آپ کے دوست شاکر کی تلخ و شیریں باتیں، تبصرے تجزیے اور حال دل

آوازِ دوست

محفوظاتِ تحاریر

55 وزیر

November 12th, 2008بذریعہ دوست

وڈے کچھ سنا اپنے 55 وزیر ہوگئے ہیں۔

چھوٹے نے وڈے سے کہا تو وڈا چونک گیا۔

55 وزیر واہ 55 وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

وڈے نے گنگنانا شروع کردیا۔

چھوٹا پہلے تو حیران ہوا پھر ہولا ہاں بھوکی ننگی قوم ہی ہے۔

وڈا پھر بڑبڑایا ننگی قوم بھوکی ننگی قوم ننگ وطن ہاہاہا

ننگ وطن ننگ انسانیت ننگ ضمیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

ہاہاہاہاہا

بھوکی ننگی قوم کے پچپن وزیر

اور چھوٹا تاسف سے وڈے کو دیکھنے لگا۔ یہ تو کریک ہی ہوتا جارہا ہے۔

اوئے یہ کیا بک بک لگا دی ہے تم نے ۔ حکومت کا فرمان ہے کہ ان وزیروں کی تنخواہ ایم این اے سے بھی کم ہے۔

ہاہاہاہاہا

وڈے نے پھر قہقہہ لگایا ہاں۔ ان پر کونسا خرچ ہوگا۔ کونسا ہمارا ہوگا۔ باہر سے آئے گا۔

اللہ کے واسطے قرضہ دے دو۔ 17 کروڑ پاکستانیوں کی حکومت کے لیے قرضہ چاہیے۔ بھوکی ننگی قوم کی بھوکی ننگی حکومت، نہیں بھوکی ننگی نہیں ،امیر کبیر حکومت۔ امیر کبیر حکومت؟ وڈے نے خود سے سوال کیا۔

نہیں فقیر حکومت ہاہاہا فقیر حکومت۔ در در جاکر مانگتی ہے۔ ارے خدا کا واسطہ کوئی دو چار ارب ڈالر دے دو۔ ہمارے وزیروں مشیروں کی تنخواہیں دینی ہیں۔ الاؤنسز کم نہ پڑ جائیں۔ ارے تمہیں تمہارے جیزرز کرائسٹ کا واسطہ کچھ دے جا۔ کچھ دے جا سخیا۔ دیکھو اس قوم کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں بھوکے ہیں۔ سر پر چھت نہیں۔ آخر ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ دے جا سخیا پاکستان کی حکومت کے لیے دے جا۔

دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔ دے جا سخیا اللہ دے ناں دا۔

وڈے نے پھر قہقہے لگانے شروع کردئیے۔

دے جا سخیاں وزیراں دے ناں دا۔ دے جا سخیا۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

مونو(Mono): مونو کے ساتھ میں؟ چہ معنی دارد

December 9th, 2007بذریعہ

بندہ کس کو دوش دے۔ اردو محفل کے لوگوں کو جنھوں نے میرا اتنا دماغ خراب کردیا کہ میرے جیسا سیدھا سادھا بندہ جو زیادہ زیادہ ایم بی اے کرکے کسی فرم میں چھوٹے موٹے عہدے پر لگ جاتا، کچھ سال بعد ٹنڈ ہوجاتی اور صاحب توند ہوجاتا۔ ایک بیوی مع چند بچوں کے معرض وجود میں آجاتی اور پھر فوت ہوجاتا۔ چند ایک لوگ جانتے کہ فلانا تھا اور چنگا تھا فوت ہوگیا۔
2005 کی بات ہے شاید ستمبر تھا جب پہلی بار میں اردو محفل پر آیا۔ اس کے بعد جو میں نے یہ پنگا اور وہ پنگا یعنی پنگا در پنگا لینا شروع کیے۔ کبھی ورڈپریس کا ترجمہ، پھر بلاگنگ کی شروعات۔ اس کے بعد ورڈپریس پر بلاگنگ۔ فری ہوسٹس کے چکر۔ پھر لینکس کا بھوت سوا ہوا۔ لینکس چلائی، اڑائی پھر چلائی پھر اڑائی، کبھی اوپن آفس کی لغت بنائی۔ ان دوسالوں نے مجھے بدل دیا۔ میں جو ایک بی “کامی” کمین تھا میرا دن میں آدھے سے زیادہ وقت اس موئے نیٹ پر گزرنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ میرا بی کام کے بعد ایم کام میں ایڈمیشن نہ ہوسکا اور اگلے چھ ماہ میں نے ٹیوشنز پڑھا کر اور انٹرنیٹ گردی میں گزارے۔ پھر ۔۔۔پھر یہ ہوا کہ مجھے دو فرشتے مل گئے۔ یہ میرے اساتذہ تھے سر عاصم اور سر راشد۔۔۔پی ایچ ڈی کی ریسرچ کررہے تھے اور موضوع تھا پاکستانی انگلش۔۔۔انھیں ایک بندہ چاہیے تھا جو ڈیٹا کی پروسیسنگ کا کام کرسکے۔ میں ویلا تھا سو میں نے حامی بھر لی۔ کہتے ہیں جی جو قسمت میں ہو مل ہی جاتا ہے جانا کدھر تھا اور آکدھر گیا۔ انھوں نے اوپن آفس کے لیے اردو ورڈ لسٹ کی شمولیت کے بارے میں جانا اور جب یہ پتا چلا کہ اس کی تیاری میں کچھ کوشش میری بھی شامل ہے تو مجھے لسانیات کی طرف آنے کا مشورہ دے دیا۔ اور میں تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔ گھر مشورہ کیا دو ایک دن سوچا اور اللہ تیری یاری فیس جمع کروا دی۔ ایسا نہ ہوتا تو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہا ہوتا۔
اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دنیا کتھے وسدی ہے۔ ان کا شعبہ کارپس لسانیات تھا۔ انھوں نے تجزیے وغیرہ کے لیے کوئی بیس لاکھ الفاظ پاکستانی انگریزی کے اکٹھے کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی انگریزی کو بطور ایک ورائٹی تسلیم کروایا جائے۔ کارپس لنگوئسٹکس اور کمپیوٹیشنل لنگوئسٹکس میں بس تھوڑا سا فرق ہے۔ کارپس والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں مختلف سافٹویر اور ٹول درکار ہوتے ہیں۔ ان سافٹویرز اور ٹولز کو بنانا ایک پروگرامر مع لنگوئسٹ کا کام ہے۔ یعنی جو ہر دو شعبوں میں مہارت رکھتا ہو۔ عمومًا ایسے لوگ بڑے “گوڑھے” پروگرامر ہوتے ہیں۔ ایپلی کیشن بنانا خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ اور وہ بھی جس میں بہت ہی خاص قسم کی پروسیسنگ اور معیار و نتائج درکار ہوتے ہیں۔
میرے اساتذہ اس معاملے میں بالکل کورے تھے۔ چناچہ جب پاکستانی انگریزی کو پروسیس کرنے کا مرحلہ آیا تو اول تو درکار سافٹویرز دستیاب ہی نہ تھے جو دستیاب تھے ان کے استعمال کا پتا نہ تھا۔ نیز پاکستانی انگریزی کی “گھنڈیاں” ان سے سلجھائی ہی نہ جاسکتی تھیں۔ ( آپ کے لیے شاید انگریزی انگریزی ہی ہو جیسے سارے چینی اور جاپانی اور کورین ایک جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہی ہر ملک کی انگریزی بس انگریزی ہے۔ لیکن اہل فن و علم جانتے ہیں کہ زبان میں کس کس لیول پر کس طرح کے تغیرات ہوسکتے ہیں اور ان کی بنیاد پر زبان کی مزید ذیلی اقسام کیسے بن جاتی ہیں۔ سادہ سی مثال وکلاء اور ججوں کی انگریزی ہے جو وہ فیصلوں میں لکھتے ہیں یا بائبل اور قرآن کے انگریزی تراجم جن کے الفاظ ہی عام مروج زبان سے مختلف اور بڑے روایتی قسم کے ہوتے ہیں) یہاں آکر مجھے پتا چلا کہ میں نے اگر لسانیات میں کچھ کرنا ہے تو مجھے پروگرامر بننا پڑے گا۔ کم از کم اتنا کہ لینکس میں بیٹھ کر دو چار سکرپٹس لکھ سکوں یا پہلے سے موجود پروگرامز میں کچھ تبدیلی کرسکوں جو میرے مقصد کے تحت کام آسکیں۔ شاید زندگی میں پہلی بار میں نے اس فیلڈ میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے۔ اور ساری کشتیاں جلا کر اس سپین میں داخل ہوا ہوں۔ اب میرے سامنے لسانیات کی وسیع و عریض دنیا ہے اور پیچھے مڑا تو شاید پتھر کا ہی ہوجاؤں۔ میرا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو زبان کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ گرامر پر کام کرنا ایک تو مجھے پسند ہے دوسرے اردو کی گرامر پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوسکا اگرچہ اس پر کچھ محققین مختلف جگہوں پر کام کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کرلپ لاہور میں بہت قابل قدر کام ہورہا ہے اور اگر زندگی رہی اور جذبہ بھی رہا تو ڈاکٹر سرمد حسین سے بھی ضرور رہنمائی لوں گا۔ ان سب مقاصد کو مدنظر رکھ کر میری منزل یہ ہے کہ لسانیات میں ایم ایس سی تو کرنا ہی ہے ساتھ کوئی پروگرامنگ کورس وغیرہ بھی کروں۔ ایک عرصے سے اس سلسلے میں متجسس تھا۔ کل رات بھی سر سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو پھر واپس آکر کافی دیر مونو اور ڈاٹ نیٹ کے بارے میں تحقیق کی۔
کمپیوٹنگ فورمز، اردو محفل پر جو وقت گزرا اس سے یہ پتا چلا کہ ڈاٹ نیٹ اس وقت آسان ترین لینگوئج ہے جس میں پروگرامنگ کی جاسکتی ہے۔ لینکس میرا شوق ہے اور ونڈوز میری مجبوری۔ چناچہ مونو کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ اس کی وجہ سے ونڈوز کی ایپلیکیشنز لینکس پر چلائی جاسکیں گی۔ اگرچہ ابھی پروگرامنگ کی دنیا میں میرے دودھ کے دانت بھی نہیں آئے اور مجھے پروگرامنگ کی الف بے کا بھی پتا نہیں سوائے وی بی سکس کے ان اسباق کے جو میں نے چھ سال پہلے میٹرک کرنے کے بعد کمپیوٹر پر اپنی ابتدائی کورس کے ساتھ دو تین ماہ ایویں مذاق ہی مذاق میں پڑھے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ بنیادی تصورات سیکھنے کے بعد مجھے ڈاٹ نیٹ کو ہی سیکھنا ہوگا اور اسی لیے میں نے مونو کے بارے میں رات تفصیلًا تحقیق کی۔ اور وہ تحقیق کیا تھی یہ اگلی کسی قسط میں ملاحظہ کیجیے۔ آپ کا شکریہ آپ نےاتنی دیر تک میری میں میں برداشت کی۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

آخر اردو میں ہی کیوں نہیں انگریزی بھی تو ہیں؟

November 30th, 2007بذریعہ

زکریا کا یہ اعتراض وزن دار ہے کہ پاکستانی بلاگز انگریزی میں‌ بھی تو ہیں تو پھر اردو میں کیوں نہیں؟
میں پہلی پوسٹ میں کچھ سنجیدہ مع رنجیدہ ہوگیا تھا جو کہ عمومًا پاکستانیوں کی عادت ہے۔ اب ذرا جذبات سے ہٹ کر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بات پھر میری ہی آجانی ہے کرلو گلاں خیر۔۔۔
میں پچھلے دو سال سے بلاگنگ کررہا ہوں۔ اور اردو میں کررہا ہوں نہ کہ انگریزی میں۔ میں نے جب بلاگنگ شروع کی تو مجھے اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا آج دوسال بعد بھی میں نیم حکیم ہوں۔ جس کے ہاتھ آیا تھیم یا تو اردو ہوجاتا ہے یا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے کوئی درمیانی راہ نہیں نکلتی۔ عرض یہ تھی کہ اردو بولنے والی کمیونٹی پاکستان میں‌کمی کمین گنی جاتی ہے۔ وہی حال انٹرنیٹ پر ہے۔ انگریزی بلاگرز زیادہ عقلمند، قابل اور پتا نہیں کیا کیا خوبیوں والے بندے ہیں۔ اردو بلاگرز میرے آپ جیسے تھکے ہوئے لوگ ہیں۔ جنھیں ایک تھیم بھی اردو کرنے کے لیے چار جگہ دھائی اور ات مچانی پڑتی ہے۔
دوسری چیز جو میری ناقص عقل کہتی ہے وہ ہے ریوارڈ یا انعام۔ پیسہ کہہ لیں۔ اردو بلاگنگ کرکے ہم کچھ بھی نہیں‌ کما سکتے۔ اگر ہم اردو بلاگنگ میں‌اپنا وقت دیتے ہیں۔ بالفرض میں اگر اوپن سورس کی خبریں‌ ہی انگریزی سے اردو ترجمہ کرکے پیش کرتا ہوں‌ تو ایک اوسط درجے لمبائی کی خبر کم از کم آدھا گھنٹہ لیتی ہے ترجمے کے لیے۔ اگر میں روز کوئی ایسی پوسٹ، کوئی ٹیوٹوریل پیش کرتا ہوں یعنی آدھا گھنٹا بلاگ کو دیتا ہوں تو مجھے کیا ملتا ہے؟ امب (پنجابی والا آم)۔ میں اپنی ہر پوسٹ کے نیچے گوگل ایڈسیسن کا کوڈ ڈال دیتا ہوں اور مزے کی بات ہے کہ اس ماہ کسی ایک بندے نے بھی اس پر کلک نہیں کیا۔ جبکہ یہیں محفل پر کل ایک صاحب سو ڈالر نصف جس کے پچاس ڈالر ہوتے ہیں کمانے کی بات کررہے تھے صرف چار ماہ میں۔ میں حریان ہوکر ان کی ویب سائٹ پر گیا تو فورم تھا انگریزی فورم اور وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
میرے سامنے تو میری اور اپنی زبان اردو کی اوقات آگئی ہے۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
جاتے جاتے ایک اور بات۔۔یونیکوڈ میں‌ ٹیوٹوریل لکھنے سے لوگ اب بھی گھبراتے ہیں کیوں؟ کوئی چرا نہ لے یہاں لوگ پورا تھیم اپنے نام کروا لیتے ہیں تو ایک پوسٹ یا ٹیوٹوریل کس کھیت کی مولی ہیں۔۔۔اب ایک تھکا ہوا بلاگر جو ایک تھکے ہوئے ملک کی ایک تھکی ہوئی زبان میں بلاگنگ کررہا ہے کیا کرے؟؟؟؟؟
کوئی جوب ہے آپ کے پاس؟
معذرت میں کچھ جذباتی ہوگیا حالانکہ نہ ہونے کا کہہ بھی چکا ہوں اوپر۔۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو میں بلاگنگ کیوں نہیں؟

November 30th, 2007بذریعہ

محب علوی نے اہم مسئلہ اٹھایا ہے کہ جب ساری دنیا میں لوگ بلاگنگ کو اتنا سنجیدگی سے لے رہے ہیں تب پاکستان میں لوگ اسے کھیڈ تماشا کیوں سمجھ رہے ہیں۔
میں آپ کو اپنی بات بتاتا ہوں۔ میں ایک مڈل کلاسیا ہوں۔ والد ناشتے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کا خرچہ مرچہ میں اپنے پلے سے پورا کرتا ہوں یا چھوٹے بھائی کی مہربانی کہ وہ کام کرتا ہے اور کیبل نیٹ کی فیس اکثر دے دیا کرتا ہے۔ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ساتھ اس لیے اکثر و بیشتر پایا جاتا ہوں کہ میرا سوشل سرکل بہت محدود ہے۔ خاندان میں‌ پچھلے دس سال سے کوئی شادی اٹینڈ نہیں کی میں نے۔ دوست وہ جو یونیورسٹی وغیرہ میں ہیں۔ محلے میں بس کسی کسی سے سلام دعا ہے۔ تو میں جب کچھ نہیں کرتا تو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنا خون جلاتا ہوں۔ سڑتا کڑھتا ہوں اور بلاگنگ کرتا ہوں۔
اگر میں ایسا کرتا ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں کرتے؟
اول تو کسی کو اس کا شعور ہی نہیں۔ لوگ انٹرنیٹ کے بارے میں جانتے ہیں بلاگنگ کے بارے میں نہیں۔ میرے چھوٹے بھائی کو پتا ہے کہ میں بلاگنگ بھی کرتا ہوں۔ لیکن وہ اسی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر آرکٹ کو وزٹ کرنا پسند کرتا ہے اور کسی بی بی سے چیٹ کرنا اسے زیادہ مرغوب ہے۔
جو لوگ اس وقت بلاگنگ کررہے ہیں ان میں سے بہت سے بیرون ممالک سے بلاگنگ کرتے ہیں۔ یا کم از کم پردیس پلٹ ہیں۔
پاکستان میں بلاگنگ کرنے والے یا تو فارغ و البال قسم کے احباب ہیں۔ یا پھر وہ معاشی طور پر خوشحال لوگ ہیں۔ میرے جیسے چند ایک ہی ہیں یا پھر وہ لوگ جن کا وقت زیادہ تر نوکری کے سلسلے میں کمپیوٹر پر گزرتا ہے۔
انٹرنیٹ پر وقت یہاں فحش ویب سائٹس دیکھنے اور اس کے بعد چینٹنگ کرنے اور آرکٹ جیسی ویب سائٹس کو دیکھنے میں گزرتا ہے۔
بلاگنگ کیا خاک ہوگی؟
ابھی پاکستانیوں کو کم از کم پانچ سال مزید چاہییں کہ انھیں ٹیکنالوجی کا صحیح اندازہ ہوسکے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

سوات: آخر بندوق ہی حل کیوں؟

November 25th, 2007بذریعہ

جب لال مسجد کے واقعے کے بعد سوات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی مجھے اسی وقت لگا تھا کہ اگلا وزیرستان سوات ہوگا۔ یہ بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے۔ آج سوات میں عام لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے۔ پاکستان کا سوئزرلینڈ کہلانے والی وادی اب اپنے رہائشیوں کے لیے جہنم بن گئی ہے۔ حملے، جوابی حملے، خودکش حملے ، فائرنگ، کوبرا اور جانے کون کونسے ہیلی کاپٹرز سے بمباری۔۔یہاں کے مکین اس دوہری آگ کی دیوار میں پس رہے ہیں۔
وہاں کے لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔ بارہ سو سے زیادہ سکول یا تو بے کار پڑے ہیں، یا مقامی طالبان انھیں عقوبت خانوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ آئے دن کے کرفیو نے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل کردیا ہے۔ جو تعلیمی ادارے کھلے بھی ہیں وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔
آخر ہماری سمجھ میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں؟ پاکستانی فوج کے سامنے ہمیشہ فتح کرنے کے لیے اپنا ملک ہی کیوں ہوتا ہے؟
ایک عرصے تک یہ بھیرویں الاپتے رہنے بعد کہ دہشت گردی کی تعریف متعین کی جائے اس کے اسباب کا بھی جائزہ لیا جائے آج ہماری فوجی حکومت اس طرف سے آنکھیں بند کیے بم برسا رہی ہے اور بدلے میں خودکش دھماکے وصول رہی ہے۔ اس کے بنیادی اسباب ہیں ہی کیا کہ اسلام نافذ کرر؟
تو کردو نا۔ اسلام نافذ کرنا کیا حاکموں کی ذمہ داری نہیں؟ ان سے مل بیٹھ کر مذاکرات کرکے اسلام کے ایک ورژن پر متفق ہوا جاسکتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ اسلام کو انتہائی غلط انداز میں لے رہے ہیں تو فوج کونسا صحیح انداز میں لے رہی ہے۔ ان کے مطالبات مانگے جائیں جوابی مطالبات پیش کئے جائیں کسی جگہ تو دونوں اطراف میں اتفاق ہوجائے گا یا نہیں؟
فوج کے خیال میں جواب نہیں ہے اس لیے وہ اپنے کوبرا ہیلی کاپٹر، توپیں اور بندوقیں وہاں آزما رہے ہیں۔ اگر کوئی مر بھی جاتا ہے تو پانچ ہزار ماہانہ والا سپاہی ہی ہے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کی بیوہ اور بچوں کو قوم کے سپرد کرکے یہ لوگ آرام سے ریٹائر منٹ کی زندگی گزاریں گے۔ رہے مزاحمت کار اور عام لوگ تو وہ تو ہیں ہی کیڑے مکوڑے۔اول الذکر کا تو ٹھکانہ ہی جہنم ہے موخرالذکر اگر مارا بھی گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
زندہ باد ایسی عقلمندیاں اور پھرتیاں۔
سوات والوں کو اپنی پڑی ہے اور لاہور والوں کو اپنی۔ ایک کو جان کا ڈر ہے دوسرے کو نواز شریف کی آمد کا۔ کراچی میں اپنے مسئلے ہیں اور فیصل آباد میں اپنے۔ کوئی مرتا ہے مرے جیتا ہے جئیے کسی کو کیا۔ جس پر گزرے کی نمٹ لے گا۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

ایمرجنسی کے بعد امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے: تو پھر یہ کیا ہے؟

November 24th, 2007بذریعہ

ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں میں ایمرجنسی کا دفاع کرتے ہوئے مارشل لاء حکومت کے وکیل نے یہ دلائل دئیے تھے کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے ایمرجنسی لگائی گئی۔ موصوف کا یہ دعوٰی بھی تھا کہ امن و امان کی صورت اب بالکل ٹھیک ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق راولپنڈی میں دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نشانہ واضح طور پر پاکستانی فوج سے متعلقہ افراد تھے۔
میرا خیال سے امن و امان کی صورت حال واقعی “بہتر” ہوئی ہے۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

امید

September 28th, 2007بذریعہ

چیف جسٹس معطل ہوئے تو پوری قوم کو جیسے 440 وولٹ کا کرنٹ لگ گیا۔ اس وقت تک سب چین سے نہیں بیٹھے جب تک چیف جسٹس بحال نہیں ہوگئے۔ چیف جسٹس بحال کیا ہوئے سب کی نظریں ان پر لگ گئیں جیسے اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ہماری یہ بڑی بری عادت ہے کہ اتنی جلدی امید لگا لیتے ہیں جیسے ابھی کوئی معجزہ ہوگا، جادو کی چھڑی گھومے گی، کوئی چھومنتر کہے گا اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

آج بی بی سی کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے صدر مشرف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے آئینی درخواستیں خارج کردی ہیں۔ اس قسم کے آثار ججوں کے تبصروں سے ہی دکھ رہے تھے۔ جانے اس خبر سے کتنوں کو دھچکا لگے گا۔ جانے کتنے بے ہوش ہونگے، چاہے کسی کا دم ہی نکل جائے۔ اور کتنے غصے میں آکر سپریم کورٹ کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پورے جسم پر سڑے ہوئے زخم ہوں تو ان کا علاج کیا ایک دن میں ہوجاتا ہے؟ نہیں ہوتا۔ یہی حال ہمارا ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کیفیت کوڑھ کے مریض جیسی ہے۔ جو اس بات کا منتظر ہے کہ آسمان سے بارش ہوگی اور اپنے ساتھ اس کے کوڑھ زدہ زخموں کو بہا لے جائے گی۔

لیکن یہ اس کی بھول ہے۔ کوڑھ صدیوں کی کاشت ہوتی ہے۔اور اسے ٹھیک ہونے میں بھی اتنا ہی عرصہ چاہیے۔ پاکستانی قوم کا کوڑھ عشروں کی کاشت ہے۔ یہ اتنی جلدی نہیں جانے والا۔

جن کی امیدیں ٹوٹیں مجھے بڑا افسوس ہے۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہی حال باقی امیدوں کا بھی ہوگا۔ پرویز مشرف پھر سے صدر منتخب ہوجائے گا۔ حزب اختلاف کے استعفے بے کار جائیں گے۔ یہ لوگ عوام کو اس ایشو پر بھی سڑکوں پر لانے میں ناکام رہیں گے۔ کاروبار زندگی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ گدھے کام کرتے رہیں گے ۔ ان کے رکھوالے موج کرتے رہیں گے۔ بس ہوگا یہ کہ گدھوں پر بوجھ کچھ مزید بڑھ جائے گا۔ کچھ مہنگائی ہوجائے گی۔ کچھ ٹیکس اور لگ جائیں گے۔ یہ جو غبارے میں پریشر بڑھا ہوا تھا۔ بڑے پیار سے آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔

ہاں ایک راستہ ہے۔ جیسے ایران میں ہوا تھا۔ ایک خونی انقلاب، جو شاید اس قوم کی تقدیر کو بدل دے ۔ لیکن انقلاب بہت کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی، سہاگنوں کے تاج اور بچوں کے والی۔ اگر انقلاب نہیں تو پھر نشتر بہت احتیاط سے چلانا ہوگا۔ تاکہ صحت یابی بھی ہو اور خون بھی کم نکلے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی، محفل پر کچھ گفتگو ہورہی ہے۔ بس یونہی ہمیں لگا شاید ہم کچھ کرسکتے ہیں۔ آپ کا خیال اگر ہم سے ملتا ہے، کہ ہم میں دم ہے ابھی، کچھ کرسکتے ہیں۔ تو آئیے شاید ہم سچ میں ہی کچھ کرسکیں۔

وسلام

 

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

جگاڑ

September 18th, 2007بذریعہ

کراچی والے دوست تکے لگانے کو شاید جگاڑ لگانا بولتے ہیں۔ صاحبو آج ہم نے بھی ایک جگاڑ لگائی ہے۔ اس جگاڑ کو آپ ہمارے بلاگ کے سائیڈ بار میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

یہ گوگل تلاش ہے جس میں ہم نے اوپن پیڈ گھسیڑ دیا ہے۔ اب گوگل بیبے بچوں کی طرح اردو یونیکوڈ میں تلاش کرے گا۔

یہ سب ہوا کیسے؟ کافی پرانا قصہ ہے۔ایک بار جب قدیر نے گوگل کسٹم سرچ پیج بنایا تھا جس میں صرف اردو کے صفحات تلاشے جاسکتے تھے میں نے اسے یہ آئیڈیا دیا تھا کہ گوگل کی اصلی تے وڈی والی تلاش میں ویب پیڈ (اب اوپن پیڈ) شامل کیا جانا چاہیے۔ قدیر نے تو یہ کام نہیں کیا لیکن میں آج ایویں یہ سب کر بیٹھا۔

کرنا کچھ تھا کر کچھ لیا۔ اپنا گوگل ایڈ سینس کھولا تو مبلغ چار ڈالر کی آمدن دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ سوچا بلاگ کو مزید "گوگلا" لوں۔ چناچہ اوپر اور دائیں اشتہارات موجود ہونے کے باوجود گوگل تلاش کا ایک اور آپشن ڈال دیا کہ مرغا کہیں تو پھنسے گا

مرغا کیا پھنستا ہم ایک بار پھر اردو کے چکر میں پھنس گئے۔ اپنے بلاگ کے تلاش خانے کو نیچے کیا اور اس کو اوپر کرکے اس میں ویب پیڈ کا کوڈ ڈالا۔ تھوڑی سی لیپا پوتی کی دو تین لیبل اردو کیے اور اب گوگل بیبا پاکستانی بچہ ہے۔ اگرچہ اس کی زبان انگریزی ہے لیکن کام یہ اردو والوں کے لیے کرے گا۔ غرض تھی کہ صارف اس سے تلاشے گا اور کہیں نہ کہیں کسی سپانسرڈ لنک پر جاپھنسے گا لیکن اب اردو ہوگیا تو کہاں کے لنک۔۔اردو میں تو سپانسرڈ لنک ہی نہیں۔ چلو خیر ہمیں یہ خوشی ہے کہ گوگل بغیر اردو سپورٹ کے اردو تلاش کردے گا۔

آپ بھی اپنے بلاگ میں اردو گوگل کو ڈال لیں۔ طریقہ بڑا سادہ سا ہے۔ گوگل ایڈسینس میں جائیں اپنے لیے ایڈسینس برائے تلاش منتخب کریں۔ پسند کے مطابق کوڈ سیٹ کرنے کے بعد اپنے بلاگ کے مطلوبہ حصے میں ڈال دیں۔

اس کے بعد اس کوڈ کا معائنہ کریں تو آپ کو یہ حصہ نظر آئے گا۔

<input type="text" name="q" size="31" maxlength="255" value="" id="sbi"></input>
بس اس کے نیچے اوپن پیڈ کو کال کرنے وال کوڈ ڈال دیں۔

<script language="javascript" type="text/javascript">makeUrduEditor("q", 16)</script>

یہاں یہ فرض کیا گیا ہے کہ اوپن پیڈ آپ کے تھیم میں پہلے سے شامل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو اس کو پہلے اپنے تھیم کی ڈائرکٹری میں کاپی کریں اس کے بعد ہیڈر ڈاٹ پی ایچ پی فائل میں جاکر

</header>

کے ٹیگ سے فورًا اوپر یہ کوڈ ڈال دیں۔

<script type="text/javascript" src="<?php bloginfo('stylesheet_directory'); ?>/urdu-open-pad.js"></script>
<script type="text/javascript">
initUrduEditor();
</script>

ایک اور اللہ لوک سا کوڈ یہ ہے جو ویب پیڈ شدہ خانے میں زبان کو بدل سکتا ہے۔ یہی کام آپ کنٹرول سپیس سے بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارے لینکس پر چونکہ سسٹم میں زبان بدلنے کا شارٹ کٹ بھی یہی ہے اس لیے زبان اردو پر اردو ہوجاتی ہے بجائے کہ انگریزی ہو۔ چناچہ ہمارے لیے تو یہ مجبوری ہے اگرچہ کافی بھدا سا لگ رہا ہے یہ۔ لیکن آپ اپنی مرضی کے مطابق اس کوڈ کو بھی ڈال سکتے ہیں۔ ورنہ کنٹرول جمع سپیس سے زبان بدلنے کا شارٹ کٹ ایک جملے میں بتا دیں۔

 English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick='setEnglish("q")'><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick='setUrdu("q")'

یہی کام پی ایچ پی بی بی فورمز اور اردو ویب سائٹس کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایڈسینس کے ساتھ ساتھ گوگل پر اردو تلاش کو بھی فروغ ملے گا۔ شاید گوگل کو اس طرح اردو والوں پر کچھ رحم آجائے اور زیادہ استفسارات ملنے کی صورت میں اردو صفحات کی قدر بھی بڑھ جائے۔

وسلام

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

اردو مارفالوجی ایپلیکیشن

August 28th, 2007بذریعہ
آپ احباب انٹرنیٹ میری گفتگو سے یہ تو جان گئے ہونگے کہ میں نے بی کام کے بعد لسانیات میں ٹانگ اڑا لی ہے۔ یہ لمبی کہانی ہے بس یہ سمجھ لیں کہ کچھ راہنما مل گئے جنھوں نے مجھے پکڑ کر گھما ڈالا۔ کہنے کو تو میں انگلش لینگوئج ٹیچنگ میں ڈپلومہ کررہا ہوں جو اگلے سال ایم ایس سی میں بدل جائے گا (یعنی ایک سال کی ایم  ایس سی) لیکن انگریزی تو زبردستی ساتھ لگ گئی ہے۔ سمجھ لیں روزی روٹی کا معاملہ ہے ورنہ اپنی دلچسپی تو ازل سے اردو میں ہے۔ سوچا لسانیات میں رہ کر اردو کے لیے کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اردو کی صوتیات (فونولوجی) پر فاسٹ لاہور میں بہت اچھا کام ہورہا ہے لیکن اس کے مشینی تجزیے کے سلسلے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوسکا۔ مشینی تجزیے سے مراد ہے کہ سافٹویر بنائے جائیں جو عبارت یعنی ٹیکسٹ کا تجزیہ کریں۔ اس کے ہر ہر لفظ کی گرامر کے لحاظ سے زمرہ بندی کریں۔ پھر اس بل پر شماریاتی فارمولے لگا کر زبان کے ٹرینڈز بتائے جائیں۔ میرا علم اس سلسلے میں ابھی محدود ہے۔ تاہم آپ مزید جاننا چاہیں تو Computational Linguistics  اور Corpus Linguistics کے نام سے وکی پیڈیا اور گوگل پر تلاش کرکے جان سکتے ہیں۔
میرے اساتذہ پاکستانی انگلش کے کارپس پر کام کررہے ہیں۔ جو کہ پاکستان میں کسی بھی زبان پر پہلا کارپس بیسڈ کام ہے۔ انھیں انگریزی پر کام کرنے کے لیے سافٹویرز کے حصول میں اچھی بھلی دشواریاں پیش آئیں تو مجھے اردو کے لیے کیا مل سکتا تھا بھلا۔ لیکن اتنا اندھیر بھی نہیں مچا۔ کہتے ہیں ڈھونڈنے والے کو خدا بھی مل جاتا ہے۔ چناچہ مجھے بھی پہلے سن گن ملی کہ جرمنی میں ایک پاکستانی صاحبہ ایک یوینورسٹی میں اردو گرامر پر کام کررہی ہیں۔اور اب ایک دن ایویں سرچ کرتے ہوئے میرے ہاتھ ایک پی ڈی ایف لگا جس میں سے ایک پاکستانی محمد ہمایوں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اب سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس کی خصوصیات آپ کو کیا بتاؤں مجھے تو خزانہ مل گیا ہے۔ ایک تو اوپن سورس اطلاقیہ دوسرے یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹیکسٹ یونیکوڈ میں دیں اور ماحصل بھی یونیکوڈ میں۔ البتہ ٹیگز  انگریزی میں ہوتے ہیں۔ ان کو اردو میں شائع کروانے کے لیے ہم ترجمہ کروا لیں گے۔
ہمایوں بھائی نے میری بہت مدد کی۔ میں نے تو ایسے ہی ای میل کردی تھی کہ شاید جواب آئے شاید نہیں۔ لیکن انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر مجھے ہر ممکن تفصیل بتائی تاکہ میں سورس کوڈ کو کمپائل کرسکوں۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس لینکس بھی ہے تو انھوں نے مجھے لینکس میں کمپائلیشن کی کمانڈز تک لکھ بھیجیں (اب یہ تو آپ اورمیں جانتے ہیں کہ اس طرح کے کام مجھے لینکس پر کرتے ہوئے عرصہ ہوچلا ہے)۔ خیر ان کی اس مدد کے بعد آج میں نے یہ ایپلی کیشن کمپائل کرکے چلالی۔ اپنے بلاگ کی ایک عدد پوسٹ کا اس سے تجزیہ بھی کروایا۔ جس کا ماحصل اس پوسٹ کے آخر میں ایک زپ فائل میں موجود ہےاور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سافٹویر کافی اچھا کام کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ڈیٹا بیس چھوٹی ہے۔ کچھ الفاظ جیسے اسماء کو ابھی شناخت نہیں کرپاتا لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس پر مزید کام کروں۔ اگرچہ میں پروگرامر نہیں ہوں۔ لیکن جاوا اور ہسکیل (شاید یہی لنگوئج ہے ) جس میں یہ لکھا گیا کے لیے اپنے اردو محفل کے احباب اور اس پروگرام کے خالق ہمایوں بھائی کو ضرور تنگ کروں گا۔
میرا پکا ارادہ بن گیا ہے کہ اسی سافٹویر کو استعمال کرکے اگلے سال اپنا ایم ایس سی کا تھیسس اردو مافولوجی پر لکھوں۔ ارے یہ تو میں بھول ہی گیا کہ مارفولوجی کا بتا دوں۔ مارفولوجی اصل میں لسانیات کی وہ شاخ ہے جو الفاظ کی تشکیل میں استعمال ہونے والے عوامل کو دیکھتی ہے۔ جیسے کرنا سے کیا، کیے ، کرتے، کرتا، کرتی ،کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہی گردانیں جو کبھی مڈل میں ہم رٹے لگایا کرتے تھے۔ لیکن یہ صرف فعل کے ساتھ نہیں واحد سے جمع میں تبدیلی وغیرہ اور اسم مشتق وغیرہ جن سے کئی الفاظ بنتے ہیں، دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا لینا وغیرہ وغیرہ سب اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ یہ ہمیں کسی زبان کی اہلیت کے بارے میں بتاتی ہے کہ اس میں الفاظ کس کس طرح سے بنتے ہیں۔ جو دوست محفل پر آج کل اوپن آفس کے لیے اردو پڑتال کار فہرست پر کام کررہے ہیں وہ مارفولوجی کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ بنیادی شکل یعنی کرنا اور پھر اس سے ثانوی اشکال کیا، کیا تھا، کرتا، کرتا تھا، کیے ، کیے تھے، کرنا تھا، کرتی، کرتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ کو مارفولوجی کی سمجھ نہ آئے تو وکی پیڈیا کو زحمت دے لیجیے وہاں پر پورا آرٹیکل موجود ہے اس بارے میں۔
اور آخرمیں اردو مارفولوجی ایپلیشکن کا ہوم پیج
اور یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے روابط میں اردو ویب کا ربط بھی شامل ہے۔ اس کی موجودہ اردو الفاظ کی ڈیٹا بیس (سکرین شاٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ) اردو محفل ، اردو لائبریری اور اردو سیارہ کے بلاگز سے ٹیکسٹ لے کراس کا تجزیہ کرکے بنائی گئی ہے۔
میرے بلاگ کی ایک پوسٹ کا اردو تجزیہ اور میرے علم کے مطابق اس میں بہتری کی گنجائشیں۔
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

محفوظاتِ تحاریر

صوبائی اور علاقائی خودمختاری کے دیرینہ مطالبات اور حکومت

June 22nd, 2007بذریعہ

عرصہ دراز سے ملک کے مختلف حصوں سے خودمختاری دینے کے مطالبات آرہے ہیں لیکن ہر حکومت نے اس کو پس پشت ڈالا ہے۔ اب معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ چھوٹے صوبے اور آئینی حقوق سے محروم یہ علاقے سراپا احتجاج بن چکے ہیں اور اسلام آباد کو نفرت کے نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔

« تحریر کا بقیہ پڑھیں

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

« پچھلی تحاریر