2007بذریعہ

ہماری حکومت کی آئی ٹی کمپنی نادرا نئے نئے "سٹیپ دکھاتی" رہتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس نے نادرا کیاسک کے نام سے نئی سروس شروع کی ہے۔ شناختی کارڈ کی تصدیق کروائیں، بل جمع کروائیں، موبائل فون کارڈ لیں۔ آج ہم نے بینک میں کھاتہ کھلوانا تھا لیکن اس کے لیے اب گواہی کی بجائے نادرا سے شناختی کارڈ کی تصدیق کروانا پڑتی ہے۔ ہمارے ساتھ والے محلے میں ایک کیاسک مشین نصب کی گئی ہے کچھ عرصہ پہلے۔ وہاں گئے تو  وہاں بیٹھے بابا جی بولے بھئی یہ تو تصدیق کا کام نہیں کرتی۔ کئی دن سے خراب ہے ٹھیک کرنے والے آتے ہی نہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ اکبر چوک چلا جاؤں وہاں بھی ایک مشین ہے۔ میں نے سوچا چلو شہر چلتے ہیں یونیورسٹی سے بھی ہولیں گے اور یہ کام بھی ہوجائے گا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر پہلے نادرا کے رجسٹریشن سنٹر گیا وہاں سے پتا چلا کہ وہ تو پیچھے ہے جہاں سے آیا ہوں۔ چناچہ پیدل مارچ کرکے واپس امین پور بازار آیا (فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں سے ایک)، پوچھ پاچھ کر اس دوکان پر پہنچا وہاں پہلے ہی پانچ چھ بندے بیٹھے ہوئے تھے بیماران کیاسک۔ کوئی بل جمع کروانے آیا تھا اور کوئی شناختی کارڈ کی تصدیق کروانے۔ لیکن مشین کا پرنٹر ہی کام نہیں کررہا تھا۔ آخر بیس پچیس منٹ بیٹھ کر میں لوٹ آیا۔  اب کل دوبارہ اکبر چوک جاکر ٹرائی کروں گا اگر وہ میرے جانے سے پہلے خراب نہ ہوگئی تو۔

ہماری یہ بڑی گندی عادت ہے کہ سکیم شروع کردیتے ہیں پھر اس کو چلانا اور اس کی دیکھ بھال کا کوئی مربوط اور منظم نظام نہیں ہوتا۔ بس سروس سے لے کر کیاسک تک یہی حال ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

کچھ مزید تصاویر

May 13th, 2007بذریعہ

فیصل آباد کی کچھ باضابطہ تصاویر۔ مختلف اوقات مختلف مقامات لیکن اکثر جی سی یونیورسٹی کے آس پاس اور میرے عمومی روٹس کی ہیں۔ انشاءاللہ دوسرے مقامات کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ شامل کرنے کی کوشش کروں گا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

فیصل آباد میں‌جشن بہاراں

April 30th, 2007بذریعہ

فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں جشن بہاراں جاری ہے۔ اس میلہ نما میں لکی ایرانی سرکس جیسی چیزیں عوام کی دلچسپی کے لیے مہیا ہیں۔ چونکہ جی سی یونیورسٹی جانے کے لیے روز آنا جانا ہوتا ہے سو میں نے یہ تصاویر اپنے K510i سیٹ سے کھینچی ہیں۔ تصاویر میں دھندلا پن اور ایک کے دو دو نظر آنا سراسر ہمارے اناڑیانہ پن کی وجہ سے ہے لیکن ہم نے اسے جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر پیش کرنا مناسب سمجھا۔۔۔انشاءاللہ آئندہ آپ ان میں بہتری دیکھیں گے۔ میرا ارادہ اپنے شہر فیصل آباد کے ہر کونے کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرکے اپنے بلاگ پر مہیا کرنے کا ہے اللہ کرے یہ سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہے۔
وسلام




پکاسا البم

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میرے ویب دوست

March 26th, 2007بذریعہ

اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔

نعمان یعقوب

بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔

ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔

قدیر احمد رانا

قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔

بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔

بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو —کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔

بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔

اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔

شعیب صفدر

کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔

ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔

شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب

;)

