آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

پاکستان کے سینکڑوں سکالرزکو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

December 7th, 2008بذریعہ دوست

پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو فنڈز اور سہولیات فراہم  کرنے والے کمیشن  ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مالی بحران کے پیش نظر رواں سال غیر ملکی سکالرشپس حاصل کرنے والے سینکڑوں سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے سے روک دیا، تمام سکالرز کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، سینکڑوں طلباء اعلیٰ کارکردگی، ٹیسٹ، انٹرویو کے بعد ایچ ای سی کی بیرون ملک ایم اے، ایم فل کی سکالرشپ حاصل کرنے کیلئے منتخب ہوئے تھے اور چند دنوں میں بیرون ملک روانہ ہونا تھا لیکن مالی طور پر غیر مستحکم ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سکالرز کو اپنے پروگرام ملتوی کرنے کے بارے آگاہ کر دیا کیونکہ ایچ ای سی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلباء کی مالی امداد نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق چند سکالرز نے عید کے فوراً بعد سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہونا ہے جبکہ اٹلی، جرمنی اور فرانس کی سکالرشپ حاصل کرنے والے درجنوں طلباء نے ضروری قرار دیا جانے والا چھ ماہ کا لینگجویجز کورس بھی مکمل کر لیا۔ ایچ ای سی کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں میں مالی بدعنوانیوں اور من پسند اداروں کو اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کی وجہ سے سکالرشپ پر جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا۔

ایچ ای سی کے اعلیٰ افسر کے مطابق ادارہ بمشکل پہلے سے بیرون ملک بھیجے جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی نے مالی بحران کی وجہ سے مستقبل میں بھی تمام سکالرشپس کے پروگرامز اور دو سو پچاس مختلف اکیڈیمک اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی منسوخ کر دیئے ہیں اس وقت ایچ ای سی کو دس ارب روپے کے شدید مالی بحران کا سامنا ہے

القمر پر فائل ہونے والی یہ خبر بلاتبصرہ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

لوڈ شیڈنگ پھر سے: اوقات پر واپسی مبارک

November 28th, 2008بذریعہ دوست

ایک مہینہ لگژریز میں گزارنے کے بعد پاکستانی قوم کو اس کی اوقات میں واپس لانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بسم اللہ چالیس فیصد اضافہ نفی تیرہ فیصد اضافہ شدہ بجلی کے بل بھیج کر کردی گئی ہے۔ اس کے بعد دوسرا مصرع ڈیموں میں پانی کی کمی کی صورت میں ادا ہوا ہے۔ مزید غزل ابھی جاری ہے جس کی پہلی قسط میں ایک تھرمل پاور پلانٹ کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر بندش کی خبر شامل ہے۔ یہ پاور پلانٹ یقینًا آئی پی پی ہے اور اس کی بندش کی نامعلوم وجوہات میں سرفہرست تیل کی عدم فراہمی ہوگی۔ دوسری غیر اہم وجوہات میں ٹرانسمشن سسٹم کی خرابی بھی ہوسکتی ہیں۔ ابھی آپ مزید اوقات میں آنے کے لیے تیار رہیے اور بھیک میں ملی ہوئی قرضے کی پہلی قسط کو بھول جائیے۔ وزرا مشراء اور وڈے لوگوں کی تنخواہیں کٹنے کے بعد کچھ بچ گیا تو ان کی حفاظت کے اخراجات پر لگ جائے گا۔ اس سے بھی کچھ بچ گیا تو بیوروکریسی بھی پڑی ہے راہوں میں۔ اس کے بعد شاید آپ کی باری آسکے۔ لیکن آپ کی باری کیا آئے گی ان پیسوں سے تیل تو خریدا نہیں جاسکتا، چناچہ اگلا ایک مہینا اپنی اوقات میں رہ کر گزاریے۔

انجوائے لوڈ شیڈنگ و بے روزگاری۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

طیارے گرانے کی صلاحیت ہے، نہیں ابھی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں

November 26th, 2008بذریعہ دوست

آج کے ایکسپریس نیوز کی شہ سرخی ائیر چیف کا بیان ہے جس کے مطابق پاک فضائیہ کے ریڈار جاسوس طیاروں کا کھوج نکال لیتے ہیں اور ان کو ایف سولہ سے گرایا بھی جاسکتا ہے۔ یہی خبر اردو نیوز پر کچھ ایسے موجود ہے۔

کراچی ۔ پاک فضائیہ کے سر براہ ایئر چیف مارشل تنویر احمد نے کہا ہے کہ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں کوروکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیصلہ حکومت کوکرنا ہے کہ وہ کس وقت ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ بات انھوں نے آئیڈیاز 2008ء نمائش میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ انھوں نے جے 17 تھنڈر کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ ایسی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ جاسوس طیاروں اور جدید ترین میزائلوں کو اپنی حدود میں نشانہ بنا سکے لیکن اس بارے میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ حملہ آوروں سے جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاک فضائیہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔

ہمارے وزیر دفاع صاحب اس کے بالکل الٹ فرما رہے ہیں۔ جیسا کہ وہ شروع سے ہی بیان دیتے آرہے ہیں کہ اتنی بلندی پر طیارے گرانے کی ہم میں صلاحیت نہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

کراچی ۔ وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ پاکستان بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش کر رہا ہے ۔ منگل کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے دوست ممالک سے با ت چیت ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی پروگرام کو بھی ترقی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اس میں 12 سوسیکورٹی اہلکار اور ساڑھے چار ہزار شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ سے سب سے زیا دہ خطرہ پاکستان کو لاحق ہے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے سابق انتظامیہ کے خلاف کئی بارکارروائی کے خلاف کئی بار کارروائی نہیں ہو سکی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دفاع بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

اب بتائیں کہ کس کی بات کا اعتبار کیا جائے؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (1 votes, average: 5 out of 5)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

55 وزیر

November 12th, 2008بذریعہ دوست

وڈے کچھ سنا اپنے 55 وزیر ہوگئے ہیں۔

چھوٹے نے وڈے سے کہا تو وڈا چونک گیا۔

55 وزیر واہ 55 وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

وڈے نے گنگنانا شروع کردیا۔

چھوٹا پہلے تو حیران ہوا پھر ہولا ہاں بھوکی ننگی قوم ہی ہے۔

وڈا پھر بڑبڑایا ننگی قوم بھوکی ننگی قوم ننگ وطن ہاہاہا

ننگ وطن ننگ انسانیت ننگ ضمیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

اور چھوٹا تاسف سے وڈے کو دیکھنے لگا۔ یہ تو کریک ہی ہوتا جارہا ہے۔

اوئے یہ کیا بک بک لگا دی ہے تم نے ۔ حکومت کا فرمان ہے کہ ان وزیروں کی تنخواہ ایم این اے سے بھی کم ہے۔

ہاہاہاہاہا

وڈے نے پھر قہقہہ لگایا ہاں۔ ان پر کونسا خرچ ہوگا۔ کونسا ہمارا ہوگا۔ باہر سے آئے گا۔

اللہ کے واسطے قرضہ دے دو۔ 17 کروڑ پاکستانیوں کی حکومت کے لیے قرضہ چاہیے۔ بھوکی ننگی قوم کی بھوکی ننگی حکومت، نہیں بھوکی ننگی نہیں ،امیر کبیر حکومت۔ امیر کبیر حکومت؟ وڈے نے خود سے سوال کیا۔

نہیں فقیر حکومت ہاہاہا فقیر حکومت۔ در در جاکر مانگتی ہے۔ ارے خدا کا واسطہ کوئی دو چار ارب ڈالر دے دو۔ ہمارے وزیروں مشیروں کی تنخواہیں دینی ہیں۔ الاؤنسز کم نہ پڑ جائیں۔ ارے تمہیں تمہارے جیزرز کرائسٹ کا واسطہ کچھ دے جا۔ کچھ دے جا سخیا۔ دیکھو اس قوم کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں بھوکے ہیں۔ سر پر چھت نہیں۔ آخر ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ دے جا سخیا پاکستان کی حکومت کے لیے دے جا۔

دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔ دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔

وڈے نے پھر قہقہے لگانے شروع کردئیے۔

دے جا سخیاں وزیراں دے ناں دا۔ دے جا سخیا۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

پاکستان ایک بار پھر کشکول اٹھائے

September 12th, 2008بذریعہ دوست

اس وقت پاکستانی معیشت پھر سے دس سال پہلے والی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونی والی ایجی ٹیشن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور متحدہ بحرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شوکت عزیز حکومت جس نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا (جو اصل میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے پر کہا گیا تھا ورنہ پاکستان عالمی بینک، ایشیائی بینک اور دوسرے ایسے اداروں سے اس کے بعد بھی قرض لیتا رہا ہے)۔ اب وہی کشکول پھر سے اٹھائے ہم کبھی ایک کی طرف دیکھ رہے ہیں کبھی دوسرے کی طرف۔

تیل کی سٹے بازی نے ہماری معیشت کا بھرکس نکال دیا اور اس وقت پاکستان اندرون و بیرون ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ اندرونی جانب بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں کا مقروض (کوئی ایک سو بیس ارب روپے کسی اخبار میں پڑھے تھے) اور بیرونی طرف سعودی عرب جیسے ممالک کے تیل کے بل کا۔ وزیر خارجہ اور دوسرے کئی لوگ حتی کہ ابتدائی دنوں میں نواز شریف اور زرداری جی نے بھی سعودیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ مہلت حاصل کی جاسکے۔

ہمارا روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں سے غیر یقینی حالات کی بنا پر غیر ملکی سٹے بازوں نے روپیہ نکال لیا ہے۔ افراط زر اس ماہ 25 فیصد کی شرح تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے چیزوں کی گرانی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔

پانی کی کمی مرے پر سو درے ہیں۔ اس بار بارشیں ہونے کے باوجود دریاؤں میں پانی کم ہے اور پنجاب کے لیے بری خبر یہ کہ اس کو پچاس فیصد تک کم پانی ملنے کا خدشہ ہے۔ یعنی اگلی گندم کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی۔ اس بار بھی اکثر علاقوں میں کسانوں نے چاول اس امید پر کاشت کرلیے کہ بارشیں ہورہی ہیں۔ لیکن شیخوپورہ کے اردگرد (میرے ننھیال) کے علاقے میں زمینیں بارش کو ترستی ہی رہ گئیں۔ یہ علاقہ کبھی نہری پانی سے اچھا خاصا سیراب ہوا کرتا تھا اب پانی کے کھال آدھے سے بھی کم بھرے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو مہنگا ڈیزل خرید کر فصلوں کو ٹیوب ویل کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں چاول کی فصل کی نگہداشت بہت مشکل سے ہوپارہی ہے۔

اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ ان کا مقصد کیا ہے۔ سب کے سامنے ہے۔ کچھ قرض دینے کے لیے یہ لوگ اپی ڈھیروں شرائط منوائیں گے۔ جن میں (بشمول منافع بخش) حکومتی اداروں کی نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر ترقیاتی اخراجات میں میں کمی جیسی چیزیں شامل ہونگی۔ اس بار ترقیات بجٹ ویسے بھی کم رکھا گیا ہے، مزید کم خسارہ کم کرنے کے چکر میں ہوجائے گا۔

قبائلی علاقوں میں جاری جنگ اور امریکی حملوں نے سرمایہ کاری کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سرمایہ دار زرافے کی سی خصلت والا جانور ہے جو خطرے کو کئی میل دور سے ہی محسوس کرکے بگٹٹ بھاگ لیتا ہے۔ پاکستان میں یہ حال ہے کہ یہاں سے سرمایہ دھڑا دھڑ دبئی اور یورپ منتقل ہورہا ہے۔ پچھلے سالوں میں اربوں ڈالر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں لگ چکے ہیں، وہاں ہمارے سرمایہ کار ٹھیکیداری کررہے ہیں، بزنس کررہے ہیں اور یہاں عوام مکانوں کو ترس رہے ہیں۔

بجلی کا بحران ابھی مزید سنگین ہوگا۔ اگلے ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے دعوے پورے ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ابھی ستمبر ہے مجھے خدشہ ہے کہ اکتوبر کے وسط سے ہی سردیوں کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوجائے گی۔ اور یہ 8 دس گھنٹے نہیں 16 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ وجہ پانی کی کمی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے جو ہنگامی انتظامات کیے جارہے ہیں ان میں سرفہرست کرائے کے بجلی گھروں کی فراہمی ہے۔ لیز پر لیے گئے یہ پلانٹ اچھے خاصے مہنگے پڑیں گے۔ جتنی ان کی لیز ادا کی جائے گی اتنے میں شاید نیا پلانٹ مہیا ہوجائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ متعلقہ مینوفیکچررز سے نئے ٹربائن دستیاب ہی نہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ڈیزل اور مٹی کے تیل سے چلنے والے کرائے کے ٹربائن حاصل کیے جائیں۔ ان سے بجلی کی کمی تو پوری ہوجائے گی لیکن اس کا اثر قیمتوں، معیشت اور صنعت پر کیا پڑے گا وہ اظہر من الشمس ہے۔ انڈیا کی طرز پر ہمیں کوئی بھی ایٹمی توانائی دینے کا نہیں۔ لے دے کر ایک چین رہ جاتا ہے۔ کاش ہمارے حکمران چین سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں۔ صدر صاحب پہلا دورہ چین کا فرما رہے ہیں اللہ کرے اس میں دس بارہ ایٹمی ری ایکٹرز کی بات بن جائے۔ ایٹم بم تو ہم نے چوری کرکے بنا لیا لیکن ایٹمی توانائی سے بجلی بنانے کے معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ توانائی کے لیے ایران پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں سے اور قطر سے گیس کی درآمد کو بھی جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ پاکستان کے پاس اگلے بیس برس میں ملکی گیس کے نام پر شاید کچھ ہی بچے۔ استعمال تو پہلے ہی ہورہے تھے لیکن اب پٹرول کی بجائے گیس پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے یعنی گیس اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجائے گی۔

ہمیں متبادل ذرائع توانائی پر بھی غور کرنا ہوگا۔ شمسی توانائی ایک بہترین آپشن ہے۔ اگر اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں تو بحران آدھے سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم مخلص ہوں اور اس جنگ سے ہماری جان چھوٹے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے منہ سے نوالے بھی چھین لے گی۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ٹیکس، ٹیکس اور ٹیکس

September 9th, 2008بذریعہ دوست

پچھلے دو ماہ سے ہم ٹیکس بھر رہے ہیں۔ پہلے پراپرٹی ٹیکس آیا اڑھائی مرلے کا مکان اور دو دوکانیں جن کا کرایہ 1500 ماہانہ ہے پر سال میں 3300 روپیہ ٹیکس وصول کرتی ہے حکومت۔

اس کے بعد صدر کی روزگار سکیم سے لیا گیا چنگ چی لوڈر رکشہ، جس کی ٹوکن فیس اور فٹنس فیس مبلغ 2425 روپے ادا کرنے کا حکم آگیا ہے۔ ابھی اس کی قسط کے پیسے کسی نہ کسی طرح پورے کیے تھے اور ٹیکس کا مژدہ آگیا۔

یہ تو انفرادی حال ہے۔

اجتماعی حال بجلی پر کتنے سرچارج اور ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے سیلابی متاثرین سے لے کر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تک کا فی یونٹ ٹیکس ہم بھرتے ہیں۔

سیلز ٹیکس سولہ فیصد کردیا گیا ہے جو ہر چیز پر نافذ ہے۔

بجلی پر پہلے سبسڈی دی جاتی تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے چناچہ پچھلے ماہ سے بلوں میں سولہ فیصد جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔

اگلے ماہ سے اکتیس فیصد اضافہ مزید متوقع ہے۔ یعنی ہمارا بل جو پچھلے ماہ 1600 تھا اس بار 2000 آیا اور اگلی بار 2500 کے اریب قریب ہوگا۔

موبائل فون کے ریٹس پر 21 فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔ چناچہ دو منٹ میں ہی دس روپے کٹ جاتے ہیں۔

پٹرولیم پر اچھا خاصا ٹیکس فی لیٹر وصول کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح بیس روپے سے کم نہیں۔

اور انھی ٹیکسوں پر عوام کی حکومت چل  رہی ہے۔ اور عوام بس ہورہے ہیں۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بابا مشرف (مرحوم)

August 18th, 2008بذریعہ دوست

لو جی بابا مشرف مواخذے کے ڈر سے مستعفی ہو ہی گیا۔ بقول اس کے پارلیمنٹ کو چلتا بھی کیا جاسکتا تھا اور سپریم کورٹ کو پھڈے میں ملوث بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس نے احسان عظیم کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کو رکھ کر استعفے کا فیصلہ کیا۔

آہ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔ اب یاد آیا کرے گی اچھا بندہ تھا کم لوٹا اب والے زیادہ تجربہ کار لٹیرے ہیں۔

اس استعفے پر پی پی پی کو تو صدر کا عہدہ مل گیا۔ ہمیں کیا ملے گا۔ آٹا، بجلی،  گیس اور ضروریات زندگی سستی ہوجائیں گی؟ یہ سب اس حکومت پر منحصر ہے جس کے گوڈوں میں پانی نظر نہیں آتا۔

اب دیکھ لیتے ہیں کہ جج بحال ہوتے ہیں ان سے یا نہیں۔ یا پھر وہی مشاورت مشاورت کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں یہ لوگ۔

گڈ بائی بابا مشرف جی۔ اب اگر عدالتی ٹرائل ہوجائے تو موج ہی ہوجائے پھر مزید کسی آمر کو جرات نہ ہو ایسا کرنے کی۔ پر نہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اسے چپکے سے باہر نکال دیا جائے گا اور جب فوت ہوگا تو اسے گارڈ آف آنر اور پرچم مہیا ہوگا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

کمی کمین

August 3rd, 2008بذریعہ دوست

خاور کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ پر انھیں مسلم لیگ ن جاپان کے وڈوں نے دھمکیاں دی ہیں۔ بھئی خاور کو احتیاط کرنی چاہیے تھی اتنا سچ نہیں لکھنا چاہیے تھے۔ یہ ملک تو ہے ہی مسلم لیگ کا۔ نہ مسلم لیگ ہوتی نا پاکستان بنتا۔ اوپر سے ہر آمر کے ساتھ مسلم لیگ چمٹی رہی ہے۔ موجودہ اصلی تے وڈے مسلم لیگی تو بس ن لیگ والے ہیں۔ چاہے ق لیگ والے اپنے آپ کو پاکستان مسلم لیگ کہلواتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔ آٹھ سال کے بعد مسلم لیگ ن کی باری آئی ہے تو ان کا اتنا اکڑنا تو فرض بنتا ہے۔

لاہور میں وزیر اعلٰی شہباز شریف کے آنے کے بعد پولیس والوں نے بھی پارکوں اور باغوں سے فحاشی سے خاتمے کے لیے پھر سے مہم شروع کردی ہے۔ جوڑوں کو سرعام روک کر بے عزت کیا جاتا ہے۔ شادی ہالوں میں جاکر جوتے لگائے جاتے ہیں۔ تو باہر بھی تو ان کی ٹور ہونی چاہیے۔ آخر یہ ملک ان کے مامے کا ہے اور ہم کمی کمین غریب غرباء جنھیں جو چاہے آکر دبا دے، استحصال کردے، ظلم کرے۔ کون پوچھنے والا ہے۔

خاور کھوکھر نے غلطی کی۔ اسے تو چاہیے تھا جاپان میں بیٹھا ہے تو چپ چاپ بیٹھا رہے۔ یہ تو محفوظ ہے۔ خواہ مخواہ میں پنگا لے بیٹھا۔ اب بھی وقت ہے وڈوں سے معافی مانگ لے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

بارشیں، بجلی اور غذائی اجناس

April 4th, 2008بذریعہ

پچھلے چار پانچ دنوں سے ملک میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میں خوش تھا کہ چلو اب لوڈشیڈنگ سے جان چھوٹے گی۔ والدہ کہنے لگیں یہ بارشیں جو اب ہورہی ہیں جنوری کے آخر یا فروری میں ہونی چاہئیں تھیں۔ ان بارشوں کی وجہ سے ڈیم تو شاید بھر جائیں گے لیکن فصلوں کا ستیاناس ہوجائے گا۔ محکمہ موسمیات کے کے مطابق سندھ میں جاری ان طوفانی بارشوں سے گندم کی فصل بری طرح متاثر ہوگی۔

پچھلے ایک سال سے پاکستان شدید غذائی بحران میں مبتلا ہے اور یہ بحران آئندہ بڑھتا ہی نظر آرہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اسی قسم کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ دنیا بڑے غذائی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں تو پہلے ہی صورت حال بہت خراب ہے۔ آٹے کا بحران پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔ کراچی میں فلور ملوں کا کوٹہ کم کردیا گیا ہے۔ میرے ایک عزیز بتا رہے تھے کہ آٹے کا تھیلا لینے کے لیے سارا دن ذلیل ہوا ہوں پوری کالونی میں کسی بھی دوکان پر آٹا نہیں تھا۔ فیصل آباد میں متوسط طبقے کے لوگ یوٹیلٹی سٹور سے آٹا لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب واقع سٹور پر پچھلے کئی ہفتوں سے آٹا نہیں آیا۔

کل رات سے فیصل آباد میں لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے۔ سات سے آٹھ تک بند رہنے والی بجلی صرف چند منٹ بند رہ کر دوبارہ آگئی۔ آج بھی 9 سے 10 تک کے لیے بجلی بند نہیں ہوئی۔ شاید ڈیموں میں پانی وافر مقدار میں آچکا ہے۔ لیکن اس کی قیمت شاید ہمیں گندم اور دوسری فصلوں کے بحران کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ اس سال کپاس کی فصل بھی ہدف سے کم حاصل ہوگی۔ گندم کی فصل کو تو دوہرا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔ جنوری میں پڑنے والی سردی کی شدید لہر نے گندم کے پودے ہی جلا ڈالے۔ کہتے ہیں سردی کا بہترین علاج ہے کہ فصل کو پانی دے دیا جائے۔ اس سے درجہ حرارت معتدل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس وقت پانی کہاں تھا۔ ڈیم تو بیوہ کی مانگ کی طرح خالی تھے۔ اب بارشیں ہورہی ہیں تو گندم کی فصل پھل دینے کے لیے تیار ہے۔ اسے اس وقت گرمی کی ضرورت ہے لیکن ان بارشوں سے اتنی ٹھنڈ ہوگئی ہے کہ مجبورًا دوہرا کھیس لے کر سونا پڑ رہا ہے پھچلے دو تین دن سے۔ ورنہ کمرے میں سونا ہی محال ہوتا جارہا تھا اس سے پہلے ۔

ملک کی آدھی آبادی اور چورانوے اضلاع خوراک کے بحران کا شکار ہیں۔ پھچلے ایک سال میں آٹے کی قیمت 28 فیصد اور چاول کی قیمت 48 فیصد بڑھ چکی ہے۔ مجھے یاد ہے آج سے صرف دس سال پہلے تک میرے نانا اور ماموں کے گاؤں اور آس پاس کے علاقے میں چاول کثرت سے کاشت کیا جاتا تھا۔ میں سانگلہ ہل کے علاقے کی بات کررہا ہوں جو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے شیخوپورہ سے کچھ ادھر واقع ہے جنکشن ہے اور اچھا خاصا شہر بن چکا ہے۔ لیکن اب پانی کی کمی کی وجہ سے چونا (چاول کی فصل چُونا نہیں چونا پیش کے بغیر) کاشت کرنا موقوف کردیا گیا ہے۔ بہت کم جگہ سے چاول کی سوندھی خوشبو اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔

آنے والا وقت نہ جانے ہم پر کیسی آزمائشیں لارہا ہے۔ لیکن اس کا دیباچہ ہی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان، چین، افغانستان، بھارت، نیپال اور بھوٹان جیسے ممالک ہمالیہ کے گلئیشیرز سے نکلنے والے دریاؤں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ عالمی موسمی تبدیلیوں نے ان کے پگھلنے کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ ایک طرف جہاں بنگلہ دیش جیسے علاقے سطح سمندر بلند ہونے سے ڈوب جائیں گے وہاں پاکستان جیسے علاقے پانی نہ ہونے کی وجہ سے شدید غذائی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ دنیا کے قریبًا تین ارب افراد ان ممالک میں رہتے ہیں۔ ہمالیہ کی جھیلیں جو گلیشئیرز کے پگھلنے سے وجود میں آتی ہیں اپنی گنجائش سے زیادہ بھر رہی ہیں اور آئندہ پانچ سے دس برس میں یہ اپنے کناروں سے چھلک کر کروڑوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیں گی۔ اربوں ڈالر کی املاک تباہ ہوجائیں گی اور شدید سیلابوں سے ایک وسیع علاقہ زیر آب آکر تباہ ہوجائے گا۔ جس حساب سے یہ گلیشئیر پگھل رہے ہیں لگتا ہے ہمالیہ کا دامن ان سے خالی ہوجائے گا۔ پھر بارشیں ہوا کریں گی اور سیلاب کی صورت میں سمندروں کی نذر ہوجایا کریں گی۔

پاکستان کو اپنے پانی کے ذخائر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے پلے ککھ نہیں رہے گا اور پاکستان سے زندہ بھاگ جیسے نعرے سچ ثابت ہوجائیں گے۔ اس وقت ڈیموں کی تعمیر جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے زیریں علاقوں کے رہنے والوں کو اعتراض ہے کہ پانی روکنے سے ڈیلٹا کا علاقہ تباہ ہورہا ہے۔ اوپر والے یہ شور مچاتے ہیں کہ اتنا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک وسیع مذاکرے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ڈیم ضرور بننے چاہیئں چاہے ان سے نہریں نہ نکلیں بلکہ پانی واپس دریا میں ہی ڈال دیا جائے تو کچھ برا نہیں۔ پاکستان میں ابھی سے نظر آرہا ہے کہ پانی ایک مخصوص وقت میں وافر مقدار میں ہوتا ہے اس کے بعد کوئی چار ماہ ہمیں ہاتھ ملنا پڑتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پچھلے دس سال میں کبھی ڈیم اس طرح خالی ہونے کے بارے میں سنا ہو۔ تربیلا اور منگلا کی گنجائش تیزی سے کم ہورہی ہے۔ گار اور مٹی نے ان کی جھیلوں کی گنجائش بہت کم کردی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچا کرتا ہوں اگر ان کی بھل صفائی ہی کردی جائے تو بہت سی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ خالی ہی تو نہیں ہوجاتے۔ ڈیڈ لیول تلے پانی ہوتا تو ہے جو کہ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ تاہم ان کی صفائی کرنا ناممکن نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس کا کوئی طریقہ نکل آئے تو ہم شاید آئندہ بحرانوں کو کچھ وقت کے لیے ٹال سکیں۔

وقت بہت تیزی سے ہمارے خلاف ہوتا جارہا ہے۔ اگر ہم نے اس کے ساتھ چلنے کی کوشش نہ کی تو ہمیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ کاش یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے۔ کاش ہم کچھ کرلیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

دعا

February 23rd, 2008بذریعہ

گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔

اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر