محفوظاتِ تحاریر
November 2nd, 2008بذریعہ دوست
علوی امجد خدا کرے تمہاری دنیا اور آخرت ایسے سنورے کہ دیکھنے والے رشک کریں۔ بخدا میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس بندے کی تعریف کرسکوں، میرے پاس شکریے کے الفاظ نہیں، جو کام اس بندے نے کردیا ہے وہ اردو کے لیے صدیوں پر محیط ایسی چھلانگ ہے جو اسے کہاں سے کہاں پہنچا دے گی۔ اب کوئی طعنہ نہیں دے سکے گا کہ اردو والے اردو کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ جب تک ہم میں علوی امجد جیسے سپوت موجود ہیں اردو مر نہیں سکتی، بخدا اردو زندہ رہے گی اور اپنے مخالفین کے سینوں پر مونگ دلتی رہے گی۔ علوی امجد اور علوی نستعلیق زندہ باد۔
اگر آپ نے ابھی تک علوی نستعلیق اتار کر انسٹال نہیں کیا تو کتنی بڑی نعمت سے محروم ہیں آپ۔ ارے ابھی اتاریں، انسٹال کریں اور میرے بلاگ کا فائرفاکس میں مزہ لیں خالص اردو رسم الخط کے ساتھ، نستعلیق میں اسی نستعلیق میں جس کے آپ اخباروں، رسالوں اور تصویری اردو کی ویب سائٹس پر عادی ہیں۔ اب یہ سب کچھ ممکن ہے۔
انشاءاللہ یہ ابتدا ہے۔ ابھی ایسے کئی نستعلیق میدان میں اتریں گے اور دنیا اردو کا عروج انٹرنیٹ پر دیکھے گی۔
علوی امجد اور امجد نستعلیق کی بنیاد بننے والے خط رعنا فونٹ کے خالق فاروق سرور خان کا بہت شکریہ۔ اللہ ان کے دو جہانوں کو سنوار دے انھوں نے اردو کو سنوار دیا۔
یہ فونٹ لینکس پر ونڈوز سے بھی پیارا لگ رہا ہے۔ اوبنٹو پر فائرفاکس 3 میں مجھے ابھی تک کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا جبکہ ونڈوز پر فائرفاکس میں ہی اردو محفل کے نیویگیشن بار کے روابط اوپر نیچے نظر آرہے تھے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
September 2nd, 2008بذریعہ دوست
شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome
کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
March 16th, 2008بذریعہ
ہمارے ایک نئے اردو بلاگر خرم شہزاد خرم نےمحفل پر ایک پوسٹ میں گلہ کیا ہے کہ پرانے بلاگرز نئے بلاگروں کے بلاگ پڑھتے نہیں اور تبصرے نہیں کرتے۔ بلکہ آپس میں ہی تو میرا حاجی بگو اور میں تیرا حاجی بگویم کرتے رہتے ہیں۔
مجھے ان سے اختلاف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم ہر اس تحریر پر تبصرہ کرتے ہیں جو اچھی لگتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تبصرہ نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پڑھا نہیں جارہا اور تیسری بات یہ کہ آپ خود بھی دوسروں کے بلاگز پر تبصرے کریں گے تو لوگ آپ کے بلاگ پر تبصرے کریں گے۔
تبصرے حاصل کرلینا بلاگنگ کی معراج نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے تبصرہ نہ ہونے کا بہت قلق ہوا کرتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے تبصرے کی توقع ہی چھوڑ دی۔ اب کوئی تبصرہ کرے یا نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نئے بلاگرز کے لیے میری کچھ تجاویز ہیں اگرچہ بدتمیز پہلے ہی اس سلسلے میں تجاویز دے چکا ہے۔
تبصروں کی آس نہ رکھیں۔ اس کی بجائے آپ اگر کلک کاؤنٹر جیسے پلگ ان استعمال کریں تو آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کو پڑھا جارہا ہے۔ اپنی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کسی بھی ویب سائٹ کاؤنٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ گوگل اینالیٹکس کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ کون کون آپ کا بلاگ پڑھ رہا ہے اور کہاں سے پڑھ رہا ہے۔
تحاریر لکھتے رہیں۔ اگر داد وصولنی ہے تو انوکھے موضوعات چنیں۔ یہ موضوع میں نے پہلی بار ضمیمہ پر دیکھا اور اس پر تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔
سیاست پر لکھیں، یا کسی اور موضوع پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ بس لکھ ڈالیں لیکن یہ بھی نہ ہو کہ آپ بلاگنگ کے نشئی ہوجائیں۔
بلاگ پر وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔ میرے بلاگ پر ورڈپریس اور لینکس کے کئی ٹیوٹوریلز موجود ہیں۔ میں نے یہ سب خود سیکھا اور پھر آگے سکھانے کے لیے لکھا۔ ان تحاریر کی وجہ سے اب بھی کئی نئے قاری میرے بلاگ پر آتے ہیں بلکہ اگر کوئی لینکس کے بارے میں پوچھے تو میں اپنے بلاگ کا ربط بلاتکلف دے دیا کرتا ہوں۔ آپ بھی کچھ ایسا لکھیں جو قاری کو سیکھانے کی نیت سے لکھا گیا ہو۔
بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے جو آنلائن آگئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ توقعات لگانا خاصا پریشان کرتا ہے بعد میں۔ بس اسے اپنی روٹین بنا لیں ایک ایسی جگہ جہاں آپ دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کیا کرتا ہوں۔
اور ایک آخری بات زبان کے سلسلے میں۔ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہورہا ہے کہ اردو کی خدمت کے نام پر ہم اس کی ٹانگ توڑ رہے ہیں انٹرنیٹ پر۔ اردو میں املاء کی غلطیاں بہت زیادہ کی جارہی ہیں۔ اردو بلاگرز سے التماس ہے کہ لکھنے کے بعد تین چار بار پوسٹ کو پڑھ لیا کریں۔ ہم ذ کو ز اور ز کو ذ بنا رہے ہیں۔ ت اور ط کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ براہ کرم اردو املاء کا خیال رکھیے۔ اگر آپ کی زبان معیاری ہوگی تو قاری پر اچھا اثر پڑے گا اس کا بھی۔ عجلت میں کی گئی پوسٹ پھوہڑ پنے کو ظاہر کرتی ہے۔ خود میرا یہ حال ہے کہ دو تین بار پڑھنے کے باوجود غلطیاں رہ جاتی ہیں جنھیں پوسٹ کرنے کے بعد پھر مدون کرکے درست کیا کرتا ہوں۔
وسلام

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
January 21st, 2008بذریعہ
لو جی بدتمیز کو مبارکباد ان کی سالگرہ پر۔ ویسے تو ہمارا آج کل لکھنے کو ککھ بھی دل نہیں کررہا۔ اس بہانے ایک اور پوسٹ ہی سہی۔ اللہ تم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ہمیشہ رکھے۔ آمین۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 24th, 2007بذریعہ
ویکیا ایک اوپن سورس تلاش گر کا نام ہے۔ تلاش گری یعنی سرچ انجن کے میدان کا بادشاہ گوگل ہے۔ کبھی یاہو اور الٹا وسٹا کا نام بھی اسی ضمن میں بہت اونچا تھا آجکل لوگ ان کی طرف کم کم ہی جاتے ہیں۔ تلاش گری میں مائیکروسافٹ نے بھی ونڈوز لائیو سرچ کی صورت میں ٹانگ اڑائی ہوئی ہے لیکن گوگل کو ان پر واضح برتری حاصل ہے۔
ویکیا سرچ کا قیام شاید گوگل کی حاکمیت کو چیلنج ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی لیے گوگل نے نول پراجیکٹ کے نام سے وکی پیڈیا کے مقابل ایک مجمع العلوم بنا ڈالا ہے۔ اس میں کتنی سچائی ہے یا نہیں یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اصل میں بتانا یہ تھا کہ ویکیا کے قیام کا اعلان ہوئے کوئی سال بھر ہونے کو ہے۔ اس کے بعد اب جاکر ویکیا کے بانی جمی ویلز نے ویکیا کے پرائیویٹ بی ٹا ورژن کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ویکیا کی ایک میلنگ لسٹ میں کیا گیا ہے تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویکیا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی ویب سائٹ سے رجوع کیجیے۔ میں ویکیا کے لیے اپنے سسٹم کے کچھ ریسورسز دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ یہ اوپن سورس پراجیکٹ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ قابل استعمال حالت میں آسکے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 9th, 2007بذریعہ
اس وقت رات کے بارہ بج رہے ہیں بلکہ بج گئے ہیں اور پچھلے تین گھنٹوں سے میں مونو کے بارے میں کئی ویب پیج اور آرٹیکلز کھنگال چکا ہوں۔ اس وقت میرا دماغ بقول محمد علی مکی لسی کے ساتھ ساتھ شاید کچی لسی ہورہا ہے۔ کل بروز اتوار اس پر اپنے مطالعے کے نتائج لکھوں گا مع ان “تکالیف” کے جن کی وجہ سے میرے ذہن پر اس کے بارے میں جاننے کا بھوت سوار ہوا۔
(اردو بلاگرز سے معذرت کے ساتھ باوجود کوشش کے میں اس وقت کے ہاٹ ٹاپک یعنی عورتوں کو گھورنا شورنا پر لکھنے کا موڈ نہیں بنا سکا۔ لکھتا کیا کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔)

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 7th, 2007بذریعہ
سورس فورج کو انٹرنیٹ کی بڑی ویب سائٹوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے ایک دعوے کے مطابق اس وقت قریبًا سترہ لاکھ صارفین ان کے پاس مندرج ہیں۔ سورس فورج کی بنیادی خاصیت اس کی وہ خدمات ہیں جو یہ اوپن سورس پراجیکٹس کی ہوسٹنگ کی صورت میں فراہم کرتی ہے۔ سورس فورج پر ان کے بقول اس وقت ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پراجیکٹس رجسٹر ہیں۔
اس سال مئی سے سورس فورج ایک بی ٹا سروس چلا رہی تھی۔ کبھی آپ سورس فورج پر گئے ہوں تو کسی بھی پراجیکٹ سے فائل اتارنے والے صفحے پر Get Support For xxx کا آئکن بھی نظر آتا ہوگا۔ میں بھی ایک عرصے تک اس بارے میں حیران ہوتا رہا ہوں۔ بہرحال اب سورس فورج نے اس سروس کو آزمائشی بنیادوں سے نکال کر آفیشلی جاری کردیا ہے۔ اسے سورس فورج مارکیٹ پلیس کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے چہرے و انداز کی بدولت سورس فورج اب اوپن سورس سافٹویرز کی مفت میں میزبانی کے ساتھ ساتھ ان کی خرید و فروخت میں بھی حصہ لےگا اور گاہک و پروفیشنل میں رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ اس وقت مارکیٹ پلیس پر رجسٹرڈ پراجیکٹس کی تعداد 700 کے قریب ہے جس میں بہت تیزی سے بڑھوتری کی توقع کی جارہی ہے۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 4th, 2007بذریعہ
لِن سپائر اور فری سپائر کے ڈویلپرز لِن سپائر کارپوریشن نے سی این آر ڈاٹ کوم کا بی ٹا ورژن جاری کردیا ہے۔ یہ ویب 2 پر مشتمل سافٹویر ڈیلیوری سروس ہے جو دنیا بھر کے لینکس صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے۔ اس سروس کا مقصد ڈیبین اور آر پی ایم بیسڈ لینکس سسٹمز کے لیے سافٹویر کا حصول اور ان کی تنصیب آسان بنانا ہے۔ سی این آر کا یہ نیا اور مفت ورژن فی الحال فری سپائر 2، لِن سپائر 6، اوبنٹو 7.04 اور 7.10 کے لیے دستیاب ہے۔ جلد ہی اس کی معاونت مقبول لینکس ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردی جائے گی جیسے ڈیبین، فیڈورا، سوسی وغیرہ وغیرہ۔
یاد رہے سی این آر لِن سپائر کی کمرشل سافٹویر سروس تھی۔ لیکن فری سپائر کے اجراء کے بعد انھوں نے اسے فری سپائر میں بھی متعارف کروایا۔ اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے ایک سافٹویر بنام سی این آر کلائنٹ فری سپائر کے ورژن 1.0 میں موجود تھا۔ لِن سپائر نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملکیتی مال کی جگہ سی این آر کا آزاد مصدر اور مفت ورژن ڈویلپ کیا جائے گا۔ یہ اعلان اسی سلسلے کی کڑی لگتا ہے۔ فری سپائر 2 سے اسے اوبنٹو بیسڈ کردیا گیا ہے۔ یعنی لِن سپائر اوبنٹو کو لے کر اس کے مواجے میں کچھ تبدیلیاں کرکے(فری سپائر کا طےشدہ ڈیسکٹاپ مواجہ کیڈی پر مشتمل ہے) اور کلوزڈ سورس ڈرائیورز و پلگ انز ڈال کر اسے فری سپائر کے نام سے جاری کرتا ہے۔ لِن سپائر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سی این آر اوبنٹو کے لیے جلد ہی دستیاب ہوگا اور اب اسے سب سے پہلے اوبنٹو کے لیے ہی جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسری ڈسٹروز کے لیے بھی جاری کردیا جائے گا۔ ایک عام صارف کے لیے لینکس میں سافٹویر انسٹال کرنا اچھا خاصا درد سر ہوتا ہے۔ چونکہ اس کام کے لیے کئی پیکج مینجمنٹ سسٹم ہیں۔ ڈیبین کا .deb اور ریڈ ہیٹ و فیڈورا پر مشتمل ڈسٹروز کا .rpm اور تو اور مینڈریوا کا اپنا الگ ہی پیکج سسٹم ہے۔ پیکج لینکس میں ایگزی فائل کی طرح ہی ہوتے ہیں جو سافٹویر کو انسٹال کرنے کے کام آتے ہیں۔ لینکس دنیا میں ایک عرصے سے کسی ایک پیکج مینجمنٹ سسٹم پر اتفاق کے سلسلے میں متفق ہونے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے نظام جاری بھی کیے گئے ہیں جو ڈسٹرو سے آزاد ہوتے ہیں یعنی ایسے فارمیٹ میں موجود سافٹویر کسی بھی ڈِسٹرو میں انسٹال ہوسکتا ہے۔ سی این آر بھی اسی سلسلے کی ایک منظم اور مربوط کڑی ہے۔
بحوالہ

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
December 3rd, 2007بذریعہ
.jpg)
ملک کی پرائیویٹ شدہ قومی فون کمپنی نے ایک نیا پیکج شروع کیا ہے۔ سرکاری چینل کے ساتھ ساتھ دوسرے چینلز پر بھی یہ مشہوری بڑے زوروشور سے آرہی ہے کہ اب پورے پاکستان میں لامحدود وقت کے لیے کال کریں۔ لیکن ان کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس میں کتنا جھوٹ ملا کر بول رہے ہیں۔
پہلی چیز کہ یہ مفت نہیں ہے صارف کو اس کے لیے ماہانہ 200 روپیہ (ایک روپیہ کم کرلیں) علاوہ ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے
یہ وقت لامحدود نہیں ہے صرف پانچ ہزار منٹ ہیں۔
یہ لوکل کالز پر لاگو نہیں ہوگا۔ یعنی اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے رشتے دار بیرونی شہروں میں ہوں۔
َ
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آپ پر یہ سروس زبردستی لگا دی گئی ہے۔ یعنی اگر استعمال نہیں کرنی تو اسے ڈی ایکٹیویٹ کرواؤ
غضب خدا کا ہونا تو یہ چاہیے تھا جو کوئی چاہتا اسے ایکٹیویٹ کروا لیتا لیکن ان کی منطق ہی نرالی ہے۔ کوئی ان کے باپ کا نوکر ہے جو فون کرکر کے اس کو ڈی ایکٹیویٹ کرواتا پھرے۔
سب سے بڑا نقصان ان بے چاروں کو ہے جنھیں پتا ہی نہیں کہ انھیں ہر ماہ اضافی بل پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ چاہے وہ اسے استعمال کریں یا نہ کریں۔ دیہات کے سیدھے سادھے پی ٹی سی ایل صارفین کی تو واٹ لگ گئی۔ آپ بھی اگر اس زبردستی کے ڈھول سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں تو 1236 پر کال کرکے اسے ختم کروائیے۔
اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی اس کے بارے میں آگاہی دیجیے تاکہ اگر لوگ نہ اسے استعمال نہ کرنا چاہیں تو اس زبردستی کے ڈھول کو اتار پھینکیں۔
اس ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ عجیب لوگ ہیں اور عجیب حکومت ہے جس کو ذرا بھی خیال نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ پی ٹی اے والے کہاں سوئے پڑے ہیں۔

Loading ...
محفوظاتِ تحاریر
November 30th, 2007بذریعہ
زکریا کا یہ اعتراض وزن دار ہے کہ پاکستانی بلاگز انگریزی میں بھی تو ہیں تو پھر اردو میں کیوں نہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میںکمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میںاپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔

Loading ...