 

محمد علی مکی

محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔

چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔

اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔

اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح “موج” بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔

ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔

اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سائیکل سواروں کے حقوق

March 10th, 2007بذریعہ

ہم چونکہ خود ایک سائیکل سوار ہیں اس لیے ہم نے سوچا اب جو یہ انسانوں جانوروں فلانوں فلانوں کے حقوق کی باتیں ہورہی ہیں تو ہم کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔ چناچہ سائیکل سواروں کے حقوق کا کئی نکاتی ایجنڈا ہم اپنے بلاگ کے ذریعے اپنے قارئین کےسامنے پیش کررہے ہیں۔

چونکہ تعزیرات پاکستان کی کسی دفعہ کے تحت سائیکل سواروں پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ٹریفک کا اشارہ کیوں توڑا نیز ان کا چالان بھی ممکن نہیں تو ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اشارہ توڑنا سائیکل سواروں کا بنیادی انسانی حق ہے اور کسی کو خصوصًا ٹریفک پولیس کو اس پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سڑک کے درمیان میں سائیکل چلانا سائیکل سواروں کے لیے مستحب ہے لیکن اگر وہ ازراہ کرم سائیڈ پر بھی چلا لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

ریلوے پھاٹک بند ہونے کی صورت میں یہ سائیکل سواروں کا حق ہے کہ وہ سائیکل کو اطراف میں موجود پیدل گزرنے والوں کے راستے سے زبردستی گزار کر لے جائیں چونکہ اس وقت مجمع میں وہی سب سے زیادہ لیٹ ہورہے ہوتے ہیں۔

سڑک پار کرنے کے لیے اچانک اس میں گھس آنا ان کے لیے بہتر ہے چاہے اس دوران ایکسیڈنٹ کا بھی خدشہ کیوں نہ ہو۔

سڑک پر رش کی صورت میں فٹ پاتھ، یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی ان کے لیے عین ثواب ہے چاہے پیدل چلنے والوں کے پاؤں کچلے جائیں اور مخالف سمت سے آنے والوں کو بریک لگانے پڑ جائیں۔

المشتہر

صدر انجمن سائیکل سواراں پاکستان ضلع تحصیل ٹاؤن فیصل آباد(بزعم خود و بقلم خود)

محمد شاکر عزیز

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

صدر صاحب فیصل آباد کو عزت بخش رہے ہیں

February 16th, 2007بذریعہ

کل مورخہ 17 فروری بروز ہفتہ ہمارے ہردلعزیز صدر جناب پرویز مشرف صاحب فیصل آباد کو رونق بخش رہےہیں۔

ان کی آمد کے پیش نظر چمچے کڑچھے الرٹ ہوچکے ہیں۔شہر کی سڑکوں پر سٹریٹ لائٹو ں کے ساتھ پرنٹ شدہ اشتہار لگ چکے ہیں جن میں بڑے لیڈر صاحب چھوٹے لیڈر یعنی سب کے بھائی پرویز الہی کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔

شہر کے ہر چوک پر مشرف زندہ باد، مشرف کو دوبارہ لانا ہے، مشرف آوے ای آوے کے بینر معہ چمچوں کی “منجانبوں” کے لگ چکے ہیں۔

سکولوں کو چھٹی کردی گئی ہے اور بچوں کو اقبال سٹیڈیم پہنچنے کی ہدایت دے دی گئی ہے بلکہ حکومت کے خرچے پر بسیں بھر کر بچے اقبال سٹیڈیم پہنچانے کا بندوبست کردیا گیا ہے تاکہ اسمبلی کی طرح یہاں “کورم” کا مسئلہ نہ بن جائے۔

حفاظتی نقطہ نظر سے فوج طلب کرلی گئی ہے جس نے اقبال سٹیدیم و نواحی علاقوں کو کنٹرول میں لے لیا ہے تاکہ ہردلعزیز لیڈر کو کسی بھی قسم کے گزند سے بچایا جاسکے۔ اور عاوام کا کیا حال ہوگا ٹریفک کدھر جائے گی کوئی ٹینشن نہیں کسی کو۔

