آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

March 12th, 2008بذریعہ

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں زندگی جینے کو ترستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں دہشت مکینوں پہ ہنستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

جہاں صبح و شام آگ برستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

میرے مولا یہ کیسی بستی ہے

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا :((

March 10th, 2008بذریعہ

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

کب تک ہم بے گناہوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے

کب تک اپنے ہیرے جیسے جوانوں کے مردہ جسم اپنے کاندھوں پر ڈھوتے رہیں گے

کب تلک یہ آزمائشیں میرے مولا

کب تک

یہ آنکھیں تیری رحمت کے انتظار میں پتھرا گئی ہیں

رحم اے رب ذ الجلال

رحم فرما اے اللہ ہم پر رحم فرما۔۔

ارحم الرٰحمین اب سکت نہیں ہے۔

اب حوصلہ نہیں رہا

اے مالک ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے

تجھے تیرے پیاروں کا واسطہ ہم پر کرم فرما۔۔

رحم اے مالک دو جہاں :((

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ہاہاہاہاہا

December 19th, 2007بذریعہ

قدیر رانا انتہائی نامعقول اور مہزب‌ الاخلاق چیز ہے۔ ذرا س کے بلاگ کی یہ تصویر ملاحظہ فرمائیں۔
Free Image Hosting at www.ImageShack.us
اوپر دائیں کونے میں لکھے گئے انتباہ میں کس ڈھٹائی سے اپنے “خصوصی” کپڑوں کا ذکر کررہا ہے۔ :D :D :D :D :D :D :D آپ بھی پڑھیں گے تو آپ کے ہنسی کے فوارے چھوٹ پڑیں گے۔ ;)

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

میں 16 دسمبر 1971 کا نوحہ کہوں یا اپنے حال کا؟

December 16th, 2007بذریعہ

آج سولہ دسمبر ہے۔ اہل دل اور اہل وطن یقینًا خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ہمارا بازو کٹ کر جدا ہوگیا۔ لیکن میں جو ایک عام آدمی ہوں اس پر کیا کہوں؟
کیا لکھوں؟
میرا حال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی ملنی مشکل ہوگئی ہے۔ سارا سارا دن یوٹیلٹی سٹور پر لائن میں کھڑے ہو کر چار کلو گھی اور ایک تھیلا آٹے کا ملتا ہے۔ ساتھ میں یوٹیلیٹی سٹور والا اور خریداری کے بغیر گھی اور آٹا بھی نہیں دیتا۔ کہتا ہے ہم نے یہ کہاں بیچنا ہے۔
ہر تین گھنٹے بعد بجلی بند ہوجاتی ہے۔ یہ آنکھ مچولی سارا دن جاری رہتی ہے میں کاروبار کیا خاک کروں؟
میرے ملک کے حکمران اس بات پر سراپا فخر و غرور ہیں کہ ایک کروڑ عوام کے پاس موبائل ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی ریل پیل ہوچکی ہے اور خزانہ بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ موبائل فون، یہ کاریں اور موٹر سائیکل مجھے دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں؟
مجھے کھانے کو نہ ملے تو کیا ان موبائل فونوں کو ہی چبانا شروع کردوں؟
میں کس بات کا نوحہ پڑھوں؟
اپنے اور اپنے خاندان کے فاقہ زدہ اور محروم چہروں کا یا چھتیس سال پہلے کا؟
کوئی بتائے مجھے میں کس کی نوحہ خوانی کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر نوازشریف نے سرزمین پاک کو چھو ہی لیا!!

November 25th, 2007بذریعہ

سابق وزیر اعظم نواز شریف آج لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مارشل لاء حکومت کے صدر پرویز مشرف کے سعودی عرب کے مختصر دورے میں نجانے کیا کھچڑی پکی ہے کہ نواز شریف کو واپسی کی اجازت مل گئی ہے۔ حاسدوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل کا ہی نتیجہ ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس بار سعودی عرب بھی امریکہ کے ساتھ اس ڈیل میں ملوث ہے۔ مارشل لاء حکومت تو ایسے لگتا ہے جیسے شترمرغ ریت میں سر دے لیتا ہے۔ نواز شریف کی طرف سے بھی ایسے بیان آرہے ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارا ایجنڈا مختلف ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایجنڈا کیا ہے۔ حالات واقعی نو مارچ والے نہیں ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کو ایک ڈگڈگی چاہیے تھی جو انھیں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں مل گئی اور انھوں نے اچھی طرح بجا بھی لی۔ اب کی بار ان کے پاس الیکشن کی ڈگڈگی ہے۔ جسے بجا کر انھیں اصلی تے وڈا فائدہ مل سکتا ہے۔ چناچہ ہر کوئی دبے پاؤں الیکشن کی تیاری میں ہے۔ چند ایک سرپھرے ہیں جو ببانگ دہل بائیکاٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ بلوچ پہلے ہی فوجی صدر سے کسی قسم کی بات چیت سے انکار کرچکے ہیں۔ عمران خان ابھی ‘نواں آیاں اے سوہنیا’ ہے۔ وکلاء کو اپنے چیف جسٹس کی فکر ہے چناچہ وہ تو تحریک جاری رکھیں گے ہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اے پی ڈی ایم کی چھتری تلے نوازشریف کی طرف سے کیا حکمت عملی طے ہوتی ہے۔ آیا کوئی “درمیانی” راہ نکل آتی ہے یا۔۔۔۔۔بے نظیر نے تو آج کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے بیان دے دیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا نتیجہ ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ایک اور جنازہ اٹھتا ہے

November 22nd, 2007بذریعہ

میر بالاچ مری ایک عرصے تک بلوچ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک کاروائی میں‌ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پر سندھ اور بلوچستان میں ہنگامے ہورہے ہیں‌ جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں‌۔

میں نہیں‌ جانتا وہ صحیح‌ تھا یا غلط۔ بقول میرے ایک جاننے والے کے قبائلی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان پر ہیلی کاپٹروں‌ سے آگ برسا کر بالکل ٹھیک کیا جارہا ہے۔ میں اس وقت بھی ان صاحب سے متفق نہیں تھا اور اب بھی نہیں‌۔ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں‌ کے مطالبات ایسے نہیں‌ کہ انھیں پورا نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا کہیں ہماری فوج کا جسے اپنی تربیت بھی تو کہیں آزمانی ہے۔ گولہ بارود پڑا سڑتا رہے اس سے بہتر ہے کہ کہیں “کام” آجائے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بریت

October 5th, 2007بذریعہ

"اوئے مودے کچھ سنا تم نے۔" شیدے نے بڑے رازدارانہ انداز میں اس کے قریب آکر کہا۔

 

"کیوں کیا ہوگیا ہے" مودے چرسی نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مسرور لہجے میں کہا۔

 

"اوئے سنا ہے نیا قانون آیا ہے اور دس سال کے مقدمے معاف۔"

 

"سچیں شیدے تو کہیں مذاق تو نہیں کررہا؟" مودے چرسی کا سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔

 

" او نہیں یار اپنا باؤ اشفاق سب کو خبریں پڑھ کر سنا رہا تھا وہاں تھڑے پر۔ وہاں سے پتا لگا ہے۔" شیدے نے منہ بنا کر جواب دیا۔

 

"اوئے پھر تو ہم بھی حاجی ہوگئے ہیں۔ اوئے میرے اوپر چرس بیچنے کا مقدمہ دس سال پرانا ہی ہے۔ اوئے وہ تو گیا۔" مودا چرسی جیسے ہواؤں میں اڑنے لگا۔

 

 "میرے اوپر حاجیوں کی مرغیاں چوری کرنے کا الزام بھی اب ختم ہوجائے گا۔" شیدے نے کُکڑ کی طرح سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔

 

"او چل بھئی پھر تھڑے پر جاکر بیٹھتے ہیں۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں۔" مودے چرسی نے سگریٹ کا آخری کش لگایا اور اور اسے پھینکتے ہوئے بولا۔

 

"ہاں ہاں۔ باؤ اشفاق سے خبریں سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے مٹھائی لے کر چلتے ہیں۔" شیدے نے جیب پر ہاتھ مارتے ہوئے ایک پچاس کا نوٹ نکالا۔

 

"کیوں بھئی آج بڑی مٹھائیاں کھلا رہے ہو۔" ریٹائرڈ ماسٹر محمد اسلم نے مودے کے ہاتھ سے برفی لے کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔

 

"ماسٹر جی آپ کو نہیں پتا۔آج کا اخبار کیا کہہ رہا ہے؟"

 

"کیا کہہ رہا ہے بھئی" ماسٹر اسلم نے جیسے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

 

"او جی اب سارے مقدمے معاف ہوجائیں گے۔ اب ہم مشتبہ بھی نہیں رہیں گے جی۔ محلے کا تھانے دار ہمیں تنگ نہیں کرے گا۔ اب ہم بھی عزت دار لوگ ہیں جی۔ نیا قانون جو پاس ہوا ہے۔" مودے چرسی نے چرس کے بغیر نشے میں آکر کہا۔

 

اور اس کی یہ بات سن کر تھڑے پر بڑے زور کا قہقہہ پڑا۔ باؤ اشفاق نے ہنسی سے دوہرے ہوتے ہوئے کہا

 

" مودے تجھے کس نے کہہ دیا کہ تیرے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔"

 

"جناب جب قانون بنتاہے تو سب کے لیے ہوتا ہے نا۔ تو ہم بھی تو یہیں رہتے ہیں۔" مودے کی آواز میں ہلکی  سی ہکلاہٹ آگئی۔

 

"او بھولے بادشاہ یہاں قانون خاص لوگوں کے لیے بنتے ہیں۔ یہ قانون تیرے میرے لیے نہیں وڈے بدمعاشوں کے لیے ہے۔ ان کے دس سال کے مقدمے معاف ہوگئے ہیں۔ تاکہ پھر ہماری رگوں سے آکر لہو نچوڑیں۔ یہاں قانون سب کے لیے نہیں صرف وڈے لوگوں کے لیے بنتا ہے۔" باؤ اشفاق کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔

 

"تے فیر ہمارے مقدمے ویسے ہی رہیں گے۔" مودے چرسی اور شیدے کے منہ پھر سے لٹک گئے۔

 

"ہاں تمہارے مقدمے ایسے ہی رہیں گے۔ اگر تم نے بھی مقدمے معاف کروانے ہیں تو اچھی نسل کا جرم کرکے آؤ۔ اس قوم کو لوٹو۔ کرپشن کرو۔ پولیس مقابلوں میں بندے مرواؤ۔ اپنے مخالفین پر جھوٹے مقدمے درج کرواؤ۔ پھر تمہیں معافی مل سکتی ہے۔" اس بار ماسٹر اسلم کے لہجے میں بلا کی کاٹ تھی۔ اور مودا شیدے کے کندے پر ہاتھ رکھ کر واپس پلٹ پڑا۔ چل یار دو سُوٹے لگاتے ہیں بیٹھ کر۔

 

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

پھر توقع رکھو کہ تم پر آفتیں ایسے آئیں جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے دانے یکے بعد دیگرے گرتے ہیں

September 1st, 2007بذریعہ

ایک کے بعد ایک، جیسے لائن میں لگی ہوئی آفتیں یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اب کل کراچی میں پل گرگیا ہے۔ سنتے ہیں اپنے مشرف صاحب کے میگا پروجیکٹس، جن کا وہ تسبیح کی طرح ہی ہر انٹرویو میں ورد کیا کرتے ہیں یہ بھی حصہ تھا۔ اب ہوا کیا کہ این ایل سی کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ چار پانچ لوگوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ مرنے والوں کو امداد دی جارہی ہے ۔ اللہ اللہ خیر صلا

دو چار میں شور رہے گا پھر وہی پرانی صورت حال۔ سارا ناردرن بائی پاس دوبارہ تو بننے سے رہا۔۔اتنا حصہ پھر سے بن جائے گا اور کام پھر چلے گا۔ لیکن اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ ایک حصہ گرگیا تو باقی حصے نہیں گریں گے۔ یہ پل تو دوبارہ بن جائے گا وہ چنے والا جو اپنے بچوں کا کفیل تھا، جس کے بچے یتیم ہوگئے ان کا کون سرپرست ہوگا اب۔ جو بیوائیں ہوگئیں ان کا کون رہ جائے گا۔ وہ پانچ پانچ لاکھ روپے؟؟

کراچی کے ناظم صاحب کو گلہ ہے کہ اس شہر کے 13 سرپرست ہیں اور یہ کہ انھیں اس پروجیکٹ کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی، ان کے پاس ڈیزائن تک نہیں یہ وہ ۔ ہر کسی کو ایک دوسرے سے گلہ ہوگا۔۔اور ہم منہ دیکھیں گے الزام کس کو دیں۔۔۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جو آفتوں کی قطار لگی ہوئی ہے یہ ہمارے اپنے اعمال ہیں۔۔ہم ہیں ہی اس قابل کہ ہمیں چھتر پڑیں اور پڑتے ہی چلے جائیں۔۔۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

فائر فاکس کا مفید پلگ ان

August 18th, 2007بذریعہ
یہ پوسٹ بطور نمونہ لکھی جارہی ہے۔ ہمیں آج ہی ایک عدد فائر فاکس اضافت ملی ہے جس نے ہمارے بلاگ جیسے تھکے ہوئے سرور سے بھی رابطہ کرلیا۔ اب اس کے ذریعے ہم اپنے بلاگ میں داخل ہوئے بغیر پوسٹیں فرما سکیں گے۔ آپ بھی ٹرائی فرمائیں۔ اور ہمیں دعائیں دیں۔
سیٹنگ بہت آسان ہے کسٹم بلاگ چنیں اور اس میں سے ورڈ پریس پہلے سے منتخب ہوگا نہیں تو منتخب کرلیں اور اپنا بلاگ  ایڈریس دیں۔ یہ یادرہے کہ آپ نے xmlrpc نامی فائل کو کچھ نہیں کہنا اسے ایسے ہی رہنے دیں بس اپنے بلاگ کا ڈومین لکھ دیں اس کے شروع میں نمونے کا ایڈریس مٹا کر۔
اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ دیں اور لاگ ان ہوکر پوسٹ فرمائیں۔
لیکن آپ اسے حاصل کیسے کریں گے۔ یہ لیجیے
سکرائب فائر
موج کریں اور ہمیں دعائیں دیتے رہیں۔
وسلام
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آہ !!!! آخر کار

August 4th, 2007بذریعہ

آداب عرض ہے!!

امید ہے احباب بخیریت ہونگے۔ یہ ڈیڑھ ماہ جس طرح گزرا ہے مجھے ہی پتا ہے۔ جیسے اندھا بہرا کرکے بٹھا دیا گیا ہو۔ انٹرنیٹ خراب رہا پھر پی سی جواب دے گیا۔ اب اللہ اللہ کرکے کچھ سلسلہ بنا ہے تو دعا کیجیے گا کہ اب حاضر ہوتا رہوں۔ اگرچہ بہت سی مصروفیت بھی ہے لیکن امید ہے کچھ نہ کچھ چلتا رہے گا۔

اس عرصے میں اچھے خاصے دردناک واقعات ہوگئے۔ اللہ اس قوم کواپنے حفظ امان میں رکھے۔ عجب فتنہ انگیزی اس پر حملہ آور ہے۔

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر