اردو ویب اور بلاگنگ نے مجھے کمپیوٹنگ کا شعور کا بخشا۔ جہاں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا وہاں کچھ اچھے دوست بھی ملے۔ امید ہے ان کا میرا ساتھ آخری سانس تک چلتا رہے گا۔
نعمان یعقوب
بزعم خود آزاد خیال یہ صاحب کراچی سے ہیں۔ ان سے ملاقات اردو محفل پر ہوئی تھی۔ مجھے ذرا ذرا یاد ہے ایم کیو ایم پر بڑی شدید قسم کی بحث ہوئی تھی اور یہ ان کے کافی حامی تھے۔ بعد میں لینکس کے ترجمے کے پراجیکٹ میں ان سے کافی میل جول رہا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ بندہ اتنا بھی برا نہیں بس ذرا کھسکا ہوا ہے اگر کام کی بات کی جائے تو تیر کی طرح سیدھا رہتا ہے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہماری طرح ہی منڈے کھنڈے ہونگے لیکن یہ تو کھنڈے کی بجائے کھنڈ نکلے کھنڈ پنجابی میں اس شخص کو کہتے ہیں جو سرد و گرم چشیدہ ہو۔ کراچی میں دودھ کی دوکان کرتے ہیں اور عوام ہلکان کرتے ہیں۔ ان کے بلاگ سے کبھی کبھی پتا چلتا ہے کہ انکے کاروبارکی طرح ان کا پیٹ بھی روز افزوں ترقی کررہا ہے۔ چناچہ اب ہم جب ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے قریب کا ایک دودھی یاد آجاتا ہے جو سلوکا (ایک قسم کی کپڑے کی واسکٹ لیکن واسکٹ سے کم کوالٹی کی چیز جس میں ٹکٹ چیکرز کی طرح جیبیں ہوتی ہیں اور دودھی وغیرہ پیسے رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جب وہ آن ڈیوٹی ہوں) پہنے بڑی سی کڑاھی میں دودھ ڈالے اس کو ابال رہا ہوتا ہے۔
ان سے ہم نے بلاگنگ کی تمیز سیکھی، لینکس کیا ہوتا ہے ان سے پتا چلا۔ انھوں نے ہی پہلی بار اس بلاگ میں اردو ویب پیڈ شامل کرنے کی کوشش فرمائی ۔ آپ کا بہت شکریہ جناب اگرچہ قدیر کو آپ سے کافی شکایتیں ہیں۔
قدیر احمد رانا
قدیر احمد رانا اردو بلاگنگ کی دنیا کے بڑے پرانے کھنڈ ہیں۔ اتنے پرانے کہ اگر فیصل آباد میں کبھی عجائب گھر بنا تو ہم اس میں ان کو اردو بلاگنگ و کمپیوٹنگ سیکشن میں بطور آثار قدیمہ رکھنے کی درخواست ضرور کریں گے۔
بہت شغلی بندہ ہے۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بندہ خود ہی آپ جناب سے تو تڑاق پر اتر آتا ہے۔ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ اسی قابل ہے کہ اسے جوتی کی نوک پر رکھا جائے۔ ہمارے خیال میں اسے جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد تین چار کرارے جھانپڑ بھی رکھے جائیں اور بونس میں ٹھڈے بھی مارے جائیں تو اس کی صحت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔
بدتمیز سے اس کا اینٹ کتے کا بیر ہے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ایک کو اینٹ کہہ کر دوسرے کو —کہا ہے۔ یہ تو بس محاورہ تھا۔ اردو بلاگنگ پر اس بندے کے بڑے احسانات ہیں۔ اولین اردو بلاگرز میں سے ہے۔ اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے نام سے پہلے بلاگر پھر ورڈپریس اور اب گھر سے (مطلب اپنے ڈومین سے) یہ بلاگ چلاتا ہے۔ جس سے بھی ملے سلام دعا کرنے کے بعد یہی کہتا ہے اردو ٹیکنالوجی بلاگ کے لیے لکھو گے؟ پھر اگلے بندے کی ہاں کے بغیر ہی اسے مصنفین میں شامل کرلیتا ہے۔
بی ایس سی ڈبل میتھ فزکس کررہا ہےا ور کام اس کے کچی کے بچوں والے ہیں۔ اردو کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس کو جواب میں جوتے ہی ملتے ہیں۔ اردو بلاگ پر گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات دکھانے کی بات ہوئی تو اس نے دونمبری کرکے اشتہار چلوا دئیے یار لوگوں نے پسند کیا کچھ نے اعتراض کیا اور معاملہ بیٹھ گیا۔ اب کہاں بیٹھا ہے یہ بھی کسی کو یاد نہیں۔
اس بندے کا مجھ پر بڑا احسان ہے جب پہلی بار بلاگنگ شروع کی تھی تو اسی نے مجھے بلاگر پر تھیم کے سلسلے میں میری بہت مدد کی تھی۔ میرے بلاگ کے موجودہ تھیم کو بھی کسٹمائز کرنے میں اس کی مہربانی ہے۔ قدیر میاں تمہارا شکریہ۔ کبھی ملتان جانا ہوا تو اس سے ضرور ملوں گا۔ اپنی قسم کا یہ ایک ہی ماڈل بچا ہے اسے دیکھنا بھی لاہور کے چڑیا گھر کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپ ہوگا۔
شعیب صفدر
کراچی کا یہ واحد بندہ ہے جو مجھ سے پنجابی میں بڑی دیر تک بات کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس کی پنجابی ایسے بھاگتی ہے جیسے پیچھے پولیس والے لگے ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن ان کی باتوں سے بالکل ہی نہیں لگتا کہ یہ وکیل ہیں۔ ایک دن آنلائن ہوئے سلام دعا کی اور پھر غائب ہوگئے۔ اگلے دن ہوئے پھر سلام دعا ہوئی پھر میں غائب ہوگیا کچھ کام تھا۔ اس سے اگلے دن آنلائن ہوئے تو میں نے معذرت کی بولے اپناموبائل نمبر دے دو۔ میں نے دے دیا۔ تب سے جب فارغ ہوں اور پنجابی بولنے کو دل کرے مجھے کال کرلیتے ہیں۔ ان کی کالز جب میں گلی میں ٹہل ٹہل کرسنتا ہوں تو اردگرد کے لوگ سمجھتے ہیں شاید اپنی معشوقہ سے بات کررہا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہے۔ مشرف پر بے لاگ تبصرے وہ بھی ایسے تیز تیز جیسے تیز مرچوں والا سالن کھایا ہوا ہو۔
ان کے تبصرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اتنے جاندار کے ہمارے والد کے پڑوسی ریڑھی والے بھی اس قسم کے تبصرے کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کراچی میں چائے کا کوئی ہوٹل چلاتے ہیں جب کوئی گاہک نہیں آتا تو مجھے فون کھڑکا دیتے ہیں۔
شعیب بھائی سے میری سلام دعا اتنی پرانی نہیں لیکن امیدہے ان سے سلام دعا چلتی رہے گی ۔ میں بخیے ادھیڑنے کی قطعًا معافی نہیں مانگوں کا جناب
محمد علی مکی
محمد علی مکی اردو کی طرف آئےتو اردو کی قسمت پلٹنے لگی۔ پہلے عربی کی طرف متوجہ تھے حاسد کا کہنا ہے کہ وہاں سے سائیاں ان کو نکال دیا تو ارد وپر وارد ہوگئے۔ سافٹویرز کا ترجمہ کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ مشغلہ نہیں نشہ کہہ لیں یونہی بیٹھے بیٹھے ایک آدھ اطلاقیہ ارد وکرڈالتے ہیں۔ محفل پر کسی بگولے کی طرح وارد ہوئے اور سوئے ہوؤں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دھڑا دھڑ سافٹویرز کو اردوا نا شروع کردیا۔
چونکہ اردو والوں کی عاد ت ہے کہ تعریف سبھی کرتے ہیں اور بس۔۔تو سب نے ان کے کام کی تعریف کی اور بس۔۔۔
اس سے بہت مایوس ہوئے لیکن ہم نے سمجھایا بھائی جی کام کرتے جائیں آپ کو کیا کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ تب سے کچھ سکون ہے۔ محفل سے ہماری یاہو شناخت لی اور تب سے ان سے گپ شپ ہے۔ دفتر سے جب فرصت ہومیں سرکاری کھاتے میں کال کرلیتے ہیں۔
اردو کوڈر نامی ایک فورم بھی چلاتے ہیں۔ کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی موڈ ہوتو ہم سے پنجابی میں بات کرلیتے ہیں۔ لیکن زیادہ پنجابی سے گھبراتے ہیں لگتا ہے کانوں کو اب عادت نا رہی خالص چیزوں کی۔ اردو میں پنجابی والی خشبو البتہ اکثر لگاتے ہیں۔ ہمیں شک ہے کہ کئی عطر والوں کو اس طرح کنگال کرچکے ہیں۔ اب ہماری طرح “موج” بھی کرنے لگے ہیں۔ سافٹویر کا حصول ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ چاہے کریک ہو یا اصلی والا۔
ان سے مل کر ہمیں پتا چلا کہ کام کس طرح کیا جتا ہے ماشاءاللہ فائر فاکس کو اردوا چکے ہیں اور مزید کے ارادے ہیں اللہ ان کو کامیاب کرے۔
اور اب باقی آئندہ۔انشاءاللہ کچھ مزید احباب کے بخیے ادھیڑے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
وسلام

Loading ...