آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

55 وزیر

November 12th, 2008بذریعہ دوست

وڈے کچھ سنا اپنے 55 وزیر ہوگئے ہیں۔

چھوٹے نے وڈے سے کہا تو وڈا چونک گیا۔

55 وزیر واہ 55 وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

وڈے نے گنگنانا شروع کردیا۔

چھوٹا پہلے تو حیران ہوا پھر ہولا ہاں بھوکی ننگی قوم ہی ہے۔

وڈا پھر بڑبڑایا ننگی قوم بھوکی ننگی قوم ننگ وطن ہاہاہا

ننگ وطن ننگ انسانیت ننگ ضمیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

اور چھوٹا تاسف سے وڈے کو دیکھنے لگا۔ یہ تو کریک ہی ہوتا جارہا ہے۔

اوئے یہ کیا بک بک لگا دی ہے تم نے ۔ حکومت کا فرمان ہے کہ ان وزیروں کی تنخواہ ایم این اے سے بھی کم ہے۔

ہاہاہاہاہا

وڈے نے پھر قہقہہ لگایا ہاں۔ ان پر کونسا خرچ ہوگا۔ کونسا ہمارا ہوگا۔ باہر سے آئے گا۔

اللہ کے واسطے قرضہ دے دو۔ 17 کروڑ پاکستانیوں کی حکومت کے لیے قرضہ چاہیے۔ بھوکی ننگی قوم کی بھوکی ننگی حکومت، نہیں بھوکی ننگی نہیں ،امیر کبیر حکومت۔ امیر کبیر حکومت؟ وڈے نے خود سے سوال کیا۔

نہیں فقیر حکومت ہاہاہا فقیر حکومت۔ در در جاکر مانگتی ہے۔ ارے خدا کا واسطہ کوئی دو چار ارب ڈالر دے دو۔ ہمارے وزیروں مشیروں کی تنخواہیں دینی ہیں۔ الاؤنسز کم نہ پڑ جائیں۔ ارے تمہیں تمہارے جیزرز کرائسٹ کا واسطہ کچھ دے جا۔ کچھ دے جا سخیا۔ دیکھو اس قوم کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں بھوکے ہیں۔ سر پر چھت نہیں۔ آخر ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ دے جا سخیا پاکستان کی حکومت کے لیے دے جا۔

دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔ دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔

وڈے نے پھر قہقہے لگانے شروع کردئیے۔

دے جا سخیاں وزیراں دے ناں دا۔ دے جا سخیا۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

منظرنامہ

April 9th, 2008بذریعہ

ارباب غلام رحیم اور شیر افگن کی ٹھکائی کے ساتھ ہی نئی حکومت اور حزب اختلاف کے مابین رسا کشی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے جو افہام و تفہیم کی باتیں کی جارہی تھیں سب ہوا بن کر اڑ گئی ہیں۔

کراچی میں صورت حال بگڑنا شاید اب معمول بن جائے۔ پہلے مہاجر قومی موومنٹ کو سامنے لایا گیا۔ اب وکلاء کو ایک فریق کے طور پر ابھارا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی جدوجہد نے وکلاء کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔ اور یہ احساس کسی بھی وقت منفی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ملیر بار کو جلانا، وکلا کے دفاتر کو جلانا کسی “نامعلوم” کی کاروائی نہیں۔ متحدہ کو مشرف دور میں جس سکھ کا سانس ملا تھا اور انھوں نے پورے ملک میں تنظیم سازی کرنے کی سوچی تھی وہ سکھ انھیں اب نصیب نہیں ہوگا۔ انھیں پھر سے کراچی کی پسوڑی ڈال دی گئی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ متحدہ سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔ چاہے ماہانہ بنیادوں پر ہی اختلافات جنم لیں لیکن نچلا بیٹھنا متحدہ کی عادت نہیں۔ دوسری صورت میں سندھ اسمبلی تو کراچی میں ہی ہے اور ویسے بھی ملک کی ساری تجارت اسی کے راستے ہوتی ہے۔ چناچہ متحدہ کراچی میں بیٹھ کر ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو پڑھنے پا سکتی ہے۔

کراچی سے باہر اگر کوئی ذرا پرسکون علاقہ ہے تو وہ پنجاب ہے۔ اس میں ق لیگ نے بسم اللہ کردی ہے۔ شیر افگن جو پہلے ہی ذہنی بیماری کا بہانہ کرکے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے بچا تھا اب زیادہ زہریلا ہوجائے گا۔ جوتے جس نے بھی مارے، کام اس نے خوب کیا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ق لیگ نے پنجاب اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ یعنی صوبائی اسمبلی میں اس دوران ہونے والی کوئی بھی قانون سازی بغیر کسی بحث کے اور بغیر کسی اعتراض کے ہوجائے گی۔ شیر افگن نے میانوالی کے عوام کو لاہوریوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بھی کرڈالی ہے۔ عوام تو ہیں ہی جذباتی اس کا نتیجہ اب وقت ہی بتائے گا۔

ان دو واقعات نے عدلیہ کی بحالی سے نظریں ہٹا دی ہیں۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اگر میں دیکھوں تو وہ چیزیں جن پر فوکس ضروری تھا پس پشت چلی گئی ہیں۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ غذائی اجناس کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پانی، بجلی کے بحران بھی وہیں ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ وہی کنجر خانہ۔ بس چہرے وہ نہیں رہے لیکن ان کا کردار وہی ہے۔

اس ساری صورت حال سے جرنل (ر) پرویز مشرف مغرب کو ایک بار پھر شاید باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ اس تھرڈ ورلڈ ملک کے تھرڈ کلاس لوگوں کے لیے جمہوریت زہر قاتل ہے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ لوگ جمہوریت کے قابل ہی نہیں۔ انھیں “حقیقی” جمہوریت ہی چاہیے جو صرف میں ہی مہیا کرسکتا ہوں۔ او آئی سی کی سربراہ کانفرنس تھی تو جنرل صاحب یہاں بیٹھے رہے اب سیاستدانوں کو لڑوا کر آرام سے چھ روزہ سرکاری دورے پر چین سدھار رہے ہیں۔ پیچھے وزیر اعظم تحقیقاتی کمیٹیوں کا اعلان کرتے پھریں اور آٹھ سالہ دور اقتدار کا گند دھونے کے لیے منصوبے بناتے رہیں۔ جناب کے دوروں کے ریکارڈ میں 6 روز اور شامل ہوجائیں گے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

عید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

March 20th, 2008بذریعہ

آج سے کوئی بیس برس پہلے تک اس بات کا تصور تک موجود نہیں تھا کہ کوئی عید میلاد بھی ہوسکتی ہے۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اورہمیں کھیلنے کے لیے ایک آدھ کھلونا لازمی چاہیے ہوتا ہے۔ اب عید میلاد کے نام پر ہمارے ہاتھ میں ایک چھنکنا آچکا ہے اور ہم اسے ہر سال اچھی طرح بجا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوٰی کسے نہیں ہے؟ سب کو ہے مجھے بھی ہے۔ ہر سال کوئی نیا شوشہ ہی چھوٹتا ہے اس معاملے میں۔ اب پچھلے کچھ عرصے سے محفل نعت منعقد ہوتی ہے جس میں ایک خوش نصیب کو عمرے کا ٹکٹ بذریعہ قرعہ اندازی دیا جاتا ہے۔ کیا عشق کے لیے عمرے کا ٹکٹ ضروری ہے؟

جن کوٹھوں پر چند دن پہلے بسنت کے نعرے لگائے گئے تھے اور رات بھر غل غپاڑہ کیا گیا انھی پر اب سبز جھنڈے لگا دئیے گئے۔۔۔یہ کیسا عشق ہے جو سبز جھنڈے لگانے،  رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی والے نقش سینے پر لگانے اور نعرے لگانے تک محدود ہے؟

آج رات تو مجھے یوں لگا جیسے یہ 12 ربیع الاول کی شب نہیں شب قدر ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرس ہورہی ہے شاید اس میں ایک بندہ کاغذوں کے پلندے سے سبق پڑھ کر سنا رہا تھا اور باقی ڈھیر سارے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کئی تو اپنے سبق یاد کرنے میں اردگرد سے بے خبر تھے۔ یہ کیسا عشق ہے؟

ڈنمارک والے کچھ عرصے بعد تیلی لگا دیتے ہیں اور پھر گھر جلنے کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ہم بھی پھونکیں مار مار کر اپنا ہی آشیانہ جلا ڈالتے ہیں۔ کل کسی جگہ خبر پڑھی کہ اب تک ہونے والے مظاہروں میں 50 مسلمان راہی ملک عدم ہوچکے ہیں۔

ہم سے پہلے کے مسلمان عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کہاں جا پہنچے اور ہم ہیں کہ ہر سال اتنا اہتمام کرتے ہیں پھر بھی تنزلی ہی تنزلی ہے ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔۔ہر شے سے برکت اٹھتی جاتی ہے۔۔۔قتل غارت گری ہر سال بڑھتی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے ہمارا جس کا فیضان ہمیں نصیب نہیں ہوتا؟

کہیں ہم غلط تو نہیں کسی جگہ؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اے دین کے ٹھیکیدارو

March 10th, 2008بذریعہ

ہمیں کیوں روکتے ہو

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم نے دین میں رسمیں ایجاد کرلیں؟

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم 360 دنوں میں ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کرکے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوجاتے ہو؟

کیا ہم نے کبھی تمہارے جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا؟

جو تم اب شاہ کے پیسے کھا کر ہم پر کرتے ہو؟

آخر ہم کیوں سیاہ جھنڈے نہ لہرائیں؟

کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟

“جس قوم میں انصاف نہ رہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے”

کیا تم اندھے، گونگے بہرے ہو کہ تمہیں نظر نہیں آتا؟

کیا تمہیں یہ بربادی اپنی آنکھوں سے دکھتی نہیں؟

تو پھر ہمیں کیوں روکتے ہو؟

کیوں شاہ کا پیسہ کھا کر فتوٰی دیتے ہو کہ سیاہ جھنڈا لہرانا گناہ ہے؟

ہم ماتم کیوں نہ کریں؟

اپنی قوم کی بربادی پر ماتم کیوں نہ کریں؟

جس سے انصاف بھی چھن گیا۔۔۔

ہم آخر ماتم کیوں نہ کریں۔۔۔۔ ؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

دعا

February 23rd, 2008بذریعہ

گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔

اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

February 11th, 2008بذریعہ

کل رات یونیورسٹی سے واپس آیا تو باتوں باتوں میں ذکر چھڑ گیا۔ ذکر کیا تھا والدہ کی زبانی سنیے۔۔

آج یوٹیلٹی سٹور پر عورتیں بی بی نظیراں کو بہت یاد کررہی تھیں۔ میں نے کہا وہ دن بھول گئے ہیں جب اس خصم نے اسی طرح قطاروں میں لگوا کر گھی کے ساتھ تین تین کلو پیاز دئیے تھے۔ جن سے دس فٹ کی دوری سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے تھے۔۔

اب میں نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے تو۔ والدہ کہنے لگیں اس وقت گھی 35 روپے کلو تھا جی سی پی بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا جی سی پی بناسپتی جس کی ملیں یا تو بند ہوگئیں یا پرئیویٹائز کردی گئیں۔۔ تو بات ہورہی تھی قیمت کی اس وقت بھی گھی یوٹیلٹی سٹور سے سستا ملتا تھا عام مارکیٹ کی نسبت۔۔۔ بی بی کے بابو یعنی خصم ارجمند نے بھارت سے بڑی مقدار میں پیاز درآمد کئے۔۔وہ پیاز خراب ہورہے تھے بلکہ آدھےسے زیادہ گل سڑ چکے تھے اور پر یہ پیاز غریبوں کو گھی کے ساتھ تین تین کلو کرکے دئیے گئے۔۔ ورنہ گھی نہیں ملتا تھا۔۔۔

آج کل بھی یوٹیلٹی سٹور والے گھی کے پیکٹ کے ساتھ (چینی ہے تو یا آٹا ہے جس چیز کا بھی بحران ہو اس کے ساتھ) کوئی نہ کوئی چیز لازمی خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ گھی نہیں ملتا۔۔ کبھی تکہ مصالحہ، کبھی لکس صابن، کبھی ٹوتھ پیسٹ اور کبھی فئیر اینڈ لولی جو چیز بھی سٹاک میں زیادہ ہو۔ اب ہم جیسے غریب غرباء جنھوں نے تکے کو دور سے ہی سلام کیا ہوتا ہے اس تکے مصالحے کا کیا کریں؟ سو اس دن امرودوں پر چھڑ کر کھایا اور مشرف کو دعائیں دیں۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ ہم کتنی جلدی بھول جاتے ہیں نا؟ بی بی نظیراں فوت ہوگئی تو اب وہ فرشتی اور بہشتن ہوگئی ہے۔ زندہ باد بھئی اس قوم کے۔۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر نوازشریف نے سرزمین پاک کو چھو ہی لیا!!

November 25th, 2007بذریعہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مارشل لاء حکومت کے صدر پرویز مشرف کے سعودی عرب کے مختصر دورے میں نجانے کیا کھچڑی پکی ہے کہ نواز شریف کو واپسی کی اجازت مل گئی ہے۔ حاسدوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس بار سعودی عرب بھی امریکہ کے ساتھ اس ڈیل میں ملوث ہے۔ مارشل لاء حکومت تو ایسے لگتا ہے جیسے شترمرغ ریت میں سر دے لیتا ہے۔ نواز شریف کی طرف سے بھی ایسے بیان آرہے ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارا ایجنڈا مختلف ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایجنڈا کیا ہے۔ حالات واقعی نو مارچ والے نہیں ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو ایک ڈگڈگی چاہیے تھی جو انھیں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں مل گئی اور انھوں نے اچھی طرح بجا بھی لی۔ اب کی بار ان کے پاس الیکشن کی ڈگڈگی ہے۔ جسے بجا کر انھیں اصلی تے وڈا فائدہ مل سکتا ہے۔ چناچہ ہر کوئی دبے پاؤں الیکشن کی تیاری میں ہے۔ چند ایک سرپھرے ہیں جو ببانگ دہل بائیکاٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ بلوچ پہلے ہی فوجی صدر سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکے ہیں۔ عمران خان ابھی ‘نواں آیاں اے سوہنیا’ ہے۔ وکلاء کو اپنے چیف جسٹس کی فکر ہے چناچہ وہ تو تحریک جاری رکھیں گے ہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اے پی ڈی ایم کی چھتری تلے نوازشریف کی طرف سے کیا حکمت عملی طے ہوتی ہے۔ آیا کوئی “درمیانی” راہ نکل آتی ہے یا۔۔۔۔۔بے نظیر نے تو آج کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے بیان دے دیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نتیجہ ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ایک اور جنازہ اٹھتا ہے

November 22nd, 2007بذریعہ

میر بالاچ مری ایک عرصے تک بلوچ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک کاروائی میں‌ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پر سندھ اور بلوچستان میں ہنگامے ہورہے ہیں‌ جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں‌۔

میں نہیں‌ جانتا وہ صحیح‌ تھا یا غلط۔ بقول میرے ایک جاننے والے کے قبائلی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان پر ہیلی کاپٹروں‌ سے آگ برسا کر بالکل ٹھیک کیا جارہا ہے۔ میں اس وقت بھی ان صاحب سے متفق نہیں تھا اور اب بھی نہیں‌۔ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں‌ کے مطالبات ایسے نہیں‌ کہ انھیں پورا نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا کہیں ہماری فوج کا جسے اپنی تربیت بھی تو کہیں آزمانی ہے۔ گولہ بارود پڑا سڑتا رہے اس سے بہتر ہے کہ کہیں “کام” آجائے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بریت

October 5th, 2007بذریعہ

"اوئے مودے کچھ سنا تم نے۔" شیدے نے بڑے رازدارانہ انداز میں اس کے قریب آکر کہا۔

 

"کیوں کیا ہوگیا ہے" مودے چرسی نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مسرور لہجے میں کہا۔

 

"اوئے سنا ہے نیا قانون آیا ہے اور دس سال کے مقدمے معاف۔"

 

"سچیں شیدے تو کہیں مذاق تو نہیں کررہا؟" مودے چرسی کا سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔

 

" او نہیں یار اپنا باؤ اشفاق سب کو خبریں پڑھ کر سنا رہا تھا وہاں تھڑے پر۔ وہاں سے پتا لگا ہے۔" شیدے نے منہ بنا کر جواب دیا۔

 

"اوئے پھر تو ہم بھی حاجی ہوگئے ہیں۔ اوئے میرے اوپر چرس بیچنے کا مقدمہ دس سال پرانا ہی ہے۔ اوئے وہ تو گیا۔" مودا چرسی جیسے ہواؤں میں اڑنے لگا۔

 

 "میرے اوپر حاجیوں کی مرغیاں چوری کرنے کا الزام بھی اب ختم ہوجائے گا۔" شیدے نے کُکڑ کی طرح سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔

 

"او چل بھئی پھر تھڑے پر جاکر بیٹھتے ہیں۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں۔" مودے چرسی نے سگریٹ کا آخری کش لگایا اور اور اسے پھینکتے ہوئے بولا۔

 

"ہاں ہاں۔ باؤ اشفاق سے خبریں سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے مٹھائی لے کر چلتے ہیں۔" شیدے نے جیب پر ہاتھ مارتے ہوئے ایک پچاس کا نوٹ نکالا۔

 

"کیوں بھئی آج بڑی مٹھائیاں کھلا رہے ہو۔" ریٹائرڈ ماسٹر محمد اسلم نے مودے کے ہاتھ سے برفی لے کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔

 

"ماسٹر جی آپ کو نہیں پتا۔آج کا اخبار کیا کہہ رہا ہے؟"

 

"کیا کہہ رہا ہے بھئی" ماسٹر اسلم نے جیسے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

 

"او جی اب سارے مقدمے معاف ہوجائیں گے۔ اب ہم مشتبہ بھی نہیں رہیں گے جی۔ محلے کا تھانے دار ہمیں تنگ نہیں کرے گا۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں جی۔ نیا قانون جو پاس ہوا ہے۔" مودے چرسی نے چرس کے بغیر نشے میں آکر کہا۔

 

اور اس کی یہ بات سن کر تھڑے پر بڑے زور کا قہقہہ پڑا۔ باؤ اشفاق نے ہنسی سے دوہرے ہوتے ہوئے کہا

 

" مودے تجھے کس نے کہہ دیا کہ تیرے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔"

 

"جناب جب قانون بنتاہے تو سب کے لیے ہوتا ہے نا۔ تو ہم بھی تو یہیں رہتے ہیں۔" مودے کی آواز میں ہلکی  سی ہکلاہٹ آگئی۔

 

"او بھولے بادشاہ یہاں قانون خاص لوگوں کے لیے بنتے ہیں۔ یہ قانون تیرے میرے لیے نہیں وڈے بدمعاشوں کے لیے ہے۔ ان کے دس سال کے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔ تاکہ پھر ہماری رگوں سے آکر لہو نچوڑیں۔ یہاں قانون سب کے لیے نہیں صرف وڈے لوگوں کے لیے بنتا ہے۔" باؤ اشفاق کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔

 

"تے فیر ہمارے مقدمے ویسے ہی رہیں گے۔" مودے چرسی اور شیدے کے منہ پھر سے لٹک گئے۔

 

"ہاں تمہارے مقدمے ایسے ہی رہیں گے۔ اگر تم نے بھی مقدمے معاف کروانے ہیں تو اچھی نسل کا جرم کرکے آؤ۔ اس قوم کو لوٹو۔ کرپشن کرو۔ پولیس مقابلوں میں بندے مرواؤ۔ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرواؤ۔ پھر تمہیں معافی مل سکتی ہے۔" اس بار ماسٹر اسلم کے لہجے میں بلا کی کاٹ تھی۔ اور مودا شیدے کے کندے پر ہاتھ رکھ کر واپس پلٹ پڑا۔ چل یار دو سُوٹے لگاتے ہیں بیٹھ کر۔

 

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آہ !!!! آخر کار

August 4th, 2007بذریعہ

آداب عرض ہے!!

امید ہے احباب بخیریت ہونگے۔ یہ ڈیڑھ ماہ جس طرح گزرا ہے مجھے ہی پتا ہے۔ جیسے اندھا بہرا کرکے بٹھا دیا گیا ہو۔ انٹرنیٹ خراب رہا پھر پی سی جواب دے گیا۔ اب اللہ اللہ کرکے کچھ سلسلہ بنا ہے تو دعا کیجیے گا کہ اب حاضر ہوتا رہوں۔ اگرچہ بہت سی مصروفیت بھی ہے لیکن امید ہے کچھ نہ کچھ چلتا رہے گا۔

اس عرصے میں اچھے خاصے دردناک واقعات ہوگئے۔ اللہ اس قوم کواپنے حفظ امان میں رکھے۔ عجب فتنہ انگیزی اس پر حملہ آور ہے۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...