پولیس حفظ ماتقدم کے طور پر شہر کے ہر چوک پر تعینات کردی گئی ہے ۔

ٹی وی کی کوریج کا بھی مناسب بندوبست کردیا گیا ہوگا اور سرکاری ٹی وی کا پیٹ بھرنے کے لیے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح گھسیٹ کر سٹیڈیم لے جانے کا بھی وافر انتظام ہوگا اور یقینًا چمچوں کڑچھوں کو ان کا کوٹا الاٹ کردیا گیا ہوگا کہ اتنی بھیڑیں چاہییں تمہاری طرف سے۔

صدر صاحب زندہ باد، صدر صاحب کا پاکستان زندہ باد۔

اور عوام کا کیا ہے یہ تو کم عقل ہیں۔ جاہل کوم تھرڈ کلاس لوگ تھرڈ کلاس سوچ یہ کیا جانیں پاکستان کو کس طرح چلانا ہے اور جمہوریت کس طرح پروان چڑھانی ہے۔ اسی لیے ان کو روزی روٹی کی ڈال دی گئی ہے نہ بھوک ختم ہو نہ یہ سر اٹھائیں۔

 

 

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میرے شہر کی ترقی

November 12th, 2006بذریعہ

ہمارے ہاں بھی ٹرینڈز ہوا کرتے ہیں۔ آج کل چونکہ ترقی کا دور دورہ ہے۔ ہر طرف ملک کی ترقی کے نعرے لگ رہے ہیں اس صورت حال میں میرے شہر کی ضلعی انتظامیہ بھی پیچھے نہیں رہی۔ انھوں نے بھی دھڑا دھڑ ترقیاتی کام شروع کررکھے ہیں۔
جس طرف دیکھیں سڑکیں بن رہی ہیں۔ ہر جگہ پتھر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے تو دو بننا شروع ہوجاتی ہیں اور اب یہ حال ہوگیا ہے کہ دس دس سال جن سڑکوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا ان دو تین سالوں میں کئی کئی بار بن چکی ہیں۔
خدا جھوٹ نہ بلوائے میرے محلے کی ایک گلی اس عرصے میں کوئی 4 بار بن چکی ہے۔ ہر آٹھ دس ماہ میں کہیں سے ٹھیکیدار نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک جگہ مٹی کھود کر اپنا تارکول گرم کرنے کا کڑھاؤ اور دوسرا ساز وسامان فٹ کرلیتے ہیں اور پھر کسی اچھی بھلی سڑک کی کمبختی آجاتی ہے۔ اگلے دن ایک ٹریکٹر نمودار ہوتا ہے جس کے پیچھے صرف ایک بلیڈ پر مشمل ہل ہوتا ہے۔ ساری سڑک پر وہ ہل پھیر کر اسے برباد کردیا جاتا ہے۔ کل یہ کام میرے محلے کی دو سڑکوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ اور یہ دونوں سڑکیں صرف دو یا تین جگہوں سے زیادہ خراب تھیں جن کی وجہ پانی کا کھڑا ہونا تھا جس کی با آسانی مرمت کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ترقی ہورہی ہے اس لیے فنڈز کی بھی فراوانی ہے اس طرف کوئی بھی نہیں سوچتا۔ اب چند دنوں بعد اس پر پتھر کے ڈھیر لگ جائیں گے پھر ان کو بچھانے کے لیے بلڈوزر اور ٹریکٹر آجائیں گے اور فٹ فٹ بھر پتھر بچھا دیا جائے گا۔
اس دوران ٹریفک جائے بھاڑ میں انھیں چاہے گرزنے کا بھی رستہ نہ ملے کسی کو کیا۔ ٹھیکدار کو پیسوں سے غرض ہے، انتظامیہ کو خوشی ہے کہ ترقی ہورہی ہے اور عوام۔ عوام کی کون سنتا ہے۔
سڑکیں بنتی جارہی ہیں لیکن پانی کی نکاسی کا نظام ویسے کا ویسا ہے۔ شروع شروع میں ایک ٹھیکیدار صاحب نے سڑک پر سے پانی کے نکاس کے سلسلے میں اس کے ساتھ ملنے والی ساری گلیوں میں پانی کھینچنے والی چھوٹی چھوٹی ہودیاں بنوا دی تھیں۔ لیکن اس کے بعد ان کا کیا بنا وہ بھی نشان عبرت ہے۔ کچھ تو ویسے ہی بند ہوگئیں کہ جھاڑو دینے والے اپنا سارا گند انھیں میں پھینکتے تھے۔ کچھ پر سے لوہے کے جنگلے یار لوگ اتار کر لے گئے اور ہمارے صدر چوک میں موجود ایک ایسی ہودی کو تو دوسرے ٹھیکدار صاحب نے جو چوک میں سے گزرتے دوسرے بازار کی سڑک بنا رہے تھے زمین میں جہاں ہے جیسے ہی کی بنیاد پر گڑوا دیا۔ غالبًا یہ آنے والی نسلوں کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ جب اس مقام پر کھدائی کریں تو ان کو آثار قدیمہ میں ایک ہودی کے ساتھ نالی اور اوپر جنگلا بھی ملے جس سے وہ ہزاروں سال قدیم شہر کی تہذیب کے بارے میں رائے قائم کرسکیں۔
جہاں سے سڑک نیچی ہے وہاں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہےا ور چار ایک بارشوں کے بعد وہاں اس کی محبت کے نشان نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک کنکر اکھڑ جائے تو اس کے پیچھے لائن لگ جاتی ہے اور دو ماہ میں وہاں ایک اچھا بھلا گڑھا نمودار ہوجاتا ہے۔پھر وہ گڑھا ناسور کی طرح بڑھتا رہتا ہے اور آخر کسی ناظم کی نظر میں آجاتا ہے ناظم صاحب فنڈز فراہم کرتے ہیں اور سڑک کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے۔
پتھرڈالے جاتے ہیں اور اوپر کنکر تارکول کا ایک لیپ کردیا جاتا ہے جو ناقص رنگ کی طرح چند ہی ماہ میں اکھڑنے لگتا ہے اور دوبارہ سے پھر وہی چکر سڑ ک کی بربادی سے تعمیر تک۔ اس کا نتیجہ اور تو جو نکلے سو نکلے ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ گھر جو زمین سے 2 فٹ سے بھی اونچے تھے اب زمین کے برابر یا اس سے نیچے ہیں۔ چونکہ گھروں کو بارش اور گٹروں کے گندے پانی سے بچانا بھی واسا کی نہیں عوام کی اپنی ذمہ داری ہے اس لیے گھروں کو اونچا بنانے کا رواج ہے لیکن اب لگتا ہے ہر بار سڑک بننے کے بعد اس کے باسیوں کو بھی گھروں میں مٹی ڈلوا کر اونچا کروانا پڑا کرے گا۔ ورنہ حال ہمارے پڑوسی جیسا ہوگا جو چار نفوس ہر بارش میں باری باری پانی نکالنے پر ہی لگے رہتے ہیں ایک بالٹی پکڑے۔ چاہے بارش ادھر آدھ گھنٹے کی بھی کبھی کبھار ہی ہوتی ہے لیکن ان کی اچھی بھلی درگت بنا جاتی ہے۔
ادھر یہ ترقیاں ہیں اور ادھر گاؤں اور قصبوں کا یہ حال ہے کہ میرے ماموں کے گاؤں کو جانے والے سڑک بالکل گنجی ہوچکی ہے۔ میری پیدائش سے پہلے کی بنی ہوئی وہ سڑک ابھی تک ویسے کی ویسے ہے اس طرف پتا نہیں کیوں کسی ناظم کی نظر کیوں نہیں جاتی۔پھر کھپ مچاتے ہیں کہ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت ہورہی ہے۔ ہجرت نہ ہوتو اور کیا ہو۔ اسی گاؤں میں میرے ماموں کے دو ذرا کھاتے پیتے پڑوسی ایک لاہور جاچکے ہیں اور دوسرے ادھر فیصل آباد آگئے ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے جو ان علاقوں میں رہتے ہیں اور ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم پر ہر چند ماہ بعد ایک آدھ سڑک ٹھونک کر ترقی کